کہیں تو بریک لگنی چاہیے
- تحریر خالد مسعود خان
- ہفتہ 02 / مئ / 2026
ملک کی معیشت ترقی ٔ معکوس کی طرف گامزن ہے۔البتہ تین چار چیزوں میں ترقی، بڑھوتری اور اضافہ ہو رہا ہے۔ ان میں سر فہرست ملکی آبادی ہے،مہنگائی ہے،بیوروکریسی کا سائز ہے اور رہائشی سکیمیں ہیں۔
ہر بڑا شہر مزید بڑے سے بڑا ہو رہا ہے۔ ہر پہلے سے بے تحاشا پھیلا ہوا شہر اپنے چاروں طرف مزید پھیل رہا ہے اور یہ معاملہ کہیں رکتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ اسلام آباد نے پھیلتے پھیلتے اتنے چکر لیے ہیں کہ آخرِکار چکری سے آن ٹکرایا ہے۔ چکری انٹرچینج کے بعد دائیں بائیں میلوں تک پھیلی ہوئی زمین پر کسی نہ کسی رہائشی سکیم کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ اسلام آباد کے بطن سے جنم لینے والی نئی ہاؤسنگ سکیمیں اب خود اسلام آباد کے مجموعی رقبے سے کئی گنا زیادہ پھیل چکی ہیں۔ صرف اسی طرف نہیں پشاور روڈ پر یہ پھیلاؤ سنگجانی سے آگے نکل چکا ہے۔ دوسری جانب بھارہ کہو،تیسری طرف روات اور چوتھی طرف پارک روڈ کی طرف،غرض جس طرف نظر دوڑائیں بلڈوزر لگے ہوئے ہیں، درخت کٹ رہے ہیں،زمینیں ’پدھری‘ ہو رہی ہیں اور رہائشی سکیمیں کھمبیوں کی مانند اُگ رہی ہیں۔
سمجھ نہیں آتا کہ یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر رکے گا۔ یہ اسلام آباد کا حال تھا۔ لاہور کا بھی یہی عالم ہے۔ رائیونڈ اور لاہور ایک ہو چکے ہیں۔ قصور لاہور کا حصہ بن چکاہے اور یہی حال شیخو پورہ کا ہے۔ شاید اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں شہباز شریف کے دور میں پنجاب حکومت نے ایک حکمنامے کے ذریعے قصور اور شیخوپورہ کو لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ماتحت کر دیا تھا۔ جی ٹی روڈ پر چھوٹے چھوٹے وقفوں کے ساتھ لاہور گوجرانوالہ کو اپنے دامن میں لے چکا ہے۔ بے چارے دریائے راوی کی کسمپرسی کا یہ عالم ہے کہ ہم نے سندھ طاس معاہدہ کر کے اس کا پانی بھارت کے حوالے کر دیا اور اس کی زمیں پر رہائشی کالونیوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔ کہیں سرکار نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنا کر اس زمین سے پیسے کمانے کا ذریعہ نکال لیا اور کہیں پرائیویٹ سیکٹر نے اس نشیبی زمین پر کالونیاں بنانا شروع کر دیں۔ دریا نے اپنا دامن خشک کر کے زمین کیا دی سرکار، بلڈرزاور رہائشی سکیموں کے مالکان اس زمین پر ٹوٹ پڑے اور صدیوں پرانے اس دریائی راستے کو رہائشی کالونیوں کی شکل دے دی گئی۔
ملتان نسبتاً کم کمرشل حیثیت کا شہر ہے لیکن دو چار بڑے اور لا تعداد چھوٹے ڈویلپرز یہاں بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت تعمیراتی وارداتوں میں مصروف ہیں۔ شہر کے برابر ایک اور شہر زیرِ تعمیر ہے۔ کھیت،کھلیان، زمین، باغات اور سبزہ آہستہ آہستہ سیمنٹ، سریے، اینٹ اور بجری کا جنگل بنتے جا رہے ہیں۔ شاہ جی سے دستگیری چاہی تو فرمانے لگے کہ جس تیزی سے ملک کی آبادی بڑھ رہی ہے اس حساب سے رہائشی سکیموں اور ان کے پھیلاؤ پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ مکان ہر شخص کا حق بھی ہے اور ضرورت بھی۔ اسے اس کی ضرورت کا حق ملنا چاہیے۔ اگر اس بڑھتی آبادی کے تناسب سے گھر نہ بنے تو ایک اور مصیبت کھڑی ہو جائے گی۔ بقول شاہ جی اگر ایک دو نجی ہاؤسنگ پروجیکٹس مالکان اس ملک میں رہائشی سہولتوں کا معیار بہتر اور بلند نہ کرتے تو ہم اب بھی انہی تنگ گلیوں،گنجان آباد رہائشی علاقوں، ایک دوسرے میں باہم پیوست گھروں اور دیگر لازمی سہولتوں کے بغیر والی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے۔ دور نہ جاؤ،تم اپنے رہائشی علاقے کو ہی دیکھ لو۔ یہ رہائشی علاقہ زیادہ پرانا نہیں۔ جب تم گلگشت ہائی سکول اور اس کے بعد ایمرسن کالج میں پڑھتے تھے تو ملتان شہر چھ نمبر چونگی پر باقاعدہ ختم ہو جاتا تھا۔ اس سے آگے کھیت اور باغات تھے۔ سارا زکریا ٹاؤن لہلاتے کھیتوں پر مشتمل ایک تختہ سبز تھایعنی یہ ساری آبادی محض 40 ،45 سال پرانی ہے۔
