لندن کی فضاؤں میں اردو کی خوشبو
- تحریر فہیم اختر
- بدھ 06 / مئ / 2026
شام کا رنگ آہستہ آہستہ گہرا ہو رہا تھا اور لندن کی فضا میں ایک خاص سی ادبی خنکی در آئی تھی۔ گھر سے تیار ہو کر جب باہر قدم رکھا تو ذہن میں ایک ہی خیال گردش کر رہا تھا کہ آج کی یہ محفل محض ایک مشاعرہ نہیں بلکہ اردو کی ایک اور زندہ روایت سے ملاقات ہے۔
ڈاکٹر اکرم شیخ کے ہمراہ سفر کا آغاز ہوا تو راستے کی روشنیوں اور شہر کی مصروف خاموشی کے درمیان گفتگو بھی اسی ادبی ماحول میں ڈھلتی چلی گئی، جیسے ہر لمحہ کسی شعر کی صورت اختیار کر رہا ہو۔نیو مالڈین کے اس ہال کی طرف بڑھتے ہوئے دل میں ایک مانوس سا انتظار تھا۔وہی انتظار جو ہر ادبی نشست سے پہلے ایک خاص کیفیت پیدا کرتا ہے۔ دروازے کے قریب پہنچتے ہی جب قدم اندر کی طرف بڑھے تو فضا میں اردو لفظوں کی بازگشت محسوس ہونے لگی۔ اور اسی لمحے معروف شاعر غالب ماجدی نے نہایت گرمجوشی اور محبت کے ساتھ استقبال کیا، جیسے کسی ادبی کارواں کی پہلی رسمِ خیر مقدم ادا ہو رہی ہو۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی آغاز نہیں تھا بلکہ اس شام کے اس پورے ادبی سفر کا پہلا روشن استعارہ تھا، جس نے آنے والی محفل کو پہلے ہی لمحے میں ایک خاص وقار اور اپنائیت عطا کر دی۔
بزمِ اردو لندن کا عالمی عید ملن مشاعرہ اردو ادب کے ان خوبصورت اور یادگار ادبی اجتماعات میں سے ایک تھا جو نہ صرف زبان و ادب کی خدمت کرتے ہیں بلکہ مختلف خطوں میں بسنے والے اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے تہذیبی رشتوں کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ یہ محفل ہفتہ 25 اپریل کو نیو مالڈین لندن کے میتھوڈسٹ چرچ ہال میں منعقد ہوئی، جہاں علم و ادب کے چراغ روشن کرنے والے اہلِ سخن نے اپنی فکر انگیز تخلیقات سے محفل کو وقار اور حسن عطا کیا۔اس بزم کی صدارت جناب عقیل دانش نے فرمائی، جن کی موجودگی نے نشست کو ایک سنجیدہ اور بامعنی ادبی وقار عطا کیا۔ نظامت کے فرائض جناب سہیل ضرار خلش نے نہایت خوش اسلوبی، روانی اور متوازن انداز میں انجام دیے، جس سے محفل کی فضا میں تسلسل اور دلکشی برقرار رہی۔ نظامت کا فن محض الفاظ کو جوڑنے کا نام نہیں بلکہ سامعین اور شعرا کے درمیان ایک ہم آہنگ ربط قائم کرنے کا ہنر ہے، جس میں موصوف کامیاب رہے۔
اس محفل کی خاص بات برلن سے تشریف لائے ہوئے ممتاز ادیب، ناول نگار، افسانہ و سفرنامہ نگار جناب سرور غزالی کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت تھی۔ ان کی علمی شخصیت اور ادبی خدمات نے محفل کو بین الاقوامی رنگ عطا کیا اور اردو زبان کی وسعت اور اثر انگیزی کو ایک بار پھر نمایاں کیا۔ان کی نظم "مٹی کے مادھو"بہت عمدہ تھی۔ محفل کا آغاز محترمہ تانیہ حسن کی جانب سے بزمِ اردو لندن کے تعارف سے ہوا، جس کی بنیاد ان کے والد مرحوم سید حسن کیفی نے 1986 میں رکھی تھی۔ اس تعارف نے نہ صرف بزم کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ اس تسلسل کو بھی نمایاں کیا جو کئی دہائیوں سے اردو ادب کی خدمت میں جاری ہے۔اس موقع پر راقم نے بھی بطور شاعر شرکت کی سعادت حاصل کی۔