وزیراعظم کی امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ
وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ایکس پر ایک بیان میں انہوں نے امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان یو اے ای میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں اپنے اماراتی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان جنگ بندی کا ہر صورت احترام اور اس پر مکمل عملدرآمد نہایت ضروری سمجھتا ہے۔ تاکہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے یو اے ای پر چار میزائل داغے گئے، تاہم اماراتی فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔
ایران سے داغے گئے تین میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں گر کر ناکارہ ہو گیا۔ میزائلوں کا ہدف ابوظہبی کی اہم تنصیبات تھیں، تاہم کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کے مطابق ملک کی فضائیہ اور میزائل دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور سرزمین و عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دوسری طرف پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ یو اے ای ایران پر حملوں میں ملوث ہے، فجیرہ پر حملے جوابی ردعمل تھا۔
دریں اثنا ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے واقعات واضح کرتے ہیں کسی سیاسی بحران کا فوجی حل ممکن نہیں۔ امریکہ کسی کے کہنے پر دوبارہ دلدل میں نہ پھنسے، خطے کی صورتحال کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کو بھی محتاط رہنا چاہئے، پراجیکٹ فریڈم دراصل پراجیکٹ ڈیڈ لاک ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات سے متعلق تجاویز پر ملکی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی۔عباس عراقچی نے ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جہاں انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے دوران پیش کی جانے والی تجاویز اور سفارشات سے اراکین کو آگاہ کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کونسل کو خطے میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے جاری کوششوں سے متعلق تازہ پیش رفت پر بھی اعتماد میں لیا۔ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹیوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مذاکرات میں ایران کے مفادات کو اولین ترجیح دی جانی چاہئے۔