جوہری معاہدے تک ناکہ بندی جاری رہے گی: ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ہونے تک بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کریں گے جب تک ایران جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو دور کرنے والے معاہدے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔ ایگزیوس کے مطابق بدھ کے روز ایک ٹیلی فون انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: ’ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں کسی حد تک زیادہ مؤثر ہے۔ انہیں جوہری ہتھیار نہیں مل سکتا۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کی جانب سے حالیہ پیشکش مسترد کر دی تھی جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات کی گئی تھی۔ کیونکہ اس سے جوہری مسئلے پر بات چیت مؤخر ہو جاتی۔
اس سخت گیر مؤقف اور فریقین میں اختلافات کی خببروں سے اس دوران خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہے۔ یہ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔
امریکہ اور ایران میں امن مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ مرکزی بحری گزر گاہ آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے اور اس وجہ سے رواں ہفتے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ میں بھی خام تیل کی قیمت 2.3 فیصد اضافے سے تقریباً 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