جبکہ مشاعرے میں لندن کے مختلف علاقوں سے تشریف لائے ہوئے شعرائنے اپنے تازہ، فکری اور جذباتی اشعار سے سامعین کو محظوظ کیا۔ ان شعراء میں نجمہ عثمان، رفعت شمیم، مصطفیٰ شہاب، انجم شہزاد، فہیم اختر، احسان شاہد، منان قدیر منان، کامران زبیر کامی، سعید شان کانپوری، راشد ماہی، صالحہ عندلیب، مزمل صابر، ڈاکٹر ابراہیم عاجز، آفتاب احمد، تانیہ حسن، صدف خان اور دیگر اہلِ سخن شامل تھے۔ ہر شاعر نے اپنے منفرد اسلوب اور فکر سے محفل کو رنگا رنگی بخشی اور اردو شاعری کی روایت کو آگے بڑھایا۔
یہ مشاعرہ اس بات کی روشن مثال تھا کہ اردو شاعری آج بھی اپنے اندر وہ تاثیر رکھتی ہے جو دلوں کو جوڑتی، فکر کو جلا بخشتی اور تہذیبی شناخت کو مضبوط کرتی ہے۔لندن اور برطانیہ کو طویل عرصے سے اردو زبان و ادب کا تیسرا بڑا مرکز کہا جاتا رہا ہے۔ برصغیر سے باہر، دہلی اور لاہور کے بعد ایک ایسا شہر جہاں اردو مشاعروں، ادبی تنظیموں اور ثقافتی سرگرمیوں نے اپنی ایک مضبوط روایت قائم کی۔ مگر آج کے حالات میں یہ سوال زیادہ سنجیدگی سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا واقعی لندن اب بھی" اردو کا تیسرا مرکز"ہے یا یہ صرف ایک خوبصورت ادبی دعویٰ بن کر رہ گیا ہے؟
برطانیہ اور اس کی راجدھانی لندن میں اردو ادب کی تاریخ نسبتاً پرانی نہیں مگر نہایت مؤثر رہی ہے۔ 1950 سے لے کر 1990 کی دہائیوں میں ہجرت کرنے والے ادیب، شاعر اور استاد جب یہاں آباد ہوئے تو انہوں نے ادبی حلقے، مشاعرے اور انجمنیں قائم کیں۔ انہی کوششوں سے بزم اردو لندن جیسے ادارے وجود میں آئے، جنہوں نے نہ صرف مقامی سطح پر اردو کو زندہ رکھا بلکہ پاکستان، بھارت اور یورپ کے دیگر ممالک سے شعرا کو بھی جوڑا۔اس دور میں مشاعرہ صرف تفریح نہیں تھا بلکہ شناخت، وابستگی اور زبان کے تحفظ کا ذریعہ تھا۔ اردو بولنے والی کمیونٹی کے لیے یہ محفلیں اپنی تہذیب سے جڑے رہنے کا واحد سماجی راستہ تھیں۔مگر آج صورتِ حال کافی مختلف ہے۔ نئی نسل جو برطانیہ میں پیدا اور پروان چڑھی ہے، اس کا اردو سے رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ زبان کا فاصلہ صرف لسانی نہیں بلکہ ثقافتی بھی ہے۔ نوجوان نسل کے لیے مشاعرہ اکثر ایک روایتی یا بزرگوں کی محفل بن کر رہ گیا ہے، جس سے وہ جذباتی یا فکری طور پر پوری طرح جڑ نہیں پاتے۔دوسری طرف، ادبی محفلوں کی ساخت بھی بڑی حد تک وہی پرانی ہے،طویل نشستیں، رسمی انداز، اور بعض اوقات ایک ہی طرح کی شاعری۔ یہ عوامل مل کر نئی نسل کی دلچسپی کو مزید کم کر دیتے ہیں۔
اگر ہم مرکز کو صرف مشاعروں کی تعداد یا ادبی تنظیموں کی موجودگی سے ناپیں تو شاید یہ دعویٰ کسی حد تک برقرار رکھا جا سکے۔ لیکن اگر ہم زندہ ادبی تحریک، نئی تخلیقی آوازوں، تنقیدی مکالمے اور نوجوان شرکت کو معیار بنائیں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ یا یہ مرکزیت واقعی فعال ہے یا محض تاریخی شناخت؟آج اردو کا تخلیقی مرکز صرف مشرقی شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل دنیا نے اسے ایک عالمی زبان بنا دیا ہے۔ آن لائن میگزین، یوٹیوب مشاعرے، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے روایتی ادبی مرکزیت کے تصور کو چیلنج کیا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ روایتی مشاعرے نقصان کا باعث ہیں۔ انہوں نے اردو کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر بیرون ملک۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب روایت خود کو بدلنے سے انکار کر دے۔اگر مشاعرے صرف ایک ہی طرز کے موضوعات، ایک ہی لہجے اور ایک ہی سامعین تک محدود رہیں تو وہ بتدریج اثر کھو دیتے ہیں۔ ادبی سرگرمی اگر نئی نسل کو ساتھ نہ ملا سکے تو وہ رفتہ رفتہ ایک بند حلقہ بن جاتی ہے۔اصل ضرورت روایت کے خاتمے کی نہیں بلکہ اس کی تجدید کی ہے۔ اگر لندن کو واقعی اردو کا تیسرا مرکز برقرار رکھنا ہے تو اسے نئی نسل کے لیے قابلِ فہم اور قابلِ رسائی بنانا ہوگا۔
لندن اب بھی اردو ادب کا ایک اہم مرکز ہے، مگر اس کی مرکزیت اب روایت پر زیادہ اور تحریک پر کم قائم نظر آتی ہے۔ اگر یہ روایت خود کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ کر لے تو یہ مرکزیت نہ صرف برقرار رہ سکتی ہے بلکہ مزید مضبوط بھی ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہ ایک تاریخی شناخت بن کر رہ جائے گی۔اردو زبان کی اصل طاقت اس کی لچک اور جذب کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ اگر یہ لچک ادبی اداروں اور مشاعروں میں بھی پیدا ہو جائے تو لندن واقعی ایک زندہ ادبی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے۔
آٹھ بجنے کے بعد جب مشاعرے کی فضا اپنے عروج پر تھی اور شعرا اپنے اپنے رنگ بکھیر رہے تھے، اسی لمحے نظامت کی جانب سے ایک نہایت بامعنی اور قابلِ توجہ اعلان وقفے اور نمازِ مغرب کی ادائیگی کا ہوا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے محفل کے ادبی تسلسل کو وقتی طور پر ضرور منقطع کیا، مگر اس کے ساتھ ہی ایک اور سطح پر اجتماعیت اور تہذیبی وقار کو نمایاں کر دیا۔ہال میں موجود شعرا ہی نہیں بلکہ سامعین کی بڑی تعداد بھی اس اعلان کے ساتھ احتراماً اٹھ کھڑی ہوئی۔ کوئی رسمی جھجھک، کوئی غیر ضروری توقف نہیں،بلکہ ایک فطری سا بہاؤ تھا جو سب کو ایک ہی سمت لے گیا۔ چند ہی لمحوں میں ہال کا ماحول بدل گیا؛ جہاں کچھ دیر پہلے اشعار کی گونج تھی، وہاں اب سکون، انکسار اور عبادت کی کیفیت چھا گئی۔یہ منظر بظاہر سادہ تھا مگر اپنی معنویت میں نہایت گہرا۔ ادب اور عقیدت کا یہ امتزاج اس بات کی روشن مثال تھا کہ تہذیبی محفلیں صرف لفظوں کی بازی گری نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اندر اجتماعی شعور اور روحانی وابستگی کو بھی سموئے رکھتی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے بعد جب لوگ دوبارہ نشست کی طرف لوٹے تو محفل میں ایک نئی تازگی، ایک نیا توازن اور ایک اور طرح کی سنجیدگی پیدا ہو چکی تھی۔گویا ادب نے عبادت سے توانائی لے کر پھر سے اپنا سفر شروع کیا ہو۔
ادبی محفل اپنی جگہ، مگر اصل امتحان اکثر وقفے میں سامنے آتا ہے اور یہاں بھی کچھ مختلف نہ تھا۔ مشاعرے کے درمیان جب ذرا سا وقفہ آیا تو ہال کے ایک کونے میں سموسے، چھولے، مٹھائی اور نمک پاروں کی وہ ادبی خدمت سجی ہوئی تھی جس نے فوراً ماحول کا رخ سنجیدہ شاعری سے ہلکے پھلکے ذوقِ طعام کی طرف موڑ دیا۔یوں محسوس ہوا جیسے شعر و سