جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

امریکا ایران جنگ میں ابھی تک بہت سی باتیں واضح ہونے والی ہیں۔ جنگ میں جیت کون رہا ہے اور  پسپا کون ہو رہا ہے؟ آبنائے ہرمز پر قبضے کا دعویٰ کس کا سچا ہے؟ جنگ بندی کی تاریخ ختم ہونے پر جنگ شروع ہو گی یا ختم؟ مذاکرات ہو رہے ہیں یا نہیں؟ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان آئیں گے یا نہیں؟

مشکل میں ایران آگیا ہے یا امریکا؟ رجیم چینج ایران میں ہو گی یا امریکا میں؟ عوام واشنگٹن میں حکومت کا تختہ الٹیں گے یا تہران میں؟ ابھی ابہام بہت ہیں۔ ابھی دنیا کو بہت سے فیصلے درپیش ہیں۔ لیکن اس ابہام میں بہت سی چیزیں واضح ہو چکی ہیں۔ یہی اس جنگ کے اب تک کے نتائج ہیں۔ آنے والے دنوں میں کیا ہونا ہے، اس کا ہمیں علم نہیں مگر جو کچھ اب تک ہو چکا ہے اس کا نتیجہ نکالا جا سکتا ہے۔ اس حال سے مستقبل کے خد و خال وضع کیے جا سکتے ہیں۔

اس جنگ کی اب تک کی صورت حال سے یہ پہلا نتیجہ یقیناً مرتب کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان بدل نہیں رہا، پاکستان بدل چکا ہے۔ اب یہ وہ ملک نہیں رہا جس کے سری لنکا بننے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ اب یہ وہ ملک نہیں رہا جس کے دیوالیہ ہونے کی دشمن پیش گوئی کر رہے تھے۔ اب یہ ایک باوقار مستحکم ملک بن چکا ہے جو دنیا میں امن کی خاطر ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ اس کوشش کو سارا عالم سراہ رہا ہے۔ اب پاکستانی پاسپورٹ ہمارے لیے وجہ افتخار بن چکا ہے۔ اب دنیا ہم سے بدگمان نہیں بلکہ ہم پر بھروسہ کر رہی ہے۔ اس جنگ کے ماحول میں پاکستان نے وہ عزت کمائی جو دشمن ملک کبھی امن کے دور میں بھی نہ کما سکا۔

دوسرا نتیجہ بھی پاکستان کے حوالے سے جنگ سے چند دن پہلے مرتب ہو گیا۔ وہ یہ کہ پاکستان اب دہشتگردی کا شکار نہیں بلکہ دہشتگردوں کو شکار کر رہا ہے۔ ہم نے افغانستان کے حوالے سے برادر اسلامی ملک والی پالیسی تبدیل کی۔ خود کو ہارڈ اسٹیٹ میں ڈھالا۔ اب افغانستان کو صرف ایک پڑوسی سمجھا۔ اپنے ہاں دہشتگردی کرنے والوں کو گھر تک پہنچایا۔ اس پالیسی کے بعد امریکا اور ایران میں امن ہو نہ ہو، پاکستان اور افغانستان میں امن ہو گیا ہے۔

 تیسرا نتیجہ: پاکستان میں ہائبرڈ نظام پوری ثابت قدمی اور خوش اسلوبی سے چل رہا ہے۔ آپ اس نظام کو جو بھی کہیں لیکن اس میں عسکری اور سول قیادت شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ سفارت کاری کے محاذ پر بھی اس نظام نے مایوس نہیں کیا۔ اگر فیلڈ مارشل امریکا میں ہیں تو شہباز شریف سعودی عرب میں اور اسحاق ڈار چین میں۔ اس اعلیٰ سفارتی تکون نے اپنا لوہا دنیا بھر میں منوایا۔ نہ کسی نے کسی کا کریڈٹ چھینا نہ ایک پیج کے پھٹنے کا کوئی خدشہ پیدا ہوا۔ نہ دنیا نے اس پر اعتراض کیا نہ درون خانہ کوئی سازش ہوئی۔  بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی امیدیں روز بروز خاک میں مل رہی ہیں۔ اور ون پیج ہر روز پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

چوتھا نتیجہ: پاکستان کی ثالثی پر دنیا بھر میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔ ایران بھی ہمارے ترانے گا رہا ہے۔ امریکا  زمین آسمان کے قلابے ملا رہا ہے۔ چین کی جانب سے بھی تائید کی آواز آ رہی ہے اور سعودی عرب بھی رہنمائی کر رہا ہے۔ یہ منصب دنیا میں اس وقت صرف پاکستان کے پاس ہے۔ اور یہ اعزاز باعث تکریم ہے۔

پانچواں نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان مشکل میں ہو یا آسانی میں، اپنے دوستوں کو نہیں بھولتا۔ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے قصیدے پڑھ رہا ہے، یہ بہت آسان تھا کہ ہم بھی اس رو میں بہک جاتے، اپنے مخلصوں کو بھول جاتے۔ مگر پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔ اچھے حالات میں دوستوں کا ہاتھ تھامے رکھا۔ ہر موقع پر سعودی عرب سے رہنمائی حاصل کی اور چین کی دانش سے فائدہ اٹھایا۔ اس سے دوستوں میں اعتماد بڑھے گا اور مشکل وقت میں ہمارا ہی بھلا ہو گا۔

چھٹا نتیجہ یہ نکلا کہ اس جنگ نے مسلم امّہ کو متحد کر دیا۔ اسرائیلی منصوبہ یہ تھا کہ مسلم ممالک کو لڑوایا جائے۔ ایران نے سعودی عرب پر حملہ بھی کیا مگر سعودی عرب نے کمال تحمل اور بردباری سے کام لیا۔ جارحیت کے باوجود دانش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اگر سعودی عرب چاہتا تو ایران اور عرب اختلاف میں ساری امّہ نے سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا تھا، مگر سعودی عرب کو بھی امّہ کا اتحاد عزیز تھا۔ سعودی بردباری کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب ایرانی وزیر خارجہ سعودی وزیر خارجہ کو فون کرتے ہیں، بار بار کرتے ہیں۔ دونوں ممالک میں باہم رابطہ مسلم امّہ کے اتحاد اور مضبوطی کا مظہر ہے۔  یہ بہت بڑی اور مثبت  تبدیلی ہے۔

 ساتواں نتیجہ یہ نکلا کہ خلیجی ممالک کو اس بات کا شدت سے ادراک ہونے لگا کہ دفاع کے معاملے میں صرف امریکا پر انحصار کرنا سخت ناعاقبت اندیشی ہے۔ سعودی عرب نے جنگ سے بہت پہلے پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیا۔ یہ سعودی قیادت کی دانش مندی تھی۔ اب دیگر خلیجی ممالک کو شدت سے یہ احساس ہو رہا ہے کہ امریکا کو صرف اسرائیل کی خوشنودی مقصود ہے۔ اسی وجہ سے ان خلیجی ممالک کی نگاہیں اب اپنے دفاع کے لیے پاکستان کی جانب اٹھ رہی ہیں۔

آٹھواں نتیجہ یہ نکلا کہ سب کو پتہ چل گیا کہ امریکا طاقتور کی عزت کرتا ہے، کمزور اور بے بس کی نہیں۔ جب تک بھارت اپنے آپ کو خطے کا چوہدری کہتا رہا، امریکا کی ہمدردیاں بھارت کے ساتھ رہیں مگر ’بنیان مرصوص‘ میں بے مثال کامیابی کے بعد امریکی ایوانوں میں پاکستان کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ ہوا اور بھارت ایک بالکل غیر مؤثر اور غیر متعلق ریاست ہو گیا۔

اس جنگ کا نواں اور سب سے اہم نتیجہ یہ نکلا کہ دو متحارب ممالک کو  امن کی  تلقین ضرور کی جا سکتی ہے، ان سے امن کی توقع بھی لگائی جا سکتی ہے مگر ان ممالک کو امن پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

(بشکریہ: وی نیوز)