اسلحے کی دوڑ کا پیٹ کبھی نہیں بھرے گا
- تحریر وسعت اللہ خان
- ہفتہ 02 / مئ / 2026
کسی کو یہ جاننا ہو کہ انسان اور انسانوں کی تشکیل میں ریاستیں آپس میں کس قدر بدگمان اور حاسد ہیں تو فی زمانہ عسکریت کی عالمی دوڑ پر نگاہ رکھنے والے موقر اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( سپری ) کی ششماہی و سالانہ رپورٹیں پڑھنا کافی ہے۔
سال دو ہزار پچیس کی ہتھیار بند رپورٹ کے مطابق ہر برس کی طرح اس سال بھی ہتھیاروں کی تجارت میں لگ بھگ تین فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔ یعنی دو اعشاریہ اٹھاسی ٹریلین ڈالر کے ہتھیار خریدے اور بیچے گئے۔ گویا دنیا کے ہر انسان کے تحفظ کے نام پر صرف ایک برس میں فی کس ساڑھے تین سو ڈالر ہتھیاروں میں جھونک دیے گئے۔ یہ رقم مجموعی عالمی اقتصادی پیداوار کے ڈھائی فیصد کے برابر ہے۔ دو ہزار نو کے بعد کسی ایک سال میں اسلحے پر اتنا پیسہ نہیں لگایا گیا۔ یورپ کے دفاعی اخراجات میں صرف ایک برس میں چودہ فیصد اور ایشیا و بحرالکاہل خطے کے دفاعی اخراجات میں آٹھ اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوا ۔ عالمی سطح پر دو ہزار پچیس میں جتنے اخراجات ہوئے ان میں سے اٹھاون فیصد پانچ ممالک نے کیے ( امریکا ، چین ، روس ، جرمنی، بھارت )۔
امریکا ہر سال کی طرح دو ہزار پچیس میں بھی دفاعی اخراجات کا گرو رہا۔ امریکا کا دفاعی بجٹ نو سو چون بلین ڈالر تھا جو یکے بعد دیگرے چھ ممالک کے مجموعی دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ چین نے اس عرصے میں دفاع کے نام پر امریکا سے تین گنا کم یعنی تین سو چھتیس بلین ڈالر اور روس نے ایک سو نوے بلین ڈالر خرچ کیے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنا دفاعی بوجھ خود اٹھانے کی پالیسی کے دباؤ میں ناٹو کے یورپی اتحادیوں نے انیس سو تریپن کے بعد سال دو ہزار پچیس میں ہتھیاروں پر سب سے زیادہ پیسہ لگایا۔ یعنی بلجئیم کے دفاعی اخراجات میں انسٹھ فیصد ، سپین کے اخراجات میں پچاس فیصد ، ناروے کے اخراجات میں انچاس فیصد ، ڈنمارک کے اخراجات میں چھیالیس فیصد ، جرمنی کے اخراجات میں چوبیس فیصد ، پولینڈ اور کینیڈا کے دفاعی اخراجات میں تئیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
جرمنی نے دوسری عالمی جنگ میں شکست کے بعد اسلحے کی دوڑ میں شرکت سے بطور پالیسی توبہ کر لی تھی مگر اب امریکی ڈیفنس انشورنس کی شرائط میں بدلاؤ کے بعد ایک بار پھر انگڑائی لے کر کھڑا ہو گیا ہے اور گذشتہ برس دفاعی اخراجات کی عالمی فہرست میں امریکا، روس اور چین کے بعد جرمنی ایک سو چودہ ارب ڈالر صرف کر کے چوتھے درجے تک آ گیا۔
جاپان نے دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا کی جانب سے ’ایٹمی چھتری‘ کے بھروسے پر یہ پالیسی اپنائی کہ نہ ہتھیار بنائیں گے، نہ بیچیں گے۔ مگر ٹرمپ کی اپنا بوجھ خود اٹھاؤ پالیسی کے سبب جاپان نے گزشتہ برس دفاعی اخراجات کی مد میں باسٹھ ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے۔ کہنے کو یہ پیسہ جاپان کی کل قومی پیداوار کے محض ڈیڑھ فیصد کے برابر ہے مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یہ سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہے۔ جاپان اب ہر طرح کا ڈیفنس سسٹم اور بھاری زمینی ہتھیار بھی فروخت کر رہا ہے۔
تائیوان کے تحفظ کا بھی امریکا نے وعدہ کیا تھا۔ تاہم تائیوان نے بھی گزشتہ برس اپنے دفاعی اخراجات میں چودہ فیصد ( اٹھارہ بلین ڈالر ) اضافہ کیا۔ انیس سو اٹھاسی کے بعد سے یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔ دوسری جانب چین دفاعی طاقت کو دو ہزار پینتیس تک مکمل طور پر اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی پالیسی پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔ پچھلے تین عشروں سے چینی دفاعی بجٹ میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور گزشتہ برس بھی اس نے اس مد میں ساڑھے سات فیصد کا اضافہ کیا ۔
چار برس سے جاری روس یوکرین جنگ بھی مجموعی عالمی دفاعی اخراجات میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔ روس کے فوجی بجٹ میں دو ہزار پچیس میں ساڑھے سات فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ یوکرین اگرچہ عالمی دفاعی اخراجات کی فہرست میں ساتویں درجے پر ہے مگر فیصد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کے اخراجات میں ایک ہی برس میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ۔ اگلے برس مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ خلیج کے توانائی بحران کے سبب روسی تیل کی آمدنی میں اچانک کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور یوکرین کے لیے یورپی یونین نے لگ بھگ نوے ارب یورو کا نیا امدادی قرضہ منظور کیا ہے۔
مشرقِ وسطی کے اسلحہ خریداروں میں سعودی عرب پہلے نمبر پر ہے۔ اس نے گزشتہ برس اپنے دفاع پر تراسی ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے۔ جبکہ اسرائیل کے فوجی اخراجات انچاس ارب ڈالر رہے۔ مگر ان اعداد میں اربوں ڈالر کی وہ امریکی دفاعی گرانٹس شامل نہیں ہیں جو اسرائیل کو غزہ کی ساڑھے تین برس سے جاری نسل کشی کے دوران ملی ہیں۔ اس کے برعکس ایران کے دفاعی اخراجات میں گزشتہ برس ساڑھے پانچ فیصد کی کمی آئی حالانکہ ایران میں افراطِ زر کی شرح اس وقت چالیس فیصد سے اوپر ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھارت ہمیشہ سے فوجی اخراجات میں آگے آگے رہا ہے۔ موجودہ عالمی فہرست میں وہ پانچویں نمبر پر ہے۔ گزشتہ برس نو فیصد اضافے کے ساتھ بھارت نے بانوے بلین ڈالر خرچ کیے۔ یہ اخراجات پاکستان کے دفاعی اخراجات کے مقابلے میں ’محض‘ اسی ارب ڈالر زائد ہیں۔ براعظم افریقہ نے مجموعی طور پر دو ہزار پچیس میں اٹھاون ارب ڈالر خرچ کیے ۔یہ رقم دو ہزار چوبیس کے مقابلے میں اگرچہ ساڑھے آٹھ فیصد زائد ہے ۔یعنی پورے براعظم کے اخراجات جاپان کے دفاعی خرچے سے بھی کم ہیں۔ افریقہ میں سب سے زیادہ پیسہ الجزائر نے لگایا۔ اس نے کل قومی آمدنی کا پچیس فیصد ہتھیاروں پر خرچ کر دیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے رواں برس کے لیے کانگریس سے ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کا ریکارڈ دفاعی بجٹ منظور کروایا ہے۔ اگلے برس کے لیے ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جبکہ ایران امریکا جنگ میں ٹرمپ انتظامیہ صرف چالیس دن میں پینتالیس ارب ڈالر جھونک چکی ہے۔
پس ثابت ہوا کہ انسان کی جبلی بد اعتمادی اور ہوس آنے والے برسوں میں بھی موت کے سوداگروں کا منافع بخش کھلونا بنی رہے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس نیوز)