پاگل اور عاقل

دنیاوی مفہوم میں پاگل اور عاقل دو متضاد ذہنی کیفیات کا نام ہے مگر سائنسی اور نفسیاتی اعتبار سے عقل مند اور پاگل یا جنونی میں فرق بہت پیچیدہ ہے ۔ علم نفسیات کو باقاعدہ سائنس کی شکل دینے والے سگمنڈ فرائڈ کا خیال ہےکہ نارمل اور ابنارمل لوگ بنیادی طور پر مختلف نہیں ہوتے۔

دونوں میں غیرشعوری خواہشیں اور اندرونی تضادات ہوتے ہیں۔ ابنارمیلٹی یا جنون تب پیدا ہوتا ہے جب ان تضادات کو انسان سنبھالنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ فریڈرک نطشے ، جس نے سپرمین کا تصور دیا، کہتا ہے کہ آپ جسے پاگل سمجھتے اور کہتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ شعور کی اس سیڑھی پر ہو جس کو ابھی آپ سمجھ ہی نہ سکے ہوں۔ نطشے بھیڑ چال کے مطابق چلنے والے یعنی نارمل انسان سے کوئی مثبت توقع نہیں رکھتا۔ وہ جنونی سے توقع رکھتا ہے کہ وہ سماجی اور فکری زنجیریں توڑ کر کچھ نیا کرے گا۔ گویا عاقل کون ہے اور پاگل کون ہے، اس بارے میں ہر زمانے اور ہر فرد کی اپنی اپنی توجیہ ہوتی ہے۔

ایران امریکہ جنگ کے دونوں فریقوں میں سے پاگل کون ہے اور عاقل کون؟ ایران کی رائے ہے کہ صدر ٹرمپ پاگل اور جنونی ہے جبکہ صدر ٹرمپ روز بیان دیتا ہے کہ ایران والے پاگل ہیں جو تباہی کروانے کے بعد بھی مزید تباہی کو دعوت دے رہے ہیں۔ ہم پاکستانی سمجھتے ہیں کہ ہم عاقل ہیں اور عقل کا استعمال کرتے ہوئے ہم ایران اور امریکہ کی جنگ بندی کروانے میں تو کامیاب ہو چکے ہیں، مزید کوشش کی گئی تو دونوں کا سفارتی لانگ ٹرم معاہدہ امن بھی طے پا سکتا ہے ۔ یہ اندازے اور خواہشات ایک نقطہ نظر کی ترجمانی کرتے ہیں جبکہ دوسرا نقطہ نظر کہتا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں کے فیصلہ ساز ابنارمل بلکہ پاگل ہیں۔ دونوں اپنی اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ دونوں کو نارمل گفتگو، امن کا ماحول اور صلح کی طرف پیش رفت کے آداب سے آگاہی نہیں۔

دونوں طرف بڑبولے ہیں، سوچ سمجھ کر بات کرنے والے نہیں۔ بلکہ آگ کو بھڑکانے والے جنونی ہیں۔ اس نقطہ نظر کے مطابق پاکستان بظاہر دو پاگلوں کے درمیان عاقل وثالث کا کردار ادا کر رہا ہے مگر دو پاگلوں کی لڑائی میں عاقل بھی دیوانے ہی ہو کے نکلتے ہیں ۔ پاگل پن سے عقل مندی کا راستہ نکالنا انتہائی مشکل بلکہ قریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ’کوئلوں کی دلّالی میں منہ کالا‘ والے محاورے کے مصداق پاگلوں کی ثالثی میں خود پاگل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے تجویز کیا جاتا ہے کہ پاکستان سفارت کاری کے اس ناممکن مشن سے جلد نکل جائے۔ پاکستان اس جنگ بندی کے دوران بارہا یہ ثابت کر چکا ہے کہ پاکستان کی نیت نیک ہے اور اس کی خواہش صرف اور صرف دونوں ملکوں کے درمیان قیام امن ہے۔

پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی سے دنیا بھر میں بہت عزت ملی۔ وہ ملک جو برسوں سے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا رہے تھے، وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ پاکستان امن کی علامت بن کر ابھرا ہے۔ وہ کام جو کبھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل یا سلامتی کونسل کے اراکین کیا کرتے تھے، فیلڈ مارشل اور شہباز شریف نے اپنے ذمّے لیا اور اسے کامیابی سے نبھایا۔ ہر طرف سے پاکستان کے خلوص اور کوششوں کی تعریف ہوئی ایران جو مسلمان ملکوں کی بھی کم ہی سنتا ہے، وہ پاکستان کی سنتا رہا اور امریکی صدر ٹرمپ جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتے، عرب شہزادوں تک کا مذاق اڑاتے ہیں ،وہ بھی بار بار فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تعریف کرتے رہے۔ اور ان کی کوششوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے۔ عقل کا تقاضا اب یہ ہے کہ جتنی عزت مل گئی ہے، اسی پر اکتفا کیا جائے۔ یہ دو پاگلوں کی ایسی جنگ ہے جس میں دونوں کو عقل سے نہیں نتائج سے سمجھ آئے گی اور خدشہ یہ ہے کہ اگر ہم دو پاگلوں میں اسی طرح الجھے رہے تو ہماری عقل و دانش پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔

ہمیں دنیا نے ثالثی کی وجہ سے عاقل قرار دیا اور ہماری ثالثی کی بنیادی وجہ خلوص اور امن کی خواہش تھی۔ مگر ہمارے ہاں ہر چیز میں اعتدال سے بڑھنے کی جو روایت موجود ہے، وہ اس ثالثی میں بھی نظر آئی۔ امریکہ اور ایران کی جنگ میں دونوں جنگی فریقوں کے دارالحکومت پوری طرح کھلے تھے اور عام زندگی رواں دواں تھی۔ مگر ہمارے ہاں جنگ نہ ہونے کے باوجود ثالثی کی خوشی میں اسلام آباد کئی دنوں تک مکمل بند رہا اور وجہ وی آئی پی کی نقل و حرکت بتائی گئی ۔ یہ توجیہ عاقلوں والی نہیں پاگلوں والی تھی۔ ایک مخصوص علاقہ یا کوئی عمارت بند کر دی جاتی۔ پورے اسلام آباد کو بند کرنا بے تکی بات تھی۔ اسکولوں کو بند کرنے کی وجہ توانائی کے بحران پر قابو پانا ہے مگر خبریں تو یہ ہیں کہ صرف پاکستانی جھنڈے والے جہازوں کو تیل لے کر گزرنے کی اجازت تھی۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر اسکول بند کرنے، شاہراہوں پر رفتار کم کرنے، سر شام زندگی کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی منطق کیا تھی۔

یہاں یہ بھی کہنے دیجئے کہ ہماری حد سے بڑھی ہوئی خوش امیدی اور توقعات بعض اوقات حقائق کو تسلیم کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ بطور ثالث خوش امیدی قائم رکھنا سفارتی تکنیک تو ہے مگر ایرانی قیادت سے بالمشافہ مل کر اور امریکی قیادت کو جان کر یقین ہو جانا چاہئے کہ امریکہ اس وقت تک یہ جنگ بند نہیں کرے گا جب تک ایران میں رجیم چینج نہیں ہو جاتا۔ اس سے کم کوئی بھی شرط ٹرمپ کو فتح کا تاج نہیں دلا سکتی۔ دوسری طرف پاسداران انقلاب امریکہ سے معاہدہ امن کرکے اندرونی طور پرشکست کا الزام نہیں لے سکتے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو واضح طور پر گرا کر وکٹری اسٹینڈ پر کھڑے ہونا چاہتےہیں۔ اگر واقعی ایران اور امریکہ پاگل پن کی اس حد کو چھو رہے ہیں تو پاکستان کو بھی اپنے کردار کا عاقلانہ جائزہ لینا چاہئے اور یہ طے کرلینا چاہئے کہ پاکستان نے جو حاصل کرنا تھا، کرلیا۔ اب اس سے آگے بڑھنے کی گنجائش بہت کم ہے اور مزید آگے بڑھنے میں پاکستان نے جو کمایا ہے، اس کے کھونے کا امکان زیادہ ہے۔

سب سے زیادہ خطرہ اور اندیشہ اس بات کا ہے کہ تاحال پاکستان نے امریکہ اور ایران دونوں سے برابر کا سلوک روارکھا ہے اور دونوں اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ مگر جونہی ایک فریق کو لگے گا کہ وہ ہار رہا ہے یا معاہدہ اس کے خلاف گیا ہے یا جنگ بندی کے نتائج اس کیلئے اچھے نہیں نکلے تو لامحالہ اس احتمال کو رد کرنا مشکل ہے کہ ایک فریق پاکستان کو جانبدار قرار دے دے گا۔ ثالثی پر سوال اٹھائے گا اور پاکستان نے کمال سفارت کاری سے جو کمایا ہے، اسے ضائع کرنے کی کوشش کرے گا۔

عاقل اور پاگل میں جو باریک فرق ہے، اس کو سمجھتے ہوئے ہمیں پاگل پن کے دائرےسے عقل مندی کے مدار میں آنا ہوگا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : سہیل وڑائچ

???? ????? ??? ?? ????? ????? ??? ????? ???? ???? ?? ???? ???? ?????? ??? ????? ?? ????? ?? ??? ?? ????? ?? ??? ? ?? ?? ???? ???? ????? ???? ?? ???? ??? ???? ???? ??? ????? ?? ?? ????? ??? ???? ????? ????? ??? ?? ?? ????? ?? ??????? ??? ???? ?? ??? ???? ??