افسوس! راشد نثار جعفری ۔۔ ہم تمہیں بھی بھول گئے
- تحریر رضی الدین رضی
- اتوار 26 / اپریل / 2026
کل سے سوچ رہا تھا کہ راشد نثار جعفری پر کچھ نیا لکھوں۔ بہت کچھ ہے لکھنے کو مگر میں نے کچھ نہ لکھا ۔ ایک یہی سوال ذہن میں گونجتا رہا کہ ہم بچھڑنے والے دوستوں کو بس سال میں ایک آدھ مرتبہ ہی تو یاد کرتے تھے، کبھی ان کی برسیوں پر اور کبھی ان کے جنم دن پر ۔
یا کبھی فیس بک کی یادداشت ہمیں کچھ یاد دلا دے، کہیں سے کوئی تصویر کسی روز بارہ بجے شب یا دن کے کسی لمحے میں سامنے آ جائے تو ہمیں یاد آ جاتا کہ کوئی تھا جس کے ساتھ ہم طویل وقت گزارتے تھے ۔ جانے والوں کو ہم ابتدائی دو چار برسوں کے دوران تو خوب یاد کرتے ہیں ۔ بہت گریہ کرتے ہیں لیکن پھر رفتہ رفتہ زخم مندمل ہو جاتے ہیں ۔ راشد کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ ابتدائی دو چار سال کے دوران تو ہم ادبی بیٹھک میں اس کی برسی مناتے رہے اور دوست سال میں ایک بار جمع ہو کر اس کی باتیں بھی کرتے رہے ۔
ارشد عباس ذکی سے لے کر علی شاذف تک اور شارق عبیر سے لے کر عمار یاسر مگسی تک کتنے ہی نام ہیں جو راشد نثار کے ساتھ جڑے ہوئے تھے ۔ مسالموں اور دیگر مشاعروں و تقریبات میں ہم سب اکثر اوقات اکٹھے شریک ہوتے تھے ۔ مجھے راشد کی تین برسیاں تو یاد ہیں جو ہم نے ادبی بیٹھک میں منائیں اور ان میں راشد کے بھائی افتخار جعفری کو بھی مدعو کیا تھا ۔ میں خود برسی کا بینر ڈیزائن کراتا تھا اور راشد کا یہ شعر اس پر لکھواتا تھا:
مجھے پھر کیوں بلایا جا رہا ہے
اگر میں واقعی بھیجا گیا ہوں
پھر یوں ہوا کہ جیسے ہم نے مسعود کاظمی صاحب کو فراموش کیا اور جس طرح ہم عرش صدیقی اور عاصی کرنالی کو بھول گئے، وہیں ہمیں یہ بھی یاد نہ رہا کہ کوئی راشد نثار بھی ہمارے درمیان قہقہے لگاتا تھا ۔ اور یاد کیسے رہتا۔ اس کا ادبی سفر ہی چند برسوں پر تو محیط تھا۔ ہم تو اس شہر پر نصف صدی قربان کرنے والوں کو بھی اب یاد نہیں کرتے ۔ راشد نثار سےمیری دوستی اس کے بھائی افتخار جعفری کے توسط سے ہوئی تھی جو ایف ایم ریڈیو پر میری نظمیں پڑھا کرتا تھا ۔ افتخار نے ہی راشد کے ساتھ ہماری ملاقات کرائی تھی، لال کرتی نذیرے کے ہوٹل پر۔
راشد ان دنوں لاہور سے ملتان آیا ہوا تھا ۔ راشدنثارجعفری 2010 میں سخن ور فورم کا حصہ بنا اور ادبی بیٹھک کے پہلے اجلاس سے اس کے باقاعدہ شرکا میں شمار کیا جانے لگا ۔ اس نے ادبی بیٹھک کو فعال کرنے میں بہت اہم کرداراداکیا۔ 27نومبر2011کو سخن ورفورم نے جنوبی پنجاب اہل قلم کانفرنس منعقدکی تو راشد نثار اس کی استقبالیہ کمیٹی میں شامل تھا ۔ راشد نثار جعفری سے میری پہلی ملاقات 2007 میں لاہور کے ایک ہوٹل میں ہوئی تھی۔ وہ اس وقت صرف نثار جعفری تھا۔ میں روزنامہ جنگ چھوڑ کر دنیا ٹی وی سے منسلک ہوا اور ایک ٹریننگ سیشن کے سلسلے میں دوماہ کیلئے لاہور کے ایمبیسیڈر ہوٹل میں مقیم تھا ۔ نثار اس ہوٹل میںاپنے بھائی افتخار کی معرفت ملنے آیا تھا۔
