ایران کو ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ، طویل المدت بحری ناکہ بندی کا حکم

  • بدھ 29 / اپریل / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد ہوش میں آجائیں۔ ااپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر ٹرمپ نے لکھا کہ’ایران حالات ٹھیک نہیں کر سکتا۔ ایرانیوں کو معلوم ہی نہیں کہ جوہری ہتھیاروں سے پاک معاہدے پر دستخط کیسے کیے جاتے ہیں‘۔

امریکی صدر نے تنبیہ کی کہ بہتر ہے کہ وہ جلد ہوش کے ناخن لیں۔ ٹرمپ نے اس پوسٹ میں کیپشن کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی جس میں انہوں نے بندوق اٹھا رکھی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو ایران کے خلاف طویل المدتی بحری ناکہ بندی کی ہدایت  بھی کی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشیروں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف طویل المدتی بحری ناکہ بندی کی تیاری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ جاری رکھا جائے۔ ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی شپنگ کو روکا جائے، بمباری شروع کرنا یا تنازع سے باہر نکلنا ناکہ بندی برقرار رکھنے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہیں۔

دریں اثناترجمان امریکی سینٹ کام کے مطابق امریکی ناکہ بندی سے ایران کی سمندری تجارت متاثر ہوئی۔ امریکی افواج ایران آنے اور جانے والی تجارت کو روک رہی ہیں۔ چاہ بہار بندرگاہ پر جہازوں کی بڑی تعداد جمع ہے، چاہ بہار پر 5 جہاز ہوتے تھے، اب یہ تعداد بڑھ کر 20 سے زائد ہوگئی۔

دوسری جانب ایران نے یواین سیکرٹری جنرل کو خط میں امریکی ناکہ بندی کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی جہازوں کو روکنا اور اثاثے ضبط کرناسمندری قزاقی قرار دے دیا۔ایرانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ امریکا تحویل میں لئے گیے جہاز چھوڑنے کا حکم دے۔ امریکی اقدام کی علاقائی اور عالمی سکیورٹی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔  واشنگٹن کو ان اقدامات کے نتائج کی مکمل ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔

قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا  تھاکہ ایران نے خود کہا ہے کہ ان کا ملک اندر سے زوال پذیر ہے۔ امریکی صدر کے بقول ایران نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھول دے کیونکہ وہ قیادت کی صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے خیال میں ایران اس صورتحال سے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کسی بین الاقوامی ذریعے نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے۔

 اس دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 11 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا، جس کے دوران فریقین کے درمیان 21 گھنٹے طویل نشست ہوئی، ان کوششوں کے نتیجے میں سیزفائر ممکن ہوا اور اس میں توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیم نے خلوص نیت سے کردار ادا کیا۔جبکہ محسن نقوی کی کوششیں بھی قابلِ ستائش ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں تفصیلی مذاکرات ہوئے، بعد ازاں وہ عمان اور روس بھی گئے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان کا ایک ہفتے کا درآمدی بل 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے معاشی استحکام کی کوششوں پر اثر ڈالا ہے تاہم حکومت نے اجتماعی کاوشوں کے ذریعے صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