ایران امریکہ مذاکرات : برف ابھی پگھلی نہیں
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 24 / اپریل / 2026
ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کی اطلاع سامنے آنے کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اب تہران نے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کا قصد کرلیا ہے اور پاکستان میں باہمی مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگا۔ اس دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لویٹ نے تصدیق کی کہ بات چیت میں شرکت کے لیے صدر ٹرمپ نےخصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔، وہ ہفتہ کی صبح امریکہ سے روانہ ہوں گے۔
تاہم بعد میں تہران سے فراہم ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی تین ممالک پاکستان، عمان اور روس کے دورہ پر اسلام آباد پہنچے ہیں۔ جمعہ کی رات کو پہنچنے کے بعد وہ ہفتہ کی دوپہر تک اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران نے کسی بھی سطح پرامریکہ سے براہ راست بات چیت شروع کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا ۔البتہ عباس عراقچی شاید امریکی تجاویز پر ایران کا جواب پاکستان تک پہنچانے کے لیے یہاں آرہے ہیں۔ ان معلومات پر عمل ہونے کی صورت میں اور اگر ایرانی وفد اسلام آباد میں امریکیوں سے ملاقات کے لیے قیام نہیں کرتا تو ایک بار پھر شاید صدر ٹرمپ کو اپنے نمائیندوں کا سفر پاکستان مؤخر کرنا پڑے۔
تہران سے عباس عراقچی کے سفر کی اطلاع سے بظاہر مذاکرات کے ایک نئے دور اور کسی خوش خبری کی امید پیدا ہوئی تھی جو فی الوقت موہوم دکھائی دیتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ شاید پاکستان کے ساتھ مواصلت کے بعد روانہ ہوجائیں اور دیگر دوست ممالک سے بھی اس سلسلہ میں مشاورت کے لیے مسقط اور ماسکو جائیں۔ تاہم مذاکرات، امن معاہدے اور آبنائے ہرمز کے بارے میں عالمی سطح پر اتفاق رائے موجود ہے۔ روس اور عمان بھی اس بحری گزرگاہ کو کھولنے کے حامی ہیں۔ اس لیے اگر ایران ماضی کی روایت کے برعکس آبنائے ہرمز پر اپنے تسلط کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دوست ممالک کے پاس جارہے ہیں تو انہیں شاید زیادہ کامیابی نہ ملے۔
امریکہ نے ماضی کی طرح اس بار ایران کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ امریکی وفد روانہ کرنے کی خبر بھی صدر ٹرمپ نے خود عام کرنے کی بجائے اپنی ترجمان کے ذریعے یہ معلومات میڈیا تک پہنچائیں تاہم اس بارے میں کیرولین لویٹ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ ’ایرانیوں کا موقف براہِ راست سن سکیں۔ لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی وفد براہ راست بات چیت چاہتا ہے اور صدر ہمیشہ سفارت کاری کو ایک موقع دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ کو امید ہے کہ اس ملاقات سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی تاہم ’دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے‘۔ البتہ نائب صدر جے ڈی وینس ’سٹینڈ بائی‘ پر ہوں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو انہیں بھی اسلام آباد بھیجا جاسکتا ہے۔
تاہم عباس عراقچی کے دورہ کی تازہ تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران ابھی تک بات چیت پر آمادہ نہیں ہے بلکہ وہ براہ راست مذاکرات سے پہلے آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کا بلاکیڈ ختم کرنے پر اصرار کررہا ہے۔ شاید عباس عراقچی یہ شرط پوری ہونے کی صورت میں ایران کی طرف سے بعض دیگر حساس معاملات پر کچھ رعائتوں کی اطلاع دینے پاکستان آرہے ہوں ۔ تاہم عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کے بارے میں جوغیر یقینی صورت حال پیدا کی گئی ہے، اسے امریکہ اپنی توہین پر بھی محمول کرسکتا ہے۔ اس دوران امریکی وزیر دفاع دفاع پیٹ ہیگسِتھ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ ’ایک اچھا اور دانشمندانہ معاہدہ کرلے‘۔ امریکہ کے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں۔ اور وہ کسی معاہدے کے لیے بے چین نہیں ۔انہوں نے کہا ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحریہ کی ناکہ بندی امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ کے مطابق ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ ’ایک اچھا اور دانشمندانہ معاہدہ کرے‘۔ امریکہ کے پاس ’وقت کی کوئی کمی نہیں‘۔ اور وہ کسی معاہدے کے لیے بے چین نہیں ہے۔انہوں نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحریہ کی بندی ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو اختیار دیا ہے کہ اگر کوئی ایرانی تیز رفتار کشتیاں سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے یا آبنائے ہرمز میں آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں تو انہیں تباہ کر دیا جائے۔
