صدر ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر پراجیکٹ فریڈم روک دیا

  • بدھ 06 / مئ / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی رہنمائی کے لیے امریکی آپریشن کو ’کچھ وقت کے لیے‘ روکا جا رہا ہے۔ ایک دن قبل شروع ہونے والا ’پراجیکٹ فریڈم‘ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی جانب ’بڑی پیش رفت‘ ہونے کے باعث روکا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ’پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر‘ کیا ہے، جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

ایران کے خلاف مہم میں غیر معمولی عسکری کامیابی ملی۔ اور پراجیکٹ فریڈم قلیل مدت کے لیے معطل کیا جائے گا کہ دیکھا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے ٹرمپ کے اس اعلان کو ایران کی فتح قرار دیا اور کہا کہ یہ وقفہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سمندری تجارت کے لیے اہم آبی گزر گاہ کو دوبارہ کھولنے میں مسلسل ناکامیوں کے بعد ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے۔

امریکی صدر کا یہ اعلان ایسے وقت آیا جب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا حملہ، آپریشن ایپک فیوری، اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد مکمل ہو چکا ہے۔ مگر پراجیکٹ فریڈم مختلف اور دفاعی کارروائی ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم معطل کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں شہباز شریف نے لکھا: ’پاکستان، سعودی عرب اور دیگر برادر ممالک کی درخواست پر صدر ٹرمپ کا مثبت رد عمل خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔‘

دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بیجنگ کے دورے پر ہیں جہاں ان کی چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات ہوئی ہے۔ خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران صرف ایک ’منصفانہ اور جامع معاہدہ‘ ہی قبول کرے گا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایرانی ہم منصب سے کہا کہ چین دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ پر ’شدید تشویش‘ کا شکار ہے اور اس صورتحال میں ایک ’جامع جنگ بندی‘ ناگزیر ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ایرانی وزیر خارجہ کا چین کا پہلا دورہ تھا۔ اے پی کے مطابق ملاقات کے دوران وانگ یی نے کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ فوری طور پر ایک جامع جنگ بندی کی ضرورت ہے، جنگ کا دوبارہ شروع ہونا قابل قبول نہیں۔ اور یہ خاص طور پر ضروری ہے کہ مکالمے اور مذاکرات کے لیے عزم برقرار رکھا جائے‘۔