امریکی استعماریت کے مدمقابل ایرانی تسلط کا خواب

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے  آبنائے ہرمز سے پیدا ہونے والے اقتصادی بحران اور مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازعہ کی قیمت پوری انسانیت ادا کررہی ہے۔ تاہم دوسری طرف تہران سے سامنے آنے والے بیانات سے  قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ایران امریکی عسکری طاقت کو خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سےنکال کر  خود علاقے میں سلامتی و تحفظ کا ذمہ دار بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ہونے والے بیانات سے یہ اندازہ کرنادشوار نہیں ہے  کہ ایرانی لیڈر امریکی جارحیت و استعماریت کا مقابلہ کرنے ہی کی بات نہیں کرتے بلکہ  وہ اب خود کو اس علاقے میں فیصلہ ساز قوت کے طور پر پیش کررہے ہیں۔  یہ رویہ درحقیقت تسلط، سیاسی بالادستی اور عسکری بلیک میل  کی وجہ بنتا ہے۔ ایران پر امریکی حملے کو غلط قرار دیتے ہوئے درحقیقت اسی اصول کی نشاندہی کی جاتی ہے کہ امریکہ کو بالادست قوت ہونے کے باوجود یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ  اپنی مرضی مسلط کرنے یا کسی ملک کو ایک خاص طرح کے فیصلوں پر مجبور کرنے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں  کرے۔ اسی اصول کی بنیاد پر  پوری دنیا  امریکی حملوں کو غلط قرار دیتی  ہے اور امریکہ کے طرز عمل  میں تبدیلی کی خواہاں  ہے۔

ایران کو ملنے والی ہمدردی یا دوسرے لفظوں میں امریکہ کے قریب ترین یورپی حلیفوں کی طرف سے  اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے سے گریز کی وجہ یہی اصول تھا  کہ امریکہ کو ایک خود مختار ملک پر حملہ کرکے طاقت کے بل بوتے پر مرضی مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔  حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اصولی مؤقف کو عالمگیر  تائید و حمایت ھاصل ہے کہ  ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ حتی کہ اس بحران میں  ایران کی سفارتی مدد میں  پیش پیش رہنے والے ممالک مثلاً چین و روس وغیرہ  بھی ایران کو ایٹم بم بنانےکا حق دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ایران ماضی قریب میں مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کے فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس  فتوی کے ہوتے ایران کبھی جوہری طاقت نہیں بنے گا۔ یہی دنیا کے لیے سب سے بڑی ضمانت ہونی چاہئے۔

 اس کے باوجود  ایران نے  مئی 2018 میں  ٹرمپ کی  طرف سے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدہ  کو مسترد کرنے کے بعد    عالمی نگرانی سےانکار کیا اور یورینیم کو60 فیصد تک افزودہ کرلیا۔ ماہرین کے خیال میں اس سطح کو بم کے لیے درکار  80 یا 90 فیصد تک لے جانے میں چند ماہ کی محنت درکار ہوتی ہے۔ بلکہ بعض ماہرین تو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ساٹھ فیصد  افزودہ یورینیم  بھی ’ڈرٹی بم‘  بنانے اور تابکاری پھیلانے  کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کے مستقبل کا سوال کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ایران اس ساڑھے چار سو کلو یورنیم کی ملکیت سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہے۔

اس پس منظر میں  رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کی طرف سے مستقبل کے عزائم کے بارے میں بیان  درحقیقت خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ پر ایرانی تسلط کا خواب بیان کرتا ہے۔ ایران کی موجودہ عسکری و معاشی حالت میں اس خواب کی تکمیل ممکن دکھائی نہیں دیتی لیکن ایران جیسے بڑے ملک کے لیڈر کی طرف سے آبنائے ہرمز کے لئے نئے اصول و ضوابط بناکر پورے علاقے کو سکیورٹی فراہم کرنے کی باتیں پورے ریجن کے  دارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجانے  سبب بنیں گی۔ مجتبی خامنہ کا تازہ بیان اس لحاظ سے  مختلف اور پریشان کن ہے کہ اس میں امریکہ کو تباہ کرنے کے نعرے  لگانے کے علاوہ پورے ریجن پر ایران کا تسلط نافذ کرنےکا دعویٰ کیا گیا ہے۔

یوم خلیج فارس کے موقع پر اپنے پیغام میں ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ ’خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا باب تحریر کیا جا رہا ہے۔ خلیج فارس کا روشن مستقبل امریکہ سے پاک ہو گا۔ اس خطے کے روشن مستقبل میں امریکہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔  آبنائے ہرمز کے نئے نظام پر عملدرآمد سے تمام ممالک مستفید ہوں گے۔ خلیج فارس میں عدم تحفظ کی بنیادی وجہ یہاں امریکی موجودگی ہے۔ امریکی اڈے خطے کے ممالک کی سلامتی کو یقینی  نہیں بنا سکتے۔  ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا اور دشمن کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کے استحصال کو ختم کرے گا۔ ایک دوسرے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ فساد برپا کرنے والے  غیرملکیوں  کی جگہ خلیج فارس کے پانیوں کی تہہ کے سوا کچھ نہیں ہے‘۔

امریکی بحریہ کو تباہ کرنے کا ایسا ہی دعویٰ  پاسداران کے ایک جنرل کے بیان میں بھی سامنے آیا ہے۔  پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر برگیڈئیر جنرل سید مجید موسوی نے کہا ہے کہ ’ ہم نے خطے میں آپ کے فوجی اڈوں کا انجام دیکھا ، اور ہم آپ کے جنگی بحری جہازوں کا انجام بھی دیکھیں گے‘۔ یہ براہ راست امریکی بحری بیڑے کو غرق کرنے کی دھمکی ہے ۔ اگرچہ  یہ دعویٰ ایران کی عسکری صلاحیت سے مماثلت نہیں رکھتا لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ ایرانی لیڈر دنیا بھر کی پریشانی اور شدید دباؤ کے باوجود امن کی بجائے جنگ، تباہی اور تسلط کی بات کررہے ہیں۔  ایسے بیان دیتے ہوئے ایرانی لیڈروں کو یہ احساس بھی نہیں ہے کہ وہ اپنی خود مختاری کی دہائی دیتے ہوئے  خطے کے تمام ممالک کے  خود مختارانہ فیصلوں پر حکم صادر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ورنہ کون سا ملک کس ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرتا ہے اور کس ملک کو اپنی سرزمین پر اڈے بنانے کی اجازت دیتا ہے، اس کا فیصلہ تہران میں موجود لیڈر نہیں کرسکتے۔

معروضی حالات اور دنیا میں پائی جانے والی معاشی  پریشانی کے ماحول میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئیتریس نے کہا ہے کہ’ آبنائے ہرمز کی مؤثر  بندش  عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ہی پابندیاں ہٹا بھی دی جائیں تو بھی سپلائی چینز کو بحال ہونے میں مہینوں لگیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیل، گیس، کھاد اور دیگر اہم اشیا کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس سے توانائی، نقل و حمل، صنعت اور خوراک کی منڈیوں میں خلل پیدا ہؤا ہے۔’ ہر تنازع کی طرح آبنائے ہرمز تنازعہ کی قیمت بھی پوری انسانیت ادا کر رہی ہے۔ اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے‘۔

اس دوران ایرانی وزیر خارجہ  عباس عراقچی نے متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے فون پر بات کے  ذریعے امریکہ مخالف سفارتی محاذ قائم کرنے کی کوششیں تیز کی ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے بھارت  کے وزیر خارجہ سے بات  کی اور آج سوٹزررلینڈ کے وزیر خارجہ کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ لیکن ایرانی لیڈر  یہ سمجھنے  سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی عالمی تنہائی کی واحد وجہ یہ ہے کہ  ایران کی انقلابی حکومت نے گزشتہ 47 سال میں اعتماد سازی کی بجائے انتشار اور بلیک میلنگ کی پالیسی اختیار کی۔ اب بھی آبنائے ہر مز کے سوال پر وہ پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال بنا ایران کی مرضی مسلط کرنے کی خواہش رکھتے  ہیں۔ کوئی لیڈر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی متوازن اور حقیقت پسندانہ  باتوں پر غور کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

انہیں  تو امریکہ کو ’شکست‘ دے کر مشرق وسطی پر ایران کی دھاک بٹھانے کی جلدی ہے یا  وہ اپنے ملک میں سیاسی اختلاف کرنے  والوں کو پھانسیاں دے کر عوام   میں خوف اور دہشت قائم  رکھنے کا اقدام  کررہے ہیں۔ آج ہی ایرانی عدلیہ  کے اعلان  میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں اصفہان میں احتجاج کرنے والے ایک 21 سالہ نوجوان کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ نوجوان کا نام  ساسان آزادوار جونغانی  بتایا گیاہے۔

اپنے نوجوانوں کو پھانسی دینے والی  اور خطے پر تسلط قائم  کرنے کا خواب دیکھنے والی ایرانی قیادت کے پاس اپنے عوام کی بہبود اور فلاح کا کوئی  منصوبہ نہیں ہے۔  حیرت نہیں  ہونی چاہئے کہ وہ دنیا کی تکلیف میں اپنی راحت کا راستہ تلاش کررہے ہیں۔