ہر بار میں ہی کیوں ہارتا ہوں؟

علامہ اقبال علم وفضل میں بہت بڑے مقام پر تھے۔ وہ ’شکوہ‘ لکھنے میں حق بجانب تھے۔ وہ اقبال تھے۔ یہ قلم کار ’بالؔ‘ ہے، وہ علامہ تھے، یہ اُلاما ہے (اُلاما یا اُلانبھا پنجابی میں اسے کہتے ہیں جس سے ہر کسی کو شکایت ہو) ۔

علامہ نے امت ِمسلمہ کی زبوں حالی پر خدا سے شکوہ کیا کہ خدا کی راہ پر چلنے اور قربانیاں دینے کے باوجود مسلم دنیا کمزور سے کمزور تر ہورہی ہے۔ جبکہ مغرب ترقی کررہا ہے اور طاقت پکڑتا چلا جا رہا ہے ۔ علامہ اقبال نے مسلمان اور جدید تعلیم کے موضوع پر فکر انگیز شعر میں امت مسلمہ کے مرض اور اسکی دواکا یوں ذکر کیا ہے:

اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا

ہے خونِ فاسد کیلئے تعلیم مثلِ نیشتر

(اس دور میں تعلیم ملت کیلئے دوا کی حیثیت رکھتی ہے تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے زخم کو نشتر لگا کراس سےخراب یا فاسد خون نکالا جاسکتا ہے)

علامہ اقبال تو حکیم الامت تھے انہوں نے درد کی نشاندہی ’ شکوہ ‘ اور ’جواب شکوہ‘ میں کی اور درد کا درماں اوپر دئیے گئے شعر میں بیان کردیا۔ مگر’ اُلاما‘ کیا کرے، اسے سمجھ نہیں آتا کہ وہ اپنا درد کیسے بیان کرے؟ اور پھر دوا ڈھونڈنا تو اس سے کہیں مشکل ہے۔ اُلاما کی تکلیفیں، مشکلات اور پریشانیاں ایسی ہیں کہ بڑھتی ہی جارہی ہیں۔

قلم گھسیٹیا اُلاما ٹھیک ٹھاک ہوتا تھا۔ بس افغان مجاہدوں کے روس کو شکست دینے کے بعد یہ دنیا بھر کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے لگا، کشمیر کوجہاد کے ذریعے آزاد کرانے، قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی اور لال قلعہ دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کا خواب اس کے دل میں سما گیا۔ پھر اُلاما بھارت کے ٹکڑےکرکے کئی نئی مسلم ریاستوں کا خیالی جال بننے لگا۔ خالصتان موومنٹ اس کو بھانے لگی۔ اسی پر بس نہیں صدام حسین اس کا پہلا ہیرو تھا جو اس نے امریکہ کو شکست دینے کیلئے چنا۔ اس سے پہلے جب اسامہ بن لادن نے نائن الیون کیا تو قلم گھسیٹیے نے کونٹری انگلینڈ میں خود یہ مشاہدہ کیا کہ نائن الیون والے دن جب جہاز ٹوئن ٹاور سے ٹکرائے تو ریسٹورنٹ کا عربی مالک اللّٰہ اکبر کا نعرہ لگا کر جذبات کو مہمیز دےرہا تھا۔ اوربزعم خود یہ دعویٰ کررہا تھا کہ یہ کام اپنوں کا ہے۔ اسامہ بن لادن کا نام تو چند دن بعد سامنے آیا تھا۔ مسلمانوں نے اس واقعے کو اپنانے کے نعرے پہلے ہی لگا دئیے تھے۔

اُلاما کو لگا کہ لیں اب امریکہ کی خیر نہیں اب اسامہ بن لادن یا اس جیسے مجاہد پہلے روس کو شکست دے چکے ہیں، اب امریکہ کی باری آچکی۔ وقت گزرتا رہا پھر لگا کہ اسامہ بن لادن جیتا نہیں ہارا ہے۔ امت مسلمہ کو نائن الیون کا فائدہ نہیں نقصان ہوا ہے۔ مگر اُلاما کا جنون کہاں تھمنے والا تھا۔ صدام حسین اس کا ہیرو تھا، ایک جنرل صاحب نے جب پوری تحقیق کے بعد دعویٰ کیا کہ عراق کا صحرا امریکہ کا قبرستان بنے گا، اسے لگا کہ وہ جومتذبذب جہادی ہے۔ وہ جو دل کا خودکش بمبارہے، اب اس کی خواہشات صدر صدام حسین کے ذریعے پوری ہوں گی۔ مگر اس کی یہ خواہش ناتمام ہی رہی۔ تھوڑے ہی عرصے میں صدام حسین کا تختہ الٹا گیا اور وہاں امریکہ نے اپنے پشت پناہوں کی حکومت قائم کرلی۔ اُلاما پھر بھی مایوس نہ ہوا۔

پاکستان کے اندر طالبان کی کارروائیاں جاری تھیں۔ اُلاما کو یقین تھا کہ گڈ طالبان کا مقصد گڈ ہے۔ وہ پاکستان میں اسلامی نظام لانا چاہتے ہیں اور امریکہ کواس خطے سے بھگانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ یہ اُلاما ان گڈ طالبان کا حامی بن گیا اور ان کے ذریعے ملک کے اندر تبدیلی اور دنیا بھر میں امریکہ کو شکست دینے کے بعد ملا عمر کی عالمی خلافت کا خواب دیکھنے لگا۔ اسے یقین تھا کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی ابتدا اسی خطے سے ہونی ہے۔ ادھر طالبان کسی پنج ستارہ ہوٹل میں دھماکہ کرتے تو اُلاما دعویٰ کرتا کہ دراصل یہاں امریکی ایجنٹ گھسے ہوئے تھے۔ غرضیکہ اُلاما بقلم خود ان کا توجیہ گر یعنی Apologist بن گیا۔ ان کے ہر گناہ اور ظلم کا جواز پیش کرتا  ۔دراصل وہ انہیں گڈ اور ان کی نیت کو بھی گڈ سمجھتا تھا ۔مگر یہ طالبان بھی عجیب نکلے امریکہ سے معاہدہ کرکے حکومت لی اور پاکستان کے خلاف دھماکے کرنے والوں کی مدد کرنے لگے۔

اُلاما اب ان کا حامی نہیں رہ سکتا تھا۔ اس کی نظر میں یہ اس کی ایک اورشکست تھی۔ قبلہ اول کی آزادی اور فلسطین کی آزادی کیلئے اس کا ہمیشہ سے شدید جذبہ رہا ہے۔ یا سرعرفات ایک زمانے میں اس کےہیرو تھے،۔ لیلیٰ خالد، بھی اسے بہت پسند تھیں۔ مگر فلسطین کا دوریاستی سمجھوتہ ہوگیا اور حماس میدان میں آگئی تواسے پرامن ہوجانے والی پی ایل او ناپسند ہوگئی۔ حماس نے اسرائیل کی ٹھکائی شروع کی تو اُلاما کی ہمدردیاں پوری طرح اس کے ساتھ ہوگئیں۔ لبنان میں حزب اللّٰہ کے حسن نصر اللّٰہ کا نیٹ ورک بہت ہی مضبوط اور آئیڈیل تھا۔ اُلاما کو توقع ہوئی کہ حماس اور حزب اللّٰہ صحیح طور پر اسرائیل کا ناطقہ بند کرسکتے ہیں۔

اسی دوران شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو اُلاما کا ایرانی ہیرو قاسم سلیمانی وہاں پہنچ گیا اور پاکستانی رضا کاروں زینبیون اور فاطمیون کی مدد سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ روس نے بھی مدد کی مگر ایک روز پتہ چلا کہ قاسم سلیمانی قتل کردیا گیا۔ پھر شام میں بشارالاسد بھی ہار گیا۔ بشار کیا ہارا، اُلاما ہی ہار گیا۔ پھر حماس کے لوگوں میں اسرائیل کے مصنوعی ذہانت کے یونٹ نے تباہی پھیلانا شروع کردی۔ علم اور ٹیکنالوجی کی برتری نے جنون و جوش کو زیرکرنا شروع کردیا۔ ایک روز اُلاما کے ہیرو حسن نصر اللّٰہ بھی شہادت پا گئے۔ حماس کے اسماعیل ہانیہ کو دھماکے میں جاں بحق کردیا گیا۔ پھر غزہ میں شدید مزاحمت کے باوجود آئے روز ہار ہی ہوتی رہی۔ شہادتوں کا لامتنا ہی سلسلہ جاری رہا۔

اُلاما شکستہ پا ہوتا گیا مگر اس کا جنون کم نہ ہوا۔ ایران مزاحمت کا اصلی استعارہ تھا۔ اس لئے ساری امیدیں اس سے وابستہ ہوگئیں۔ اُلاما کی امیدیں اب بھی اس سے ہیں کہ امریکہ کو یہی خاک میں غلطاں کرے گا ۔ یہی ورلڈ آرڈر بدلے گا مگراس بار تو اُلاما پر پہلے ہی دن غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ حملے کے پہلےہی دن علی خامنہ ای اور سپہ سالار سمیت سارے بڑے بڑے نام نشانہ بن گئے۔ اُلاما حیران تھا کہ چالیس سال سے مرگ بر امریکہ کے نعرے لگانے والے پہلے دن کے حملے کیلئے تیار کیوں نہ تھے؟ اُلاما کو یقین ہے کہ دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑیں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یا ہو پراسرار بیماری کا شکار ہوکر واصل جہنم ہوگا۔ اندیشہ مگر یہ ہے کہ ظالم اور دھوکے باز ٹرمپ توپوں میں کیڑے پڑنے سے کہیں ایران کی ایسی تیسی نہ پھیر دے۔ اُلاما آج کل دن رات دعائیں کررہا ہے، دُہائیاں دے رہا ہے کہ وہ ہر بار ہارا ہے اس بار ایران کو جیتنا چاہیے، اس بار امریکہ کو ہارنا چاہئے۔ اُلاما کی خواہش نہ قذافی، نہ صدام، نہ بشار الاسد، نہ حماس ، نہ حزب اللّٰہ اور نہ عراق نے پوری کی اب ایران بھی پوری نہ کرسکا تو اُلاما کیا پھر سے اسامہ کو ڈھونڈے یا نئےحسن نصر اللّٰہ کا انتظار کرے یا اُلاما مایوس ہوجائ۔، اُلاما کنفیوزڈ ہے۔

اُلاما اگر علامہ کے مشورے پر عمل کرکے مغربی دنیا کو ہرانے، مقابلہ کرنے یا پسپا کرنے کی بجائے علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کو سیکھے، علامہ نے 1909 میں شکوہ لکھی تو اس وقت مسلم دنیا زیادہ تر غلام تھی اب 57مسلم ممالک آزاد و خودمختار ہیں۔ کیا نصف صدی میں انہوں نے علم سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کچھ کیا؟ کچھ بھی نہیں۔ آج کی دنیا علم سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا ہے۔ جس کے پاس یہ نہیں وہ اُلاما ہے۔ اوراس کی سوچ وہی ہے جو اُلاما کی ہے۔ یہ سوچ پہلے بھی ہارتی رہی ہے اور آئندہ بھی ہارتی ہی رہے گی۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : سہیل وڑائچ

???? ????? ??? ?? ????? ????? ??? ????? ???? ???? ?? ???? ???? ?????? ??? ????? ?? ????? ?? ??? ?? ????? ?? ??? ? ?? ?? ???? ???? ????? ???? ?? ???? ??? ???? ???? ??? ????? ?? ?? ????? ??? ???? ????? ????? ??? ?? ?? ????? ?? ??????? ??? ???? ?? ??? ???? ??