متحدہ عرب امارت نے اوپیک سے نکلنے کا اعلان کردیا
متحدہ عرب امارات نے نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کا گروپ ہے۔
اس فیصلہ کو ان گروپوں اور ان کے غیر اعلانیہ قائد سعودی عرب کے لیے ایک بڑا دھچکا کہا جارہا ہے۔ یہ فیصلہ اایک ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی جنگ نے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی بحران پیدا کر دیا ہے اور عالمی معیشت کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیرِ توانائی سہیل المزروعی نے خبر رساں ادارے رؤئٹرز کو بتایا کہ یہ فیصلہ توانائی و تیل کے شعبے اور دیگر شعبوں کے ایک محتاط اور جامع سٹریٹجک جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے اوپیک اور اوپیک پلس کا رکن رہا ہے اور یہ قدم ایک موزوں وقت پر اٹھایا جا رہا ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز میں موجود پابندیوں کے تناظر میں اس سے منڈی پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔
یاد رہے اوپیک پلس تیل پیدا کرنے والے ممالک کا ایک اتحاد ہے، جس میں اوپیک کے رکن ممالک کے ساتھ روس سمیت چند غیر اوپیک ممالک بھی شامل ہیں۔ اس اتحاد کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی پیداوار اور قیمتوں کو متوازن رکھنا ہے۔
المزروعی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک خودمختار اور قومی فیصلہ ہے جو طویل المدتی سٹریٹجک اور معاشی نقطۂ نظر پر مبنی ہے۔ اس سے متحدہ عرب امارات کو اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور گیس کے شعبے میں دنیا کی مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ لچک کے ساتھ تعاون کا موقع ملے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب کے شہر جدہ میں جنگی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کا ایک سربراہی اجلاس آج جدہ میں منعقد ہو رہا ہے جس میں خطے کی تازہ ترین صورتِ حال پر غور کیا جائے گا۔
خلیج تعاون کونسل کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جی سی سی کے ممالک منگل کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک سربراہی اجلاس منعقد کریں گے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطہ تیز رفتار سیاسی اور سکیورٹی پیش رفت سے گزر رہا ہے اور توقع ہے کہ رہنما مشترکہ ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور علاقائی تعاون سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