پاکستان ہی باقاعدہ ثالث ہے: ایران

  • جمعہ 01 / مئ / 2026

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں پاکستان باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس معاملے میں بہت سے ممالک مدد کے لیے تیار ہیں، تاہم مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث ہے۔‘

بی بی سی فارسی کے مطابق انہوں نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ اگر مذاکرات کے انعقاد کا فیصلہ ہوتا ہے تو ہم اس بارے میں باضابطہ طور پر سب کو مطلع کریں گے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ روس اور صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ سٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے کے تحت ایران اور روس کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور معاشی شعبوں میں وسیع تعاون موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایران مختلف ممالک کے ساتھ بات چیت کر کے اپنے مؤقف کی وضاحت کر رہا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ روس اور چین کے ساتھ اس سفارتی تعاون کے نتیجے میں ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ان کے بقول ’خطے کے بعض ممالک کی شرپسندانہ کارروائیوں‘ پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ پاکستان اب بھی امریکہ اور ایران میں کشیدگی کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے پرامید ہے۔  ’سفارت کاری کی گھڑی‘ رکی نہیں ہے۔

پاکستان بطور ثالث اب بھی کشیدگی میں کمی کی کوشش کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے پیغامات کا تبادلہ جاری رہنے کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔ اسی حوالے سے جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا: ’ہم خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی کے لیے اپنی مخلص کوششیں جاری رکھیں گے۔‘

بریفنگ کے بعد صحافیوں کی جانب سے کیے گئے مذاکرات کے حوالے سے سوالات پر طاہر اندرابی نے کہا کہ ’ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ بھی اسی تناظر میں تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اہم ملاقاتیں کیں۔ صورت حال یہ ہے سفارت کاری کی گھڑی رکی نہیں ہے۔‘ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ’سفارتی تبادلے اور رابطوں کے ذرائع کھلے رہے۔ سہولت کاری کا عمل جاری رہا، اور موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ہم دونوں فریقین کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے لیے فعال طور پر مصروف ہیں۔