واشنگٹن میں صدر ٹرمپ پر فائرنگ کی ناکام کوشش، حملہ آور پکڑا گیا
وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندگان کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس سے تقریب برخاست کر دی گئی۔امریکی صدر سمیت تمام افراد واقعے میں محفوظ رہے۔
عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آنے کے بعد سیکریٹ سروس اہلکار ٹرمپ کو ہال سے باہر لے گئے۔ وائٹ ہاؤس کی کوریج پر مامور نمائندوں سے متعلق ڈنر کی تقریب کا آغاز ہی ہوا تھا کہ اس دوران صدر ٹرمپ کو ایک پرچی دکھائی گئی، ایسی ہی پرچی پہلے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو بھی دکھائی گئی تھی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی پرچی دکھائی گئی تو صدر ٹرمپ کے ایک جانب بیٹھی خاتون حیرت زدہ رہ گئی۔ اچانک ہونے والی فائرنگ کی آواز سن کر صدر ٹرمپ اور دیگر شرکا اپنی نشستوں سے اتر کر نیچے ہوگئے۔اس دوران سیکریٹ سروس کے اہلکار صدرٹرمپ کو باہر لے گئےجبکہ کئی اہلکاروں نے بندوقیں بھی تان لیں۔ کوریسپونٹینڈٹ ڈنر سے صدر ٹرمپ نے خطاب کرنا تھا۔
تقریب میں امریکی خاتون اول اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت 2 ہزار 600 افراد موجود تھے۔فائرنگ کے واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایت پر تقریب کو فوری طور پر ختم کر دیا گیا۔
فائرنگ کے بعد صدر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں یہ ایک غیر معمولی شام تھی، سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شاندار کام کیا۔ انہوں نے فوری اور بہادری سے کارروائی کی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے جو کہ زندہ ہے۔ میں نے یہ سفارش کی ہے کہ شو جاری رہنے دیا جائے، تاہم موجودہ صورتحال میں ہم مکمل طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات کے مطابق چلیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ خاتونِ اول، نائب صدر، اور تمام کابینہ کے اراکین مکمل طور پر محفوظ اور خیریت سے ہیں، میں نے اس تقریب کے تمام ذمہ دار نمائندوں سے بات کر لی ہے، اور ہم اسے 30 دن کے اندر دوبارہ منعقد کریں گے۔
فوکس نیوز کے مطابق حملہ آور کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس کے نام سے ہوئی ہے۔شوٹر کیلیفورنیا کے علاقے ٹورنیس کا رہائشی بتایا گیا ہے جسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ایف بی آئی حکام نے بتایا کہ حملہ آور نے فائرنگ کر کے سکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی۔ ایک مشتبہ شخص نے بندوق کے ساتھ تقریب میں داخل ہونے کی کوشش کی اور سیکرٹ سروس ایجنٹ پر فائرنگ کی، واقعے میں ایجنٹ محفوظ رہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس حملہ کے بعد کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں فائرنگ مجھے ایران کے خلاف جنگ لڑنے اور جیتنے سے نہیں روک سکے گی اگرچہ میرے خیال میں اس فائرنگ کا ایران جنگ سے تعلق نہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا اس ایران جنگ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں اور جو کچھ میں جانتا ہوں اس کی بنیاد پر مجھے ایسا نہیں لگتا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پاگل لوگ ہیں اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے، مشتبہ شخص کے پاس بہت سے ہتھیار تھے۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ انتہائی حیرت انگیز لمحہ تھا۔ٹرے گرنے کی زوردار آوازیں سنیں، میں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا ہوا، میلانیا نے فورا کہا بری آواز ہے۔میلانیا شدید صدمے میں ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس شخص نے 50 گز دور سے حملے کی کوشش کی۔ ایک اہلکار کوگولی لگی مگر بُلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سےمحفوظ رہا۔جس اہلکارکو گولی لگی، میں نےاس سے بات کی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں صرف سیاسی محرکات کے تحت ہونے والے حملوں پر نہیں بلکہ ہر قسم کے تشدد پر تشویش ہے۔
انہوں نے صدارت کے پیشے کو لاحق خطرات کا موازنہ ریسنگ کار ڈرائیونگ اور بیل سواری جیسے خطرناک شعبوں سے کیا۔اور دعویٰ کیا کہ اب تک تقریباً 5.8 فیصد امریکی صدور پر فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔میں تصور نہیں کر سکتا کہ صدر کے عہدے سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ بھی ہو سکتا ہے۔ بطور کمانڈر ان چیف آپ کو خطرات مول لینے پڑتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ تمام خطرات کے باوجود وہ ایک نارمل زندگی گزارتے ہیں اور وہ ایسے واقعات کے بارے میں زیادہ سوچنا نہیں چاہتے۔ان کے مطابق خاتونِ اول کو بھی اس شعبے سے لاحق خطرات کا اندازہ ہے۔