ایران کے نئے پندرہ نکات، مستقل جنگ بند کرنے کا مطالبہ
ایران نے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی نو نکاتی تجاویز کے جواب میں اپنا مؤقف واشنگٹن کو پہنچا دیا ہے، جس میں بنیادی زور ’جنگ کے خاتمے‘ پر دیا گیا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکہ تک پہنچائی جانے والی تجاویز کے حوالے سے چند تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کی جنگ کے حوالے سے نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’امریکہ نے اپنے تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم ایران نے واضح کیا کہ تمام معاملات 30 دن کے اندر حل ہونے چاہییں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہونی چاہیے۔
ایران کی جانب سے واشنگٹن پہنچائی جانے والی 14 نکاتی تجویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔
تسنیم کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ان تجاویز پر امریکہ کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔ تاہم اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔‘