سرکاری ہسپتال، خرابی کہاں ہے؟

خاتون سول جج کے علاج میں غفلت کے  باعث موت کے الزام میں، علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازیخان کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ابراہیم کو انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر معطل کر کے محکمہ صحت پنجاب لاہور کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 خاتون سول جج جو گردوں کے عارضے میں مبتلا تھیں اور ڈائیلسز کراتی تھیں، جب علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال پہنچیں تو ڈائیلسز کے لئے درکار مطلوبہ ادویات اور مشین خرابی کی وجہ سے دستیاب نہیں تھی جس کی وجہ سے سول جج کی موت واقع ہو گئی۔ اس پر  چار رکنی سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل انکوائری کمیٹی بنائی گئی  جسے بارہ گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔اس انکوائری کمیشن نے اس معاملے میں سینئر میڈیکل آفیسر کی غیر ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ اب اس انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر بھی کافی لے دے ہو رہی ہے کہ مشینوں کو درست رکھنا،ادویات کی فراہمی ہسپتال انتظامیہ خصوصاً ایم ایس کی ذمہ داری ہے، اسے کیوں بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔

 خیر یہ چونکہ ایک خاتون سول جج کی موت کا معاملہ تھا اِس لئے اس کی انکوائری کمیٹی بھی بن گئی،بروقت رپورٹ بھی آ گئی اور ڈاکٹروں نے اپنے ایک سینئر ساتھی کو اِس میں غفلت کا مرتکب بھی قرار دے دیا۔ تاہم عام حالات میں سرکاری ہسپتالوں میں کیا ہو رہا ہے،اس پر کسی کو نگاہ ڈالنے کی فرصت نہیں۔ غالباً بھکر کے ایک سرکاری ہسپتال کے باہر اپنے باپ کی موت پر نوحہ کناں دو بہنوں کی ویڈیو تھی جس میں رُو رُو کر کہہ رہی تھیں ہم صبح سے اپنے والد کو لے کر ہسپتال میں دھکے کھاتی رہیں کبھی ایک شعبے میں بھیج دیا جاتا اور کبھی دوسرے میں، کسی نے ہماری بات نہیں سنی۔ کئی شعبوں میں تو ڈاکٹر ہی موجود نہیں تھے، بالآخر اِس عالم میں اُن کے والد اِس دنیا سے رخصت ہو گئے۔وہ گڑ گڑا کے وزیراعلیٰ   مریم نواز سے پوچھ رہی تھیں اُن کے والد کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟

علاج کے بعد کسی کی موت واقع ہو جائے تو صبر آ جاتا ہے کہ خدا کو یہی منظور تھا مگر کوئی ڈاکٹر مریض کو دیکھے ہی نہ، تو تڑپ تڑپ کے جان دینا، ورثا کی جان نکال دیتا ہے۔ میرے کچھ شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے دوست ایسے معاملات میں ایک اور کہانی ڈھونڈ لاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں یہ نجی ہسپتالوں کے سہولت کاروں کی حکمت عملی ہوتی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کا ایسا نقشہ پیش کیا جائے کہ لوگ وہاں علاج کرانے کے لئے جاتے ہوئے سو مرتبہ سوچیں۔ کوئی ایک واقعہ پورے ہسپتال کی شہرت کو داغدار کر جاتا ہے۔حالانکہ ہسپتال کے عمومی حالات ایسے نہیں ہوتے۔ حکومت نے تو اپنی طرف سے بہت سخت قانون بنا دیئے ہیں۔ڈاکٹروں اور عملے کی بائیو میٹرک حاضری ہوتی ہے۔ دورانِ ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہے۔چند دن پہلے ایک ڈاکٹر اس کی پاداش میں نوکری سے برخواست بھی کیا جا چکا ہے۔ڈیوٹی ٹائم تک ہسپتال میں رہنے کی سخت پابندی بھی ہے۔ مگر اِس کے باوجود غفلت ہو جاتی ہے،کیوں ہو جاتی ہے؟ یہ کوئی ضد کا معاملہ  ہے یا عادت ہی بنا لی گئی ہے؟

میں نے زندگی بھر دو باتوں پر ہمیشہ یقین رکھا ہے۔ پہلی بات سرکاری  تعلیمی اداروں پر یقین ہے کہ وہ آج بھی نجی شعبے سے بہتر تعلیم دے رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ سرکاری ہسپتال نجی شعبے کے ہسپتالوں سے بہتر ہے۔اس یقین کی وجہ بہت سے شواہد اور بہت سی ذاتی معلومات اور تجربات ہیں۔اگر ہسپتالوں کا ذکر کیا جائے تو آج بھی طبی سہولتوں اور تجربہ کار ڈاکٹروں کے حوالے سے کوئی مقابلہ نہیں۔ آپ نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی فہرست اُٹھا کے دیکھیں تو ان میں سے اکثریت سرکاری ہسپتالوں کے ریٹائرڈ ڈاکٹروں کی ہو گی،پھر یہ بھی ہے کہ آپریشن بگڑ جائے یا علاج،ان ہسپتالوں میں الجھے معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔پھر سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ ان سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ تقریباً مفت ہوتا ہے۔کچھ ایسے اخراجات ہیں جو مریض کے لواحقین کو ادا کرنے ہوتے ہیں۔آپ لاہور کے پی آئی سی میں آپریشن کرائیں یا ملتان کے پرویز الٰہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں، اگر باری پر کرائیں گے تو سب کچھ مفت ہو جائے گا ۔اگر پرائیویٹ مریض کے طور پر کرانا چاہتے ہیں تو اُس کے اخراجات بھی عام نجی شعبے کے ہسپتالوں سے  کہیں کم ہوں گے۔ یہ بہت بڑی سہولت ہے۔

بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی طرف سے غفلت کی شرح بہت کم ہے کیونکہ وہاں چیک اینڈ بیلنس کا نظام سخت ہو چکا ہے ۔ اب غفلت کے معاملے میں ڈاکٹر ایک دوسرے کی حمایت نہیں کرتے، بلکہ سخت ایکشن کی سفارش کر دیتے ہیں۔ یہ چیزیں میں خود کئی ہسپتالوں میں دیکھ چکا ہوں،جہاں میرے سینئر ڈاکٹر دوست تعینات ہیں۔البتہ تحصیل ہیڈ کوآرٹرز ہسپتالوں میں خاص طور پر ابھی تک نظام بہتر نہیں ہو سکا۔ محکمہ صحت کے افسر جو اس شعبے کی نگرانی کے لئے موجود نہیں، وہ بھی اس لئے درگزر سے کام لیتے ہیں کہ کئی طبی سہولتیں اور ادویات محکمہ صحت ان ہسپتالوں کو فراہم ہی نہیں کرتا۔پھر ڈاکٹروں کی اکثریت ایسی بھی ہوتی ہے جو دوسرے شہروں سے روزانہ کی بنیاد پر ان تحصیل ہسپتالوں میں آتی ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے جلد واپس چلے جائیں۔جب کمٹمنٹ کا یہ عالم ہو تو شکایات ہی جنم لیتی ہیں۔

جب تحصیل یا ضلع ہیڈ کوآرٹرز کے ہسپتالوں میں لوگوں کو تسلی بخش علاج کی سہولتیں میسر نہیں آتیں تو وہ بڑے شہروں کے بڑے ہسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں۔ میو ہسپتال لاہور ہو یا نشتر ہسپتال ملتان،وہاں مریض دوسرے اضلاع بلکہ دوسرے صوبوں سے بھی آتے ہیں۔ پھر میڈیا یہ تصاویر دکھاتا ہے کہ ایک بیڈ پر دو دو مریض موجود ہیں۔ہر ہسپتال کی ایک استعداد ہوتی ہے،اُس سے تعداد بڑھ جائے تو کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔میرے نزدیک یہ محکمہ صحت اور اُس کے افسروں کی ناکامی ہے کہ وہ پرائمری ہیلتھ کے شعبے کو نچلی سطح تک فعال نہیں کر سکے۔

ہونا تویہ چاہئے کہ اگر تحصیل کی سطح کے ہسپتال میں تمام امراض کے ڈاکٹروں کی تقرری  مشکل ہے تو کم از کم ضلع کی سطح پر قائم سرکاری ہسپتال میں تو ہر علاج کی سہولت اور ماہر ڈاکٹر موجود ہوں،ادویات بھی اسی حساب سے فراہم کی جائیں۔ ایسا نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے سرکاری علاج گاہوں میں ایک ہڑبونگ مچی رہتی ہے اور خلق ِ خدا بے چارگی کے عالم میں دہائیاں دیتی ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)