ایک اور صحافی امل خلیل کا قتل
- تحریر فہیم اختر
- ہفتہ 25 / اپریل / 2026
آج کے دور میں صحافت، جو کبھی سچائی کی آواز اور عوامی شعور کی بنیاد سمجھی جاتی تھی، خود ایک خطرناک پیشہ بنتی جا رہی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں صحافی یا تو اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا پھر انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا سچ بولنا اتنا بڑا جرم بن چکا ہے کہ اس کی قیمت زندگی یا آزادی کی صورت میں ادا کرنی پڑے؟
حالیہ واقعات اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ جنگی علاقوں میں کام کرنے والے صحافی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ جنوبی لبنان میں ایک صحافی کی ہلاکت اور دوسری کے زخمی ہونے کا واقعہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ایسے واقعات صرف حادثات نہیں بلکہ ایک وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔جنگی حالات میں صحافیوں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے کیونکہ وہ زمینی حقائق کو دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔ لیکن یہی کردار انہیں طاقتور حلقوں کے لیے خطرہ بنا دیتا ہے۔ جب صحافی بمباری، شہری ہلاکتوں یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرتے ہیں تو وہ ان بیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں جو ریاستیں یا عسکری قوتیں پیش کرنا چاہتی ہیں۔ نتیجتاً، انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔کبھی براہ راست حملوں کے ذریعے، اور کبھی قانونی یا سیاسی دباؤ کے ذریعے۔
ڈبل ٹیپ حملوں جیسے واقعات، جہاں ایک ہی مقام کو بار بار نشانہ بنایا جاتا ہے، نہ صرف عام شہریوں بلکہ امدادی کارکنوں اور صحافیوں کے لیے بھی شدید خطرہ بن جاتے ہیں۔ اس طرح کے حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی روح کے خلاف ہیں، کیونکہ یہ ان لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو پہلے ہی زخمیوں کی مدد یا حقائق کی رپورٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔دوسری جانب، جو صحافی میدان جنگ میں نہیں ہوتے، انہیں اکثر ریاستی قوانین، سنسرشپ، اور قومی سلامتی کے نام پر دبایا جاتا ہے۔ کئی ممالک میں صحافیوں کو غلط معلومات پھیلانے، ریاست مخالف سرگرمیوں یا دہشت گردی سے روابط جیسے الزامات کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے۔ یہ الزامات اکثر مبہم اور وسیع ہوتے ہیں، جن کا مقصد صرف اختلافی آوازوں کو دبانا ہوتا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے موجود قوانین اور ادارے اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔ اگرچہ بین الاقوامی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے بارہا تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر ذمہ داران کو سزا ملنا نایاب ہے۔ اس عدم احتساب نے ایک خطرناک پیغام دیا ہے کہ صحافیوں کے خلاف جرائم بغیر کسی نتیجے کے جاری رکھے جا سکتے ہیں۔
ان تمام صورتحال کا سب سے بڑا نقصان عوام کو ہوتا ہے۔ جب صحافی خاموش ہو جاتے ہیں یا انہیں خاموش کر دیا جاتا ہے، تو سچائی بھی دفن ہو جاتی ہے۔ عوام کو ادھوری یا مسخ شدہ معلومات ملتی ہیں، جس سے نہ صرف ان کا شعور متاثر ہوتا ہے بلکہ جمہوری عمل بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔تویہ سوال ہم سب کے لیے ہے: اگر سچ بولنے والے محفوظ نہیں، تو کیا ہم واقعی ایک آزاد دنیا میں رہ رہے ہیں؟صحافت کو جمہوریت کی آنکھ اور سماج کا ضمیر کہا جاتا ہے، مگر جب یہی آنکھیں بند ہونے لگیں اور ضمیر خاموش ہو جائے تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً غزہ اور جنوبی لبنان میں جس تسلسل کے ساتھ صحافی مارے جا رہے ہیں، اس پر عالمی صحافتی برادری کی خاموشی ایک گہرا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ کیا یہ خاموشی مجبوری ہے، مصلحت ہے یا ایک خطرناک ترجیح؟یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ صحافیوں کی ہلاکتوں کو عالمی سطح پر یکساں اہمیت نہیں دی جاتی۔ اگر یہی واقعات کسی مغربی ملک میں پیش آئیں تو ردعمل کہیں زیادہ شدید اور فوری ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ سب کچھ مشرقِ وسطیٰ میں ہوتا ہے تو اسے اکثر تنازع کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف صحافت کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ انسانی جان کی قدر کو بھی مشروط بنا دیتا ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ صحافی کیوں مارے جا رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کی موت پر آواز کیوں نہیں اٹھائی جا رہی۔ خاموشی، بسا اوقات، الفاظ سے زیادہ بلند ہوتی ہے۔ اور یہ خاموشی اگر طاقتور حلقوں کے حق میں جائے تو وہ ایک طرح کی شراکت بن جاتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیائے صحافت اپنے بنیادی اصولوں کی طرف لوٹے۔ اگر صحافی، صحافیوں کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے تو پھر کون اٹھائے گا؟ آزادیِ صحافت کا دفاع صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی یکجہتی اور غیر جانبدار موقف سے ممکن ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے باوجود بدھ22 اپریل کو اسرائیلی فورسز نے ممتاز لبنانی صحافی امل خلیل کو قتل کر دیا۔ امل خلیل اور اس کی ساتھی فوٹوگرافر زینب فراج جنوبی لبنان سے رپورٹنگ کر رہے تھے جب ایک اسرائیلی ڈرون نے ان کے قریب ایک کار کو نشانہ بنایا جس میں دو شہری ہلاک ہوئے۔ خلیل اور فراج نے قریبی عمارت میں پناہ لی لیکن پھر اسرائیل نے اس عمارت کو بھی نشانہ بنایا۔ ایمرجنسی اور طبی کارکنوں نے فراج کو بچایا لیکن خلیل کو بچانے سے پہلے ہی وہ گولی کی زد میں آگئے، اور اسرائیلی فوج نے چھ گھنٹے سے زائد عرصے تک واپس جانے سے روک دیا۔ خلیل کی موت اس وقت ہوئی جب اس کی لاش ملبے سے نکالی گئی۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی علاقائی ڈائریکٹر سارہ قدہ کہتی ہیں کہ جان بوجھ کر رکاوٹ ایک جنگی جرم ہے اور اس کی بین الاقوامی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
حالیہ مہینوں میں متعدد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں صحافی واضح طور پر شناخت کے باوجود نشانہ بنے۔ فیلڈ میں موجود رپورٹرز، کیمرہ پرسنز اور فری لانس صحافی نہ صرف بمباری کی زد میں آئے بلکہ بعض مواقع پر ایسے حالات بھی رپورٹ ہوئے جہاں امدادی ٹیموں کو بھی متاثرہ صحافیوں تک پہنچنے سے روکا گیا۔ ان واقعات کو محض“جنگی نقصان”قرار دینا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ عالمی میڈیا، جو عام حالات میں آزادیِ اظہار اور صحافتی تحفظ کے لیے آواز بلند کرتا ہے، اس معاملے پر اتنا محتاط کیوں ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ عالمی سیاست اور میڈیا کا طاقت کے مراکز سے جڑا ہونا ہے۔ بڑے بین الاقوامی میڈیا ادارے اکثر ان ممالک میں قائم ہوتے ہیں یا ان کے اثر میں ہوتے ہیں جو خود اس تنازع میں فریق یا حامی ہوتے ہیں۔ نتیجتاً، خبر کی ترجیح اور اس کا زاویہ غیر محسوس طریقے سے تبدیل ہو جاتا ہے۔
امل خلیل لبنان میں ایک معروف اور معزز صحافی تھیں۔امل خلیل کو پچھلی جنگ کے دوران واٹس ایپ پر ایک اسرائیلی فون نمبر سے براہ راست دھمکیاں موصول ہوئی تھیں، جس میں اسے رپورٹنگ بند کرنے کی تنبیہ کی گئی تھی۔وہ اسے کہہ رہے تھے کہ اگر وہ چاہتی ہے کہ اس کا سر اس کے کندھوں پر رہے تو اسے لبنان چھوڑ دینا چاہیے۔ امل نے 2024 میں مقامی میڈیا کو بتایا کہ اسے اسرائیل کی جاسوس ایجنسی موساد کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکی ملی تھی جس میں اسے جنوبی لبنان چھوڑنے یا سر قلم کرنے کا خطرہ تھا۔ پچھلے مہینے اسرائیلی حملے میں بچ والے، روسی نیوز چینل آر ٹی کے لبنان کے بیورو چیف اسٹیو سوینی کہتے ہیں،یہ وہی ہورہا ہے جو اسرائیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل جنگی جرائم کو دیکھنے کے لیے بہت زیادہ وسیع سامعین تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے جو لبنان میں روزانہ کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔
لبنان کے وزیراعظم نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں صحافی امل خلیل کی ہلاکت اور دوسرے کے زخمی ہونے کے بعد اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام عائد کیا ہے۔ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیل پر جنوبی لبنان کے گاؤں الطیری میں ایک فضائی حملے میں صحافی امل خلیل کے قتل اور ان کی ساتھی زینب فراج کو زخمی کرنے کے لیے انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام عائد کیا ہے۔
امل خلیل اس سال لبنان میں ہلاک ہونے والے نویں صحافی ہیں۔امل خلیل 1984میں جنوبی لبنان کے شہر بایسریہ میں پیدا ہوئی، اس نے 2006 کی جنگ کے بعد سے الاخبار کے لیے علاقے کا احاطہ کیا تھا۔ ان کی تازہ ترین رپورٹنگ ان دیہاتوں میں گھروں کی اسرائیلی مسماری پر مرکوز تھی جہاں لبنان کے اندر اسرائیلی فوجی تعینات ہیں۔اس سال کے شروع میں دی پبلک سورس کے ساتھ ایک انٹرویو میں،امل خلیل نے کہا کہ ان کی رپورٹنگ میں لبنان کے سرحدی دیہات کے رہائشیوں کی لچک کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں نے دشمن کے گھروں، کھیتوں پر بمباری کرنے اور بچوں کو مارنے کے ثبوت دکھا کر صرف فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کے بیانیے کو رد کیا۔اپنے کام کے ذریعے، میں نے ان لوگوں کو زمین کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کرنے کی کوشش کی ہے‘۔
صحافیوں کے تحفظ کمیٹی (سی پی جے) نے کہا ہے کہ امل خلیل کا قتل،عالمی برادری کے لیے بین الاقوامی قانون کو نافذ کرنے، اسرائیل کی جانب سے خطے بھر میں صحافیوں کے 262 قتل کی فوری تحقیقات کرنے، اور تمام ذمہ داروں کو احتساب کے لیے بیدار کرنے کا مطالبہ ہونا چاہیے۔اسرائیلی فوج کی طرف سے طبی عملے کو زخمی شہریوں کو بچانے سے روکنا ایک وحشیانہ اور بار بار ہونے والا جرم ہے جس کا مشاہدہ کمیٹی پہلے ہی غزہ اور اب دوبارہ لبنان میں کر چکی ہے۔امل خلیل، ایک غیر مسلح صحافی سات گھنٹے سے زیادہ وقت تک ملبے کے نیچے پھنسی رہی جب کہ ریڈ کراس کو اس تک پہنچنے سے روکا گیا، جو کہ اسرائیلی درندگی کی وحشیانیہ مثال ہے۔
ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل، جنوبی لبنان میں ایک اور مبینہ ''ڈبل ٹیپ'' حملے میں تین صحافی مارے گئے تھے۔ ان کی گاڑی کو ٹکر ماری گئی، پھر دوبارہ ٹکر ماری گئی، جب کہ بعد میں پہنچنے والے امدادی کارکن بھی حملے کی زد میں آگئے۔یہ معاملہ صرف مشرقِ وسطیٰ کا نہیں بلکہ پوری دنیا میں صحافت کے مستقبل کا ہے۔ اگر سچ لکھنے والوں کو خاموش کر دیا گیا اور باقی دنیا خاموش تماشائی بنی رہی، تو کل یہ خاموشی ہر اس جگہ پھیل سکتی ہے جہاں سچ بولنا جرم بن جائے۔