ان بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعہ کی بنیاد بننے والے قضیہ کا کوئی پیشگی حل دریافت نہیں ہوسکا۔ امریکہ ، ایران کے ساتھ کسی ڈیل سے پہلے ناکہ بندی ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا حالانکہ پاکستانی حکام نے گزشتہ چند روز کے دوران صدر ٹرمپ کو اس طرف مائل کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ دوسری طرف ایران کہتا ہے کہ جب تک ایران کا بلاکیڈ ختم نہیں ہوگا، وہ آبنائے ہرمز کو نہیں کھلنے دے گا۔ اس طرح مضحکہ خیز انداز میں ایک ایسا معاملہ اس تنازعہ میں سب سے مشکل مسئلہ بن چکا ہے جس کا ایران پر امریکی حملے سے پہلے وجود ہی نہیں تھا۔ ایران نے کبھی آبنائے ہرمز بند کرنے یا وہاں سے کسی بحری جہاز کے گزرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ۔تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے دو ایسے کام کیے جن کا پہلے سے اندازہ نہیں کیا گیا تھا۔ ایک آبنائے ہرمز کو بند کرنا ۔دوسرے عرب ممالک کو امریکی اڈوں کی وجہ سے نشانہ بنانا۔ اسی ایرانی جنگی حکمت عملی کی وجہ سے اب آبنائے ہرمز کی محفوظ سفر کی عالمی حیثیت مشکوک ہوگئی ہے۔
اگرچہ دونوں ملک آبنائے ہرمز کھولنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا بیک وقت اعلان کرکے بات چیت کے امکانات روشن کرسکتے ہیں لیکن فی الوقت کسی فریق کی طرف سے بھی اس بارے میں کوئی لچک دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس تنازعہ کی بنیاد بننے والے باقی معاملات اس وقت ثانوی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ جو معاملہ سرے سے وجہ نزاع تھا ہی نہیں، اسے امن معاہدے کی راہ میں کیوں سب سے بڑی رکاوٹ بنا لیا گیا ہے۔ کیا دونوں ملک اس مشکل اور ناپسندیدہ جنگ میں اپنے حقیقی مؤقف پر غیر مقبول رعائتیں دینے کے لیے اس معاملہ کو غیر ضروری طور سے اچھال رہے ہیں یا یہ معاملہ اب دونوں ملکوں کی انا اور خود داری یا ضد کا سوال بن چکا ہے۔ وجہ کوئی بھی ہو لیکن ایک نان ایشو کو سنگین مسئلہ بناکر ایران اور امریکہ دنیا بھر کی معیشت کے لیے سنگین خطرات کی وجہ بن رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی حیثیت کے علاوہ ایران کی جوہری صلاحیت، افزودہ یورینیم کے مستقبل ، بلاسٹک میزائل صلاحیت اور حزب اللہ جیسے پراکسی گروہوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کے معاملات ، دونوں ملکوں کے درمیان حل طلب امور ہیں۔ امریکہ اس سلسلہ میں اپنی تجاویز پیش کرچکا ہے۔ چند روز پہلے جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کو اپنی تجاویز تیار کرنے کے لیے وقت دے رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ عباس عراقچی اسلام آباد دورے کے دوران اس بارے میں ایرانی پوزیشن واضح کریں۔
سامنے آنے والی خبروں کے مطابق اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا البتہ کسی بھی قسم کی جوہری صلاحیت پر مکمل پابندی کے بارے میں مدت پر اختلاف تھا۔ امریکہ یہ مدت بیس سال مقرر کرنا چااہتا ہے جبکہ ایران نے پانچ سال پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ قیاس ہے کہ فریقین دس سال پر متفق ہوجائیں گے۔ اسی طرح امریکہ ایران کا 440 کلو ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم ملک سے باہرنکالنا چاہتا ہے جبکہ ایران اس کا مخالف ہے۔ البتہ اسے ایران میں ہی عالمی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں ڈاؤن گریڈ کرنے پر یہ تنازعہ حل ہوسکتا ہے۔ ایران نے اپنے میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کی قدغن قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ امریکہ و اسرائیل کے تازہ حملہ کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ ایران کے پاس اس کی میزائل صلاحیت ہی مؤثر دفاع کا واحد طریقہ ہے۔ اس معاملہ پر شاید امریکہ کو رعایت دینی پڑے۔ دوسری طرف حزب اللہ کی حمایت ترک کرنے کا مطالبہ کرنے کے باوجود امریکہ نے ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے اسرائیل کو لبنان میں جنگ بندی پر مجبور کیا۔ اس میں آج ہی تین ہفتے کی توسیع کی گئی ہے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اگر ایران پہلے دو معاملوں میں لچک دکھائے تو دوسرے دو معاملات میں امریکہ کچھ رعائتیں دینے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود دونوں ملکوں کی حکمت عملی میں بنیادی فرق دیکھا جاسکتا ہے۔ امریکہ فوری اور بڑی ڈیل کا خواہش مند ہے ، اسی لیے اس نے ناکہ بندی سخت کی ہے۔ جبکہ ایران زیادہ سے زیادہ وقت لینا چاہتا ہے اور معاملات کو آہستہ آہستہ حل کرنے کا خواہاں ہے۔ عباس عراقچی کی اسلام آباد آمد اور امریکی وفد سے ملاقات نہ کرنے کی خبروں سے اسی ایرانی پالیسی کی تصدیق ہوتی ہے۔