ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 22 / اپریل / 2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل رات ایران کے خلاف جنگ بندی میں توسیع کے چند گھنٹے بعد ہی مذاکرات کے لیے نئی ٹائم لائن دینی شروع کردی ہے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت آئیندہ 36 سے 72 گھنٹے کے اندر ممکن ہے۔ گزشتہ رات انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے ایران کو امن معاہدے کے لیے تجاویز تیار کرنے کا وقت دینے کا اعلان کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر اس بیان میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھاکہ ایران کی حکومت اندرونی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں ہے۔ اس لیے جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔ صدر نے کہا کہ امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں مکمل طور پر تیار رہا جائے۔ اس دوران امریکی وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ ایران سے ہر قسم کی تجارت کنٹرول کی جائے گی اور کوئی سامان ایرانی بندرگاہوں سے جانے یالانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ ناکہ بندی کو مؤثر کرنے کا اشارہ ہے۔
دوسری طرف ایرانی حکام ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کو بے مقصد قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اس اعلان سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ایران کسی خلاف ورزی کی صورت میں طے شدہ اہداف کو نشانہ بنائے گا۔ آج ہی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کے مشیر نے کہا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ہارنے والا فریق شرائط کا حکم نہیں دے سکتا ۔ ناکہ بندی کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں اور اس کا جواب فوجی ردعمل کے ساتھ ہونا چاہیے‘۔
تہران میں جاری اقتدار و اختیار کی رسہ کشی کی صورت حال میں یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ایران کب تک امریکہ کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت سے معاملہ طے کرے گا البتہ صدر ٹرمپ کے بیانات سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ بات چیت سے معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ شاید اسی لیے اب انہوں نے جمعہ تک مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم وہ چاہتے ہیں کہ جلد ہی کوئی ڈیل ہوجائے تاکہ وہ اس تنازعہ سے نکل کر امریکہ کے مڈٹرم انتخابات پر توجہ مبذول کرسکیں۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اب شاید ایران پر باقاعدہ حملوں کا آغاز نہ کرے۔ اس کی بجائے آبنائے ہرمز کے بلاکیڈ کے ذریعے ایران کے گرد معاشی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ اب امریکی حکمت عملی یہی دکھائی دیتی ہے کہ بم برسانے کی بجائے ایرانی حکام کو معاشی طور سے لاچار کرکے کسی معاہدہ کی درخواست پر مجبور کیا جائے۔
ایک بیان میں وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے نئی امریکی حکمت عملی واضح کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ ایران کے خارگ جزیرے پر واقع تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات مکمل طور پر بھر جائیں گی اور ایران کو نہ چاہتے ہوئے بھی تیل کے کنویں بند کرنا پڑیں گے۔ ایران کی سمندری تجارت کو محدود کرنا براہِ راست ایرانی حکومت کی آمدنی کے بنیادی ذرائع کو نشانہ بنانا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’امریکی وزارت خزانہ معاشی دباؤ کے ذریعے تہران کے مالی وسائل پیدا کرنے، منتقل کرنے اور واپس لانے کی صلاحیت کو منظم انداز میں کمزور کرتی رہے گی‘۔ بحری ناکہ بندی جاری رہنے کی صورت میں ایران کی آمدنی کے ذرائع محدود ہوں گے اور وہ تیل برآمد کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجائے گا۔ اس صورت میں اگر اسے تیل کے کنویں بند کرنا پڑے تو انہیں دوبارہ کھولنا مہنگا اور صبر آزما کام ہوگا۔ اس طرح ایران طویل عرصہ تک معاشی دباؤ کا شکار رہے گا۔ اس امریکی حکمت عملی میں ایک ہی قباحت دکھائی دیتی ہے کہ صدر ٹرمپ متلون مزاجی کی وجہ سے وہ جلدی میں فیصلے تبدیل کرنے کے عادی ہیں۔ جبکہ بحری ناکہ بندی کے نتیجہ میں ایرانی حکام کو دباؤ محسوس کرنے میں چند ہفتے یا چند ماہ ضرور صرف ہوسکتے ہیں۔ اور انہیں مکمل طور سے مجبور و لاچار بنانے میں کہیں زیادہ وقت بھی درکار ہوگا۔ اس دوران امریکہ میں مہنگائی کی وجہ سے سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیا ٹرمپ اتنا صبر کرسکیں گے۔ دوسری طرف بلاکیڈ کا دباؤ آنے کے بعد اگر ایران نے مذاکرات کے ذریعے امریکہ کے ساتھ ڈیل کی کوشش کی تو شاید امریکہ کسی بات چیت سے انکار کردے اور امن کے لیے اس کی شرائط زیادہ کڑی ہوجائیں۔
ان حالات میں تہران میں عجلت اور پریشانی کا مظاہرہ ہونا چاہئے لیکن ایرانی لیڈر ناکہ بندی کو جنگی خلاف ورزی قرار دے کر خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالانکہ پوری دنیا آبنائے ہرمز کی بندش کو عالمی معاشی نظام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس ایرانی اقدام کے خلاف ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران مذاکرات کے ذریعے اس مشکل سے نجات کا باقاعدہ اور براہ راست طریقہ اختیار کرنے سے گریز کررہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تو قیادت کا باہمی اختلاف اور شدید بحران میں بروقت مناسب فیصلے کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہی ہے۔ ا
مریکی ناکہ بندی ایران کے خلاف جاری جنگ کا ایک دیرپا اور مؤثر ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کا دباؤ ایران کو بہت کچھ ماننے پت مجبور کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران مذاکرات شروع کرنے کے لیے ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط عائد کررہا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ پہلے ڈیل کریں پھرناکہ بندی ختم ہوگی۔ بلاکیڈ کے بعد سے جنگ کا پانسہ ایران کی بجایے امریکہ کے حق میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے نکلنے کے لیے ایران جتنے بھی ہاتھ پاؤں مارے، اسے مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں مل سکتا۔ گزشتہ رات ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے پیغام پر غور کیا جائے تو امریکہ ، ایران سے بعض ٹھوس نکات پر اتفاق رائے کا مطالبہ کررہا ہے۔ ان میں بعض ایسے نکات بھی ہوسکتے ہیں جو ایران کی بیان کردہ پوزیشن کے برعکس ہوں۔
دو روز پہلے اسلام آباد میں متوقع مذاکرات میں شرکت سے انکارنے ایران کی پوزیشن کمزور کی ہے۔ اب ٹرمپ جن نکات پت ایران کی تحریری رضامندی چاہتے ہیں، دو روز پہلے ان کا نائب صدر ایرانی وفد سے مل کر ان پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر تیار تھا۔ ایران نے خود کو ایک ایسے کونے میں محصور کرلیا ہے جس سے باہر نکلنے کے لیے اسے مدبرانہ مہارت اور سیاسی حوصلہ مندی کی ضرورت ہوگی۔ ایرانی لیڈر فی الوقت اس رویہ کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہیں۔