45 ویں لندن میراتھن
- تحریر فہیم اختر
- سوموار 27 / اپریل / 2026
بچپن سے ہمیں دوڑنے کا بے حد شوق تھا۔ کلکتہ میں گلیوں اور میدانوں میں دوڑتے ہوئے شاید ہمیں وہ بے ساختہ آزادی محسوس ہوتی تھی جو قدموں کے ساتھ دل میں بھی اترتی چلی جاتی تھی۔ دوڑنا محض ایک کھیل نہیں تھا بلکہ اپنے آپ سے ایک خاموش مکالمہ تھا، جہاں سانسوں کی رفتار اور دل کی دھڑکن ایک ہی تال میں بندھ جاتی تھیں۔
وقت کے ساتھ یہ شوق کہیں مدھم پڑ گیا۔شاید یہ عمر کا تقاضاہے، یا زندگی کی مصروفیات۔ اب ہم خود دوڑتے کم ہیں، مگر دوڑنے والوں کو دیکھ کر دل میں ایک ہلکی سی جنبش ضرور پیدا ہوتی ہے، جیسے کوئی پرانی صدا ہمیں پکار رہی ہو۔ایسے میں لندن مراتھن کا ذکر محض ایک کھیل کی خبر نہیں رہتا، بلکہ انسانی حوصلے اور عزم کی ایک جیتی جاگتی تصویر بن جاتا ہے۔ ہم اس دوڑ کا حصہ نہیں بنتے، مگر اسے دیکھتے، محسوس کرتے اور اس کے ذریعے اپنی ہی گزری ہوئی دوڑوں کی بازگشت سننے لگتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ آپ کو اپنی صحت کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہفتے کے ہر دن دوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم ہر روز چند منٹ دوڑنا آپ کے لیے اچھا ہوسکتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آپ کی زندگی کو بڑھا سکتاہے۔ہر روز دوڑنے سے صحت کے کچھ فوائد ہوسکتے ہیں۔ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ روزانہ صرف پانچ سے دس منٹ کی درمیانی رفتار سے دوڑنے سے آپ کو دل کے دورے، فالج، اور دیگر عام بیماریوں سے موت کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن اسی تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ فوائد ہفتے میں چار گھنٹے میں سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ یعنی ہر روز گھنٹوں دوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دوڑنا ایک اعلیٰ اثر والی ورزش ہے لیکن یہ بھی مانا جاتا ہے کہ زیادہ تربیت دینے سے تناؤ، فریکچر اور پنڈلی کے ٹکڑے ہونے جیسی چوٹیں لگ سکتی ہیں۔
لندن میراتھن دنیا کے مشہور ترین مقابلوں میں سے ایک ہے، جہاں ہزاروں افراد نہ صرف دوڑ میں حصہ لیتے ہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ یہ ایونٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی صحت کے فروغ کا ایک عالمی پیغام بن چکا ہے۔لندن کے لوگ عمومی طور پر صحت کا خاص خیال رکھتے ہیں اور روزمرہ زندگی میں چہل قدمی، جاگنگ اور دیگر جسمانی سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی دکھاتے ہیں۔ پارکس، سڑکوں اور دریا کے کنارے اکثر افراد کو دوڑتے یا ورزش کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کی کمیونٹی فٹنس کو اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔ یہی رجحان لندن میراتھن جیسے بڑے ایونٹس میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔
لندن میراتھن میں شرکت کرنے والے افراد مہینوں کی محنت اور تربیت کے بعد اس دن کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ عمل خود نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور مضبوط ارادے کی مثال ہے۔کہتے ہیں کہ باقاعدہ دوڑنے سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے، پھیپھڑوں کی کارکردگی بڑھتی ہے اور جسم میں توانائی کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے ایونٹس لوگوں کو ورزش کی طرف راغب کرتے ہیں۔اس کے علاوہ، اسپورٹس کا ایک اہم پہلو ذہنی صحت بھی ہے۔ دوڑنے یا کسی بھی جسمانی سرگرمی کے دوران دماغ میں ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو خوشی اور سکون کا احساس دیتے ہیں، جس سے ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میراتھن میں حصہ لینے والے افراد اکثر خود کو زیادہ پر اعتماد اور مثبت محسوس کرتے ہیں۔
آئیے آج آپ کو لندن میراتھن کے متعلق کچھ دلچسپ باتیں بتاتے ہیں۔ لندن میراتھن لندن میں منعقد ہونے والی لمبی دوری کی سالانہ تقریب ہے۔دنیا کی چھ سب سے بڑی میراتھن میں لندن میراتھن بھی شامل ہے۔ لندن میراتھن ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں دوڑنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہ ریس 26.2 میل کے دوڑ پر مشتمل ہے جو لندن کی سڑکوں سے گزرتی ہے۔ لندن میراتھن میں دوڑنے والے معروف لینڈ مارک سے گزرتے ہیں جن میں کوئینز ہاؤس اور نیشنل میری ٹائم میوزیم، کٹی سارک، ٹاور برج، ٹاور آف لندن، کینیری وارف، لندن آئی، بگ بین، پارلیمنٹ اور بکنگھم پیلس اہم ہیں۔
پہلی لندن میراتھن 1981میں منعقد ہوئی تھی۔ جسے اتھیلیٹس کرس بریشر اور جان ڈسلے نے ترتیب دیا تھا۔ بڑے پیمانے پر دوڑ کو عام لوگوں کے لیے رکھا گیا ہے جسے مرکزی تقریب سمجھا جاتا ہے۔ جس میں زیادہ تر لوگ چیریٹی کے لیے رقم اکھٹا کرنے کے لیے دوڑتے ہیں اورمختلف چیریٹی کے لیے ایک ارب پونڈ سے بھی زیادہ جمع کیے جاتے ہیں۔ تاہم دنیا بھر کے معروف اتھیلیٹس بھی لندن میراتھن میں حصہ لے کر بڑے بڑے انعام جیتتے ہیں۔لندن کے مقبول ترین 45 واں میراتھن میں اس بار 59000 ہزار سے زیادہ لوگوں نے حصہّ لیا جو کہ ایک ریکارڈ اور قابل ِستائش بات ہے۔اس کے علاوہ لندن میراتھن میں شامل ہونے کے لیے 1.13ملین لوگوں نے بیلٹ میں حصہ لیا، جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے اور جس کی وجہ سے لندن میراتھن دنیا کا سب سے مقبول میراتھن بنی۔اس میراتھن میں چیریٹی کے لئے پیسہ اکھٹا کرنے والے، شوقیہ دوڑنے والے اور اتھلیٹک دوڑنے والوں نے 26.2 میل یعنی کہ 42.2کیلو میٹر کا فاصلہ بلیک ہیتھ سے شروع کر کے دی مال پرختم کیا جو کہ بکنگھم پیلس کے سامنے کا علاقہ ہے۔
انتظامیہ نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی اطلاع دی کہ اس بار میراتھن میں حصہّ لینے والوں کی تعدادپچھلے کئی سالوں کے مقابلے میں اور بڑھ گئی ہے جو کہ ایک نہایت ہی خوشی کی بات ہے۔لندن میراتھن کی تیاری پورے سال کی جاتی ہے اور اس بار اس کو مشہوٹاٹا کنسلٹینسی سرویسیس نے اسپانسر کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کمپنیاں بھی اس میں حصہّ لیتی ہیں اور لندن میراتھن کو کامیاب بنانے میں نمایاں رول نبھاتی ہیں۔لندن میراتھن میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں بہت سارے حصہّ لینے والے لوگ طرح طرح کے فینسی ڈریس پہن کر دوڑتے ہیں جو کہ دیکھنے والوں کے لئے نہایت ہی دلچسپ اور مزاحیہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر دوڑنے والے اپنی اپنی چیریٹی کے لئے پیسہ وصول کرتے ہیں اور اس بات کی امید کی جارہی ہے کہ اس سال مختلف چیریٹی کی نمائندگی کرنے والے لوگ پچھلے کئی برسوں کے مقابلے میں ایک ارب پونڈ سے زیادہ کی رقم کو اکھٹا کر کے پچھلے کئی سال کے ریکارڈ کو توڑ دیں گے۔
لندن میراتھن سے منتظمین کا ماننا ہے کہ میراتھن سے لوگوں میں اپنی صحت کا خیال رکھنے کا شعور بڑھا ہے اور اس طرح سے برطانیہ
کے دوسرے شہروں میں بھی ہاف میراتھن کا انتظام کیا جا تاہے۔ ان میں نیو کاسل، برمنگھم، مانچسٹر، لیور پول وغیرہ کا نام اہم ہیں۔ ہاف میراتھن کی مقبولیت میں کافی اضافہ ہوا ہے جو کہ ایک اچھی بات مانی جارہی ہے۔اس کے علاوہ مختلف کونسل نے شہر میں دوڑنے والوں کی مقبولیت کو دیکھ کر ہر سال کونسل اس کی ترقی کے لئے کئی لاکھ پونڈ خرچ کررہی ہے۔لندن میراتھن کا ایک اور خوبصورت پہلو اس کا سماجی اثر ہے۔ لوگ مختلف فلاحی اداروں کے لیے چندہ جمع کرتے ہیں، جس سے نہ صرف کمیونٹی سپورٹ کو فروغ ملتا ہے بلکہ انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی بڑھتا ہے۔ اس طرح یہ ایونٹ کھیل کے ساتھ ساتھ ہمدردی اور تعاون کی علامت بھی بن جاتا ہے۔
دنیا بھر میں منعقد ہونے والی میراتھنز میں لندن مراتھن کو ایک منفرد مقام حاصل ہے، جہاں پیشہ ور کھلاڑیوں کے ساتھ عام لوگ بھی اپنی ذاتی جدوجہد کو ایک عالمی کہانی میں بدل دیتے ہیں۔ یہ دوڑ صرف رفتار کا امتحان نہیں بلکہ انسانی حوصلے کا بھی پیمانہ ہے۔لندن میراتھن ہر سال اپریل کے آخر میں ہوتا ہے اور اس سال اتوار 26 اپریل کو منعقد ہوا۔لندن میراتھن میں زیادہ تر دوڑنے والوں میں ہمدردی کا ایک خاص جذبہ پایا جاتاہے جو اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر اپنی اپنی چیریٹی کے لئے کثیر رقم اکھٹا کرتے ہیں۔ایسے بڑے اسپورٹس ایونٹس نہ صرف جسمانی فٹنس کو فروغ دیتے ہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ لندن میراتھن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے مستقل مزاجی، محنت اور مثبت سوچ نہایت ضروری ہیں۔
لندن مراتھن کے بارے میں ایک خوبصورت حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک دوڑ نہیں بلکہ انسانی کہانیوں کا ایک دریا ہے۔ہر سال ہزاروں قدموں کی چاپ میں کسی کا دکھ، کسی کی امید اور کسی کی جیت چھپی ہوتی ہے۔لندن کی سڑکوں پر جب ہزاروں قدم ایک ساتھ حرکت کرتے ہیں تو یہ صرف ایک ریس نہیں رہتی،یہ زندگی کی ایک جیتی جاگتی کہانی بن جاتی ہے۔ لندن مراتھن میں دوڑنے والا ہر فرد اپنی ایک الگ داستان لے کر نکلتا ہے، کوئی اپنے کسی پیارے کی یاد میں، کوئی بیماری کو شکست دینے کے جذبے کے ساتھ، اور کوئی محض اس یقین کے ساتھ کہ منزل تک پہنچنا ممکن ہے، چاہے راستہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو۔
کچھ دوڑیں فاصلے طے کرنے کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ خود کو پہچاننے کے لیے ہوتی ہیں۔ لندن مراتھن بھی ایسی ہی ایک دوڑ ہے جہاں ہر سانس میں ایک کہانی اور ہر قدم میں ایک جذبہ چھپا ہوتا ہے،کوئی آنسوؤں کے ساتھ دوڑتا ہے، کوئی مسکراہٹ کے ساتھ، مگر سب کے دل میں ایک ہی خواہش ہوتی ہے، ہار نہ ماننا۔لندن کی سڑکیں اس دن کچھ اور ہی قصہ سناتی ہیں۔جب لندن مراتھن کے قدم ان پر پڑتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ہر راستہ ایک خواب کی تعبیر بن گیا ہو۔ کوئی تھکن کو، کوئی یادوں کو، اور کوئی خود کومات دیتا ہے۔میں لندن میراتھن میں حصہ ّ لینے والوں کا تہہ دل سے شکریہ اداکرتا ہوں اور ان کے اس جذبے کا احترام کرتا ہوں۔