اسکاٹ لینڈ میں رنگ اور یادگاریں

سکاٹ لینڈ کا دارالحکومت ایڈنبرا برطانیہ کے سب سے خوبصورت اور تاریخی شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر اپنی قدیم عمارتوں، ثقافت، اور تعلیمی اداروں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔

ایڈنبرا اسکاٹ لینڈ کے مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ یہ ملک کا سیاسی اور ثقافتی مرکز ہے۔ یہاں اسکاٹش پارلیمنٹ بھی موجود ہے اس شہر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ سب سے مشہور مقام ایڈن برگ چرچ  ہے جو ایک بلند چٹان پر بنا ہوا ہے۔ اس شہر کے دونوں حصے نیا اور پرانا شہر یونیسکو  کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔

ایڈنبرا دنیا کے سب سے بڑے آرٹس فیسٹیول  Edinburgh Festival Fringe کی میزبانی کرتا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔ موسیقی، تھیٹر، اور ادب کی سرگرمیاں پورے سال جاری رہتی ہیں۔ یہاں کی مشہور یونیورسٹی ایڈن برگ یونیورسٹی ہے جو 1583 میں قائم ہوئی۔ یہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس شہر کا تعلق مشہور ملکہ میری سے بھی ہے۔ کئی مشہور ادیب اور سائنسدان بھی یہاں سے وابستہ رہے ہیں۔

ایڈنبرا ایک ایسا شہر ہے جہاں تاریخ، تعلیم، اور جدید زندگی ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔ یہ سیاحت، تعلیم اور ثقافت کے لحاظ سے دنیا کے اہم شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ ایڈن برگ کیسل اسکاٹ لینڈ کا ایک مشہور تاریخی قلعہ ہے جو ایک اونچی چٹان پر واقع ہے۔ اس کی تاریخ 1000 سال سے زیادہ پرانی ہے۔ یہ کبھی بادشاہوں کی رہائش، خزانہ، جیل اور فوجی اڈہ رہا۔ آج یہ اسکاٹ لینڈ کا سب سے بڑا سیاحتی مقام ہے۔

نیشنل وار میوزیم اسی قلعے کے اندر واقع ہے۔ یہاں اسکاٹ لینڈ کی 400 سالہ جنگی تاریخ دکھائی جاتی ہے۔ اس میں ہتھیار، یونیفارم، خطوط، اور جنگی سازو سامان شامل ہیں۔ ایڈن برگ کیسل 1933 میں قائم ہوا اور آج بھی ایک اہم تحقیقی و تاریخی مرکز ہے۔  اسکاٹ لینڈ کی مشہور ملکہ (1542–1567) انہیں بچپن میں ہی ملکہ بنا دیا گیا تھا، جب وہ صرف چھ دن کی تھیں۔ پھر فرانس چلی گئیں اور واپس آ کر جوانی میں اسکاٹ لینڈ کی ملکہ بن گئیں۔ ان کی کزن ملک الزبتھ نے ان کو سزائے موت دی۔ نیشنل گیلری آف اسکاٹ لینڈ دارالحکومت ایڈنبرا میں واقع ایک اہم آرٹ میوزیم ہے۔ جو ملک کے بڑے ثقافتی اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ آپ یہاں دنیا کے مشہور فنکاروں کے کام دیکھ سکتے ہیں۔

خوبصورت باغات اور شہر کے مناظر بھی یہاں سے دیکھے جا سکتے ہیں۔
نیشنل وار میوزیم میں سلطان ٹیپو کے نوادرات بھی موجود ہیں۔ برطانیہ کے مختلف میوزیمز میں بھی ٹیپو سلطان  سے متعلق نوادرات موجود ہیں۔ سرنگا پٹم میں سلطان ٹیپو نے انگریزوں سے جنگ کی تھی۔

ایڈنبرا یونیورسٹی 1583 میں قائم ہونے والی دنیا کی قدیم یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں تاریخ، سائنس، طب اور انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے۔۔اس یونیورسٹی میں اسکاٹ لینڈ کی تاریخ سے متعلق اہم آرکائیوز اور دستاویزات بھی موجود ہیں۔

شہر میں بہت زیادہ اونچی عمارات بنانے پر باقاعدہ مکمل پابندی تو نہیں ہے، لیکن سخت منصوبہ بندی کے قوانین ضرور موجود ہیں۔ یہ شہر اپنی تاریخی حیثیت اور خوبصورت اسکائی لائن کے لیے مشہور ہے۔ اسی وجہ سے شہر کے مرکزی اور تاریخی علاقوں میں اونچی عمارتوں کی اجازت دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ایڈنبرا کی سب سے مشہور یادگاروں میں سے اسکاٹ مانومنٹ بھی شامل ہے۔ یہ عظیم اسکاٹش مصنف سیر والٹر اسکاٹ کے اعزاز اور یاد میں بنائی گئی ہے۔ یہ یادگار 1840 کی دہائی میں تعمیر کی گئی اس کی اونچائی تقریباً 200 فٹ (61 میٹر) ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی یادگاروں میں شمار ہوتی ہے جو کسی مصنف کے لیے بنائی گئی ہوں۔

یادگار کے اندر ایک مجسمہ بھی موجود ہے جس میں سر والٹر اسکاٹ کو کتاب کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ سیاح اوپر چڑھ کر ایڈنبرا شہر کے خوبصورت مناظر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ یادگار نہ صرف ایک تاریخی مقام ہے بلکہ اسکاٹ لینڈ کی ادبی وراثت کی ایک اہم علامت بھی ہے۔
رابرٹ برنز پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال رح کی طرح تسلیم کئے جاتے ہیں۔ ڈیم فریز میں برن ہاؤس اور برن میوزیم میں ان کی نادر اشیا موجود ہیں۔

گلاسکو برمنگھم اور مانچسٹر میں پاکستانیوں کی خاصی تعداد موجود ہے۔ یہ شہر علمی وادبی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہیں۔ پاکستان میں آج کل گرمی کا موسم ہے اور اسکاٹ لینڈ میں اس وقت بہار آ ئی ہوئی ہے۔ شاہ بلوط کے سرسبز درخت چیری بلاسم ڈیفوڈلز اور ٹیولپ کے رنگ برنگے پھول اپنا جوبن دکھا رہے ہیں۔
اسکاٹ لینڈ گویا ایک جہان حیرت ہے جس کی کچھ پرتیں ابھی کھل رہی ہیں اور کچھ ابھی کھلنا باقی ہیں۔