وہ 23مارچ 1967کو داﺅدخیل میانوالی میں پیداہوا ۔ اس کے والد کا پاک امریکن فرٹیلائزرفیکٹری سے 1972میں پاک عرب فرٹیلائزر ملتان میں تبادلہ ہوا۔ راشدنثار نے 1986میں میٹرک ، 1988میں ایف ایس سی اور1990میں گریجویشن کی ۔ وہ پاک عرب فیکٹری میں 1997تک مارکیٹنگ افسرکی طور پرکام کرتا رہا ۔ 1997سے 2000 تک وہ خواجہ پیپرملز لاہور سے منسلک رہا اور پھر 2009 تک مسعودٹیکسٹائل ملز میں انچارج ڈائینگ یونٹ کے طورپرکام کیا۔ اس دوران اس نے ذاتی کاروبار کی کوشش کی لیکن ناکامی کے بعد وہ 2010 میں ملتان آگیا ۔ یہاں داﺅد تکافل فیملی انشورنس میں ایک سال کام کیا اور2011 میں سٹیٹ لائف انشورنس سے منسلک ہو گیا ۔
راشدنثار جعفری نے 1992 میں ملتان میں پہلی شادی کی ، دوسری شادی اس نے لاہور میںقیام کے دوران کی ۔ مجھے یاد ہے 8 مارچ 2010 میں ہم سب دوست پلاک کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور گئے تھے۔ اسی روز لاہور میں ایف آئی اے سینٹر پر خود کش دھماکہ ہوا اور راستے بند ہو جانے کے باعث لاہور میں دوستوں سے ملاقات کا کوئی امکان باقی نہ رہا ۔ راشد ہمیں ملنے کے لیے الحمرا آیا ہوا تھا ۔ اس نے ہمیں گاڑی میں بٹھایا اور اپنے گھر لےگیا ۔ اس وقت تک ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اس نےدو شادیاں کر رکھی ہیں ۔ یہ راز تو کچھ عرصہ بعد اس وقت کھلا جب وہ لاہور چھوڑ کر ملتان آ گیا ۔
اس کو پے در پے ناکامیوں کا سامنا تھا ۔ مالی طور پر بھی وہ آسودہ نہیں تھا اور دوسری شادی کےبعد گھریلو زندگی بھی اجیرن ہو چکی تھی ۔ ایک رات وہ بہت دیر تک میرے ڈرائینگ روم میں بیٹھا رہا ۔ اپنے سب دکھ مجھے سنائے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ رضی بھائی میری ہمت جواب دے چکی ہے۔ میں نے اسے حوصلہ دیا اور ان مسائل سے نکلنے کے لیے مدد کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ میرے مشورے کے مطابق ہر قدم اٹھائے گا۔ لیکن شاید اس کا دل اب اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں تھا ۔ گھریلو تنازعات کے باعث وہ شدید ذہنی دباﺅ کا شکار رہا اور یہی دباؤ اس کی موت کا باعث بنا۔
24اپریل 2012 کو وہ دل کادورہ پڑنے سے لاہور میں انتقال کرگیا۔ میں نے اس کی یاد میں آنسو مدینے کی گلیوں میں بہائے تھے ۔ میں بہت رونا چاہتا تھا مگر مجھے وہاں کوئی شانہ ہی میسر نہ تھا کہ جس پر سر رکھ کر میں اپنا دل ہلکا کر سکوں۔ پھر ہم نے ہر برسی پر اس کے بھائی سے یہ تقاضا شروع کر دیا کہ اس کا بکھرا ہوا کلام کتابی صورت میں شائع کرانے کے لیے اس کی بیاض تلاش کرے ۔ افتخار یہ کام نہ کرسکا ۔ اس برس تکلیف یہ ہوئی کہ راشد کے بھائی اور ڈاکٹر علی شاذف کے سوا کسی نے راشد کو اس کی برسی پر یاد کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی ۔
زندگی کی مصروفیت میں سب اپنی اپنی شناخت بنانے میں مصروف ہیں۔ مرنے والوں کے ساتھ زندہ لوگ آخر کب تک وفا کرسکتے ہیں کہ وفا تو اب اپنے درمیان سانس لینے والوں کے ساتھ بھی ممکن نہیں رہی ۔ سوری یار راشد نثار ۔۔ مدینہ کی مٹی میں تمہارے لیے آنسو بہانے والا مدینہ الاولیا کی مٹی میں آنسو نہیں بہا سکا۔ حالانکہ سنا ہے ملتان کی مٹی میں وفا ہوتی ہے ۔۔
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)