ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال اور میڈیا کی لاتعلقی
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 27 / اپریل / 2026
پاکستانی میڈیا کے لیے شاید اس خبر میں کوئی نئی بات نہیں تھی یا پھر اسے معمول سمجھ کر نشر یا شائع کرنے اور عوام کو اس بارے میں مطلع کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ تاہم برطانیہ سے جاری ہونے والی دو اردو ویب سائٹس نے ایک سینئر صحافی فخرالرحمان کی ضمانت پر رہائی کے عدالتی حکم کو نمایاں طور سے شائع کیا ہے۔
ایک بیان ایکس پر شئیر کرنے کے جرم میں گرفتار اس صحافی کے ساتھیوں نے شاید کہیں آواز اٹھائی ہو یا ہوسکتا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں اور انسانی حقوق کی کسی تنظیم نے بھی اس گرفتاری اور متنازعہ قانون پیکا ایکٹ کے تحت قید کرنے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہو۔ لیکن ملک کے طاقت ور میڈیا ہاؤسز کے لیے یہ وقوعہ اور اس کے بعد اس پر ہونے والی عدالتی کارروائی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔ ریاستی طاقت کے اس ناجائز اور بے مہار استعمال پر میڈیا کی خاموشی ملک میں بنیادی حقوق، جمہوریت اور قانون کے احترام کی صورت حال پر سنگین سوالات اٹھانے کا موجب بنی ہے۔
کوئی بھی ریاست اپنے شہریوں کا احترام کرکے ہی ایک ذمہ دار طاقت کی شکل اختیار کرتی ہے۔ حکومت درحقیقت اس طاقت کو قانون و آئین و ضوابط کے تحت چلانے اور حقوق و فرائض میں توازن قائم کرنے والا ادارہ ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پارلیمانی جمہوریت کو ریاستی نظام کی خاصیت قرار دیا گیا ہے، حکومت ہر طرح سے پارلیمنٹ کے ذریعے عوامی بہبود اور حقوق کی حفاظت کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ تاہم جیسے ریاستی طاقت اسی وقت اپنی حدود میں رہ کر کام کرتی ہے جب کوئی حکومت قوانین اور قواعد و ضوابط کے تحت اس طاقت کو کنٹرول کرنے کے معاملہ کو نصب العین قرار دیتی ہو۔ اسی طرح حکومت کو آئین کے مطابق عوام کے بہترین مفاد میں کام پر تیار رکھنے کے لیے میڈیا کو نگرانی کا فعال کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ وہ نہ شہریوں کی لاقانونیت کو نظر انداز کرسکتا ہے اور نہ ہی حکومت کی لاپرواہی یا ریاستی طاقت کے غیرمعمولی استعمال کے استعمال پر خاموش رہ سکتا ہے۔ اس کا فرض ہے کہ شہریوں کے ان تمام حقوق کی حفاظت کے لیے کمربستہ رہے جو ملکی آئین اور مسلمہ عالمی جمہوری روایات کے تحت انہیں حاصل ہونے چاہئیں۔
اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ قانون کے تحت اختیارات استعمال کرنے کا استحقاق رکھنے والے ادارے جن میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے خاص طور سے قابل ذکر ہیں، کبھی بھی مقررہ حدود کی پابندی نہیں کرتے۔ انہیں قانون کا خوف نہیں ہوتا کیوں کہ قانون کو تو وہ خود اپنا محتاج سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں وہ خود اس کی تعبیر کرنے اور اسے نافذ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ لیکن میڈیا کی نگرانی اور عدالتوں کی جانچ کی وجہ سے ان اداروں کو جوکنا رہنا پڑتا ہے اور وہ قانون کی مقررہ حدود میں رہ کر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی ایک ادارہ بھی کمزوری یا عدم توجہی کا شکار ہو تو معاشرے میں نااناصافی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی عام ہوجاتی ہے۔
زیر غور معاملہ میں ایک صحافی نے کوئی ایسا بیان ایکس پر شئیر کیا جو متعلقہ حکام کے نزدیک مناسب بیان نہیں تھا۔ ان کے خیال میں اس سے اشتعال پیدا ہونے کا احتمال تھا اور فساد کا خطرہ تھا۔ ایسے رویہ اختیار کرنے والے شہری بلا شک و شبہ احتساب کے قابل سمجھے جاتے ہیں لیکن قانون اسی وقت اپنا راستہ بنا سکتا ہے جب اس کے مقررہ تقاضوں پر عمل کیا جائے۔ صحافی فخرالرحمان کے وکیل بیرسٹر احمد کھوکر نے اسی نکتہ کی طرف اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ صحافی نے ایک بیان کو ٹویٹ کرکے اسے ضرور لوگوں تک پہنچایا لیکن کسی بھی صحافی کا یہی کام ہے اور اس فرض کی ادائیگی کو کسی قانون کے تحت جرم قرار دے کر متلعقہ شخص کو گرفتار کرلینا ناجائز اور اختیارات کا غلط استعال ہوگا۔ انہوں نے یہ دلچسپ پہلو بھی عدالت کے گوش گزار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسا ’اشتعال انگیز‘ بیان دینے والے شخص کے خلاف تو کوئی کارروائی نہیں کی لیکن اس بیان پر مشتمل ویڈیو ایکس کے ذریعے نشر کرنے پر پیغام پہنچانے والے کو گرفتار کرکے قصور وار بتانے اور قانون شکن ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بیرسٹر احمد کھوکھر نے دلیل دی کہ یہ بیان درجنوں لوگوں نے شئیر کیا لیکن فخرالرحمان کو گرفتار کرکے اسے سزا دلانے کی کوشش کی جارہی ہے جو صریحاً سلیکیٹو جسٹس کی مثال ہے اور قانون کی منشاو تقاضے کے خلاف ہے۔ انہیں دلائل کو سنتے ہوئے عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض صحافی کو رہا کرنے کا حکم دیا ۔ اس مقدمہ کی کمزوری کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وکیل صفائی نے جب ایک لاکھ کو غیرمعمولی طور سے زیادہ رقم قرار دیا تو عدالت نے اسے نصف کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ البتہ یہ ملکی عدالتی نظام کا نقص ہے کہ غلط اور بلاجواز طورسے گرفتار کیے گئے لوگوں کو بھی اپنا مؤقف درست ثابت ہونے کے باوجود عدالتیں مقدمہ خارج نہیں کرتیں بلکہ ملزم ہی کو مالی بوجھ برداشت کرتے ہوئے وکیل کی فیس کے علاوہ زر ضمانت کا بھی اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس معاملہ میں عدالت نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کے ایک غلط فیصلے کو مسترد کیا۔ اس کے باوجود مقدمہ جاری ہے اور متعلقہ صحافی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے پیشیاں بھگتنا ہوں گی۔
اسی تصویر کا دوسرا پہلو میڈیا کے احساس ذمہ داری سے متعلق ہے۔ میڈیا عوام کے شعور اور یک جہتی سے واچ ڈاگ کا کردار ادا کرنے کےقابل ہوتا ہے ۔ اسی لیے وہ ایسے معاملات کو خاص طور سے سامنے لانے اور عوام کو ان زیادتیوں سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے جن کے ذریعے صحافیوں کو معلومات عام کرنے کا بنیادی فرض ادا کرنے سے روکا جاتا ہے۔ تاہم فخرالرحمان کے معاملہ میں میڈیا کی لاتعلقی سے واضح ہوتا ہے کہ سنسر شپ کی موجودہ صورت حال میں ملکی صحافتی ادارے خود کو لاتعلق کرتے جارہے ہیں۔ اب صرف کسی ایسے معاملہ کو تو نمایاں کیا جاتا ہے جس میں کوئی شہرت یافتہ اینکر یا صحافی ملوث ہو لیکن اس اصول کی نگرانی کا اہتمام دیکھنے میں نہیں آتا کہ پیغام رسانی کے جرم میں کسی صحافی کو مورد الزام ٹھہرانے کا رویہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس معاملہ میں میڈیا کا یہی رویہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
کسی ملک کا ایسا میڈیا مصدقہ معلومات عام کرنے اور بے لاگ تجزیہ پیش کرنے کا بنیادی فرض ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ اسی کے نتیجے میں سستی شہرت کے لیے اختیار کیے جانے والے ہتھکنڈے، الزامات اور دشنام طرازی سے بھرپور آرا اور جھوٹ پر مبنی ’تجزیے‘ قبول عام پاتے ہیں اور سنجیدہ خبر یا تجزیہ کی مانگ کم ہوتی جارہی ہے۔ پاکستانی میڈیا اپنی مصلحت پسندی کی وجہ سے خود ہی اس افسوسناک صورت حال کا ذمہ دار ہے۔
ریاست لامتناہی طاقت کی حامل ہوتی ہے۔ جب حکومت بھی اس طاقت کے سامنے سرنگوں ہو، عدالتیں بھی چیک اینڈ بیلنس قائم نہ کرسکیں اور میڈیا بھی اسے معمول مان کر نظر انداز کرنا شروع کردے تو سیاسی عمل، انصاف اور بنیادی حقوق کی بات کرنے والوں کو بھی غدار اور ملک دشمن قرار دے کر جیلوں میں بند کیا جائے گا۔ ملک میں حبس کا ایسا عالم ہوگا جو قوموں کی زندگی کے لیے ہلاکت سبب ہوتا ہے۔