اس ٹاؤن میں داخل ہو جائیں تو یہ تنگ سی سڑک شیطان کی آنت کی طرح چلتی جاتی ہے اور کہیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ ڈیڑھ کلو میٹر سے زیادہ لمبی اس پچیس تیس فٹ چوڑی سڑک سے دو چار نہیں پینتالیس سے زیادہ گلیاں نکلتی ہیں۔ جہاں تک رسائی کے لیے صرف یہی ایک راستہ ہے۔ اس طویل اور تنگ سی سڑک کا نہ کوئی متبادل ہے اور نہ کوئی حال ہے۔ پچاس ساٹھ ہزار کی آبادی پر مشتمل اس علاقے کی یہ اکلوتی سڑک تقریباًساری کی ساری کمرشل دکانوں اور پلازوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔کمیونٹی سنٹر جیسی سہولت تو رہی تو ایک طرف یہاں کوئی پارک نہیں، کوئی کھیل کا میدان نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ڈیڑھ کلو میٹر سے زیادہ لمبی یہ سڑک بذات خود اس حال میں ہے کہ درجنوں جگہ سے سیوریج ڈالنے کے لیے کاٹی جا چکی ہے اور سوئی گیس والوں نے اس کی ایک سائیڈ کو شروع سے آخر تک اکھاڑ دیا تھا جو مہینوں سے مٹی کی بھرائی کے بعد پختہ مرمت کی منتظر ہے۔
ایک بڑی ہاؤسنگ سکیم کے مدارالمہام سے ملاقات ہوئی تو گفتگو کے دوران انہوں نے مجھ سے اپنے پروجیکٹ کے بارے رائے پوچھی۔ میں نے کسی لگی لپٹی کے بغیر کہا کہ جہاں تک ایک اچھی رہائشی کالونی کا تعلق ہے ملتان میں اس قسم کے پروجیکٹ کا آنا خوش آئند ہے۔ اس کے طفیل ملتان والوں کو بھی جدید طرز کی رہائشی اور تمدنی سہولتوں سے آراستہ منصوبہ بند کالونی میسر آئی ہے تاہم آپ کا پروجیکٹ ملتان کی اوقات سے بہت بڑا ہے۔ آپ پہلے سے موجود پانچ ہزار سال پرانے اس شہر کے پہلو میں اس کے برابر کا شہر آباد کرنے جا رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ کے بیشتر پلاٹ سرمایہ کاروں، پرائیویٹ ڈویلپروں اور کالے دھن والوں نے خریدے ہوئے ہیں۔ حقیقی خریداروں کے تعداد انویسٹرز کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہ پروجیکٹ بیس سال میں بھی آباد ہو جائے تو غنیمت جانیں۔ یہ ہزاروں ایکڑ زرخیز اور زرعی زمین پلاٹ بن کر عشروں تک مکان بننے کی منتظر رہے گی۔ وہ صاحب کہنے لگے کہ ہم نے یہ منصوبہ اس شہر کی اگلے پچاس سال میں بڑھنے والی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا ہے۔ میں نے کہا کیا آپ نے اتنی زیادہ زرعی زمین کو اگلے پچاس سال کی متوقع آبادی کو ذہن میں رکھ کر رہائشی کالونی بناتے ہوئے اس شہر کی آبادی کے لیے درکار زرعی پیداوار اور اناج کی ضرورت کو بھی سامنے رکھتے ہوئے فوڈ سیکورٹی کا کوئی بندوبست کیا ہے ؟ ان صاحب کے پاس کوئی شافع جواب نہ تھا۔ بلڈر اور پراپرٹی ڈیلر اگلے پچاس سال کا سوچ رہا ہے اور حکومت کل کا نہیں سوچ رہی۔
جس شخص کو جہاں لبِ سڑک، حتیٰ کہ کسی گلی میں بھی کوئی جگہ دل کو بھائے وہ وہاں دکانیں حتیٰ کہ پلازے بنا لیتا ہے۔ نہ کوئی پوچھنے والا اور نہ کوئی دیکھنے والا ہے۔ جس کے جو جی میں آتا ہے بنا لیتا ہے۔ کسی محکمے کی اجازت، منظوری یا نگرانی کا کوئی رواج نہیں۔ جو چاہے، جہاں چاہے اور جیسے چاہے بنا لے۔ آدھی دنیا گھومنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان میں فی کس دکانوں، پلازوں اور کاروباری مراکز کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ کچھ عرصہ سے رئیل اسٹیٹ میں کساد بازاری کے باعث مندے کا رحجان ہے وگرنہ بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے سے دوچار اس ملک میں پلاٹ بنانا، پلاٹ خریدنا،پلاٹ بیچنا اور پھر دوبارہ ،سہ بارہ خریدنا سب سے آسان، نفع بخش اور محفوظ کام بن کر رہ گیا ہے۔
جن ملکوں میں آبادی پہلے ہی زیادہ ہے اور اس میں روزافزوں اضافہ صورتحال کو مزید گمبھیر کر رہا ہے، وہاں رہائشی سہولتوں کے فروغ سے کہیں زیادہ ضرورت فوڈ سیکورٹی کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات کی ہے۔ رہائشی مسئلے کو کثیرالمنزلہ عمارات سے حل کیا جا سکتا ہے مگر زراعت کے لیے درکار زمین کی کمی کو زیادہ پیداوار سے ایک حد تک ہی پورا کیا جا سکتا۔ لیکن اس کی بھی کوئی حد ہے اور ہم ہر حد عبور کرتے جارہے ہیں۔ آخر کہیں تو بریک لگنی چاہیے۔ لیکن کیا کریں ؟ جنہوں نے بریک لگانی ہے وہی ایکسلریٹر دبائے گاڑی اڑائے جا رہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)