سپریم کورٹ اور آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں: سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ میں سب سے زیادہ اختیار کے سوال پر اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں بلکہ آئینی طور پر خودمختار عدالتیں ہیں۔ کوئی ایک عدالت دوسری کی اپیلیٹ اتھارٹی نہیں ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے یکم اپریل 2026 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کیا۔ 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے کے مطابق عدالت کے سامنے تین سول پٹیشنز، ایک سول متفرق درخواست اور توہینِ عدالت کی فوجداری نوعیت کی دو درخواستیں زیرِ سماعت تھیں، جن میں بنیادی نکتہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد دائرہ اختیار کے تعین سے متعلق تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے طے کیے گئے قانونی اصول دیگر عدالتوں پر لاگو ہوں گے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک عدالت دوسری کے تابع ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 175 ایف کے تحت ہائی کورٹس کے وہ مقدمات جو آئینی دائرہ اختیار، یعنی آرٹیکل 199 کے تحت آتے ہیں، اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوں گے۔ جبکہ دیگر سول یا فوجداری اپیلیں بدستور آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ میں ہی سنی جائیں گی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے میں لکھا کہ آرٹیکل 189(1) کو 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد کے آئینی ڈھانچے کے تناظر میں پڑھا جانا چاہیے جو سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ تقسیم ہر عدالت کو مختلف نوعیت کے مقدمات میں خصوصی اختیار دیتی ہے اور اس سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ ایک عدالت دوسری کے ماتحت ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آرٹیکل 189(1) کی وسیع تشریح کا مطلب یہ ہو گا کہ ایک اعلیٰ عدالت کو دوسری کے تابع کر دیا جائے جو آئین میں کہیں درج نہیں۔
عدالت کے مطابق آرٹیکل 189(1) عدالتوں کے آزادانہ اختیارات کو ختم نہیں کرتا۔