امریکی صدر کی طرف سے ایران پردوبارہ حملوں کے اشارے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے خاتمے اور ایران پر دوبارہ حملوں کا اشارہ دیا ہے۔اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ممکنہ طور پر جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق سوال پر جواب دیا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس کی ضرورت ہے لیکن شاید پڑ بھی سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر لگائی گئی پابندیاں کامیاب ہیں، ایران تیل فروخت نہیں کرسکتا۔وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ایران کی معیشت تباہ ہوتی جارہی ہے، ایران کی 90 فیصد میزائل کی فیکٹریاں تباہ کردیں۔
صدر ٹرمپ بولے ایرانی قیادت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ وہاں اصل لیڈر کون ہے۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ ایران کو فٹبال ورلڈکپ میں شرکت کی اجازت دینی چاہیے۔
امریکی صدر نے کہا ایران جنگ ختم ہوتے ہی تیل وگیس کی قیمتیں فوراً کم ہوجائیں گی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز استعمال نہیں کرتے، ہمارے پاس بہت تیل ہے۔
دریں اثنا ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئیر عہدیدار نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی ختم ہو چکی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وار پاورز سے متعلق کانگریس کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کے پاس جمعے تک کا وقت ہے کہ وہ یا تو ایران کے ساتھ جنگ ختم کریں یا پھر اسے جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے رجوع کریں اور اس جنگ کی وجوہات پیش کریں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس عہدیدار نے انتظامیہ کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی ختم ہو چکی ہے۔‘
1973 کے قانون کے تحت صدر کو یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ کانگریس سے اجازت حاصل کیے بغیر 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ تاہم اس کے بعد یا تو اسے ختم کرنا ہو گا یا پھر مسلح افواج کی سلامتی کے لیے ’فوری فوجی ضرورت‘ کی بنیاد پر کانگریس سے اجازت یا 30 دن کی توسیع طلب کرنا ہو گی۔
اس دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات کے حوالے سے نئے آپشنز پیش کردیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بریڈ کوپر نے سچوئیشن روم میں ہونے والی بریفنگ کے دوران ممکنہ عسکری آپشنز پیش کیے۔ اگر صدر دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان میں ایک مختصر مگر طاقتور حملوں کی لہر شامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ اہداف میں ایران کے باقی ماندہ فوجی اثاثے، قیادت اور انفرا اسٹرکچر شامل ہو سکتے ہیں۔ بریفنگ میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی تازہ نقل و حرکت اور تعیناتیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق تین بڑے آپشنز زیرِ غور آئے، جن میں پہلا آپشن آبنائے ہرمز کے اطراف واقع چھوٹے جزیروں پر امریکی زمینی افواج کی ممکنہ تعیناتی سے متعلق تھا، جس کا مقصد اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنا ہو سکتا ہے۔
دوسرا آپشن خصوصی دستوں کو اصفہان کے علاقے میں بھیجنے کا تھا، تاکہ ایران کے 60 فیصد افزودہ یورینیم کو ہٹایا جا سکے۔ تیسرا آپشن ایران کے خلاف شدید امریکی فضائی و عسکری حملے تھے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون جدید ہتھیاروں کی تعیناتی پر بھی غور کر رہا ہے، جن میں ڈارک ایگل نامی ایک نیا ہائپر سونک میزائل شامل ہے۔ فوکس نیوز کے مطابق یہ نظام تقریباً 2 ہزار میل (3218 کلومیٹر) دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ممکنہ طور پر ایران کے باقی بیلسٹک میزائل لانچرز کو ہدف بنا سکتا ہے۔