پاکستان نے اسرائیل کو پیغام پہنچا دیا

اسرائیل امریکہ کے لئے وہی ہے جو حماس، ایران کے لئے ہے۔ دونوں اپنے حامیوں کے مسائل حل نہیں کرتے، پیدا کرتے اور بڑھاتے ہیں۔ بظاہر یہ اچھی سٹریٹجی ہے کہ اپنی سرزمین سے دور کوئی تیرے دشمنوں سے تیرے لئے نبرد آزما ہو لیکن جب کبھی یہ سٹریٹجی بیک فائر کر دیتی ہے تو پالنے والے کو بہت نقصان پہنچا دیتی ہے۔

اس لیے آج امریکہ کے سپر پاور ہونے کا بھرم اور ایران کی پوری ریاست، داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اب لوگوں کو یاد ہوگا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع صحرائے نیگیو (النقب) میں کبوتز رئیم میں، کھلے آسمان تلے، سپر نووا کے نام سے جاری، موسیقی فیسٹول پر حملہ کیا تھا، جس کا مقصد چند مسلمان ممالک کو ابراہام اکارڈ میں شامل ہونے سے روکنا تھا۔ جو نتیجتاً غزہ کے ہنستے بستے علاقے کی بربادی سے ہوتا ہوا ایران کے جلتے ہوئے دامن تک پہنچ گیا۔ اب امریکہ اس لڑائی کو ختم کرنا چاہے بھی، تو اسرائیل اس کو آخری موقع جان کر اس سے بھرپور مستفید ہونا چاہتا ہے۔ اس لیے ہر وہ ملک جو اس جنگ کو روکنا چاہے، اسرائیل کو اپنا دشمن نظر آتا ہے۔ ایران کے بچے کچھے جرنیلوں کی جو بھی خواہشات ہوں، پاکستان کی خواہش ہے کہ اسرائیل، پاکستان کے جنوب مغربی بارڈر پر آ کر نہ بیٹھ جائے۔ اس لئے وہ امریکہ اور ایران کو عقل سے کام لینے اور امن کو موقع دینے کا مشورہ اور راستہ دیتا ہے۔ اور امن کی خوش قسمتی یہ ہے،کہ وہ دونوں صرف پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کرتے ہیں کیونکہ پاکستان پارٹ آف دی سلوشن ہے، پارٹ آف دی پرابلم نہیں۔

ایرانی وفد کی پاکستان آمد کے دوران فیلڈ مارشل کی وردی میں موجودگی اور واپسی میں جنگی جہازوں کے بیچ، اس کی رخصتی اسرائیل کے لئے ایک واضح اور خاموش پیغام تھا۔ جب خواجہ آصف صلح کی بات چیت کے درمیان، اچانک ٹویٹ کرتے ہیں، جس میں وہ ’بلاوجہ‘ بنی اسحٰق کو ’جہنم میں جلنے کی خواہش‘ کا اظہار کرتے ہیں تو میرے سمیت بہت سارے لکھنے والے خواجہ آصف کو اڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوچنے لگتے ہیں کہ پتہ نہیں خواجہ آصف نے فیصل آباد کی کس دکان سے لسی پی کر ابنائے اسحٰق کے ایٹمی جہنم میں جلنے کی خواہش ظاہر کردی۔

ضیاالحق کا سبز قدم دور تھا۔ مشرقی بارڈر پر انڈیا کی فوجیں براس ٹیک کے نام سے جارحانہ فوجی مشقیں کر رہی تھیں جبکہ پاکستان، مغربی بارڈر پر افغانستان کے میدان میں، افغانوں کے ذریعے، سوویت یونین کو تھکا تھکا کر مجروح کرنے میں مصروف تھا۔ جس کی وجہ سے انڈیا کی طرف توجہ نہیں دے سکتا تھا۔ اور شاید وہی وقت تھا کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی کریٹیکل لائن عبور کرچکا تھا لیکن جس کی موجودگی کا وہ ہمیشہ منکر رہا۔ ایسے میں انڈیا نے سٹریٹجک موو کرتے ہوئے پاکستان کو انڈر پریشر لانا ضروری سمجھا تاکہ ایک طرف روس پر افغانستان میں پریشر کم ہو جائے اور دوسری طرف پاکستان کی وہ تیاریاں، جو وہ ایٹمی ہتھیاروں کی حصول کے لئے کر رہا تھا، ایکسپوز کر کے معلوم کرے،کہ آیا اس کے پاس مطلوبہ صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔ اس نے سوچا تھا کہ اگر اس نازک موڑ پر پاکستان مان لے کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں تو اس طرح نہ صرف یہ کہ امریکہ کے ساتھ، بیچ لڑائی میں، اس کے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔ بلکہ الٹا اس پر عالمی پابندیاں بھی لگ جائیں گی۔ اور پاکستان کے پاس مطلوبہ صلاحیت موجود نہ ہو تو حملہ کر کے اسے ہمیشہ کے لئے مذکورہ صلاحیت سے روک دے۔ جو براس ٹیک ایکسرسائز کا اصل مقصد تھا۔

کلدیپ نیرجو انڈیا کے بڑے صحافی تھے، اس دوران اپنے بیٹے کی شادی کی دعوت دینے کے لئے دی مسلم اخبار کے مدیر مشاہد حسین سید سے ملنے اسلام آباد آتے ہیں۔ مشاہد، کلدیپ نیر کو ڈاکٹر قدیر کے گھر لے جاتے ہیں تاکہ وہ انہیں بھی بیٹے کی شادی کی دعوت دے سکیں۔ ڈاکٹر قدیر کو وی وی آئی پی سیکورٹی حاصل تھی اور ان کے ملاقاتیوں کو آخری درجے کی کلیئرنس کی ضرورت ہوتی تھی۔ ان سے یوں اچانک یا بغیر کسی ہائر اتھارٹی کی اجازت کے کبھی بھی کوئی نہیں مل سکتا تھا۔ چہ جائیکہ ایک دشمن ملک کا صحافی، جس کی فوجیں پاکستان کی سرحد پر کھڑی جنگ کا بہانہ اور موقع تلاش کر رہی ہوں۔ ڈاکٹر قدیر سے کلدیپ نیر کی ملاقات میں ظاہر ہے، امیتابھ بچن کی نئی فلم پر تو بات نہیں ہو سکتی تھی۔ لامحالہ ڈاکٹر صاحب کے ”کام“ پر بات ہونی تھی۔ ملاقات میں ڈاکٹر صاحب نے کلدیپ نیر کو کھل کر بتا دیا کہ ہم نے ’وہ‘ بنا لیا ہے اور ’سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھے ہوئے ہیں‘ اور انڈیا کو بتا دو کہ پرامن بم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی‘ ۔

یہ پاکستان کی طرف سے سیدھی دھمکی پر مبنی، ایک شاندار پیغام تھا لیکن کلدیپ نیر نے اپنی کتاب ’بیونڈ دی لائنز‘ میں لکھا ہے کہ یہ انکشاف اس نے ڈاکٹر قدیر سے ”چالاکی“ سے کروایا تھا۔ جب اس نے ڈاکٹر قدیر کو بتایا کہ یہاں آنے سے پہلے وہ بھارت کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ہومی سیٹھنا سے ملا تھا، جنہوں نے اسے بتایا تھا کہ پاکستان کے پاس تو نہ وسائل ہیں اور نہ مہارت کہ وہ ایٹم بم بنا سکے۔ اس بات پر ڈاکٹر قدیر مشتعل ہو گئے اور غصے میں آ کر انہوں نے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا راز فاش کر دیا۔ کلدیپ نیر کو لگا کہ اس نے ڈاکٹر قدیر کو صحافتی خرانٹ پن سے گھیر کر معلومات نکالی ہیں۔ لیکن اصل میں پاکستان نے کلدیپ نیر کو استعمال کرتے ہوتے انڈیا کو اپنا پیغام پہنچا دیا تھا، جس کے بعد براس ٹیک ایکسرسائز ہوا میں تحلیل ہو گئی۔

جنوری 1987 میں کلدیپ نیر کے ذریعے اور فروری میں جنرل ضیا نے خود کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے انڈیا میں راجیو گاندھی کو جو پیغام دیا تھا، اس کا نچوڑ یہ تھا کہ اگر تم حملہ کرنے کی غلطی کرو گے تو پھر آخرت میں ملاقات ہو گی۔

خواجہ آصف کے اس مشہور اور متنازعہ ٹویٹ کے بعد جسے ”پریشر بڑھنے کے بعد“ ڈیلیٹ کر دیا گیا، 28 مارچ کو مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے پاکستان کا جو دو روزہ سرکاری دورہ کیا، وہ بعینہٖ کلدیپ نیر کے ڈاکٹر قدیر کے ساتھ ملاقات کی کاپی تھی۔ جس طرح ڈاکٹر قدیر کے ذریعے کلدیپ نیر کی زبانی انڈیا کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ پرامن بم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، اسی طرح، مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر کو پاکستان کے ”سپیشل پروٹیکشن یونٹ“ کا خصوصی دورہ کرایا گیا۔ جہاں پر ان کو ”مہلک ہتھیار“ کے علاوہ کئی ایک سپیشل اور جدید ترین ہتھیاروں کا درشن کرایا گیا، جس کے بارے میں کچھ ممالک کو شک ہے اور کچھ کو خدشہ۔

صدر ٹرمپ کہتا ہے ایران کو پاکستان سے بہتر کوئی نہیں جانتا، تو دوسری طرف دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کے مصر سے زیادہ کسی دوسرے مسلمان ملک کے ساتھ مضبوط دوستانہ تعلقات نہیں ہیں۔ پیغام پہنچ چکا ہو گا۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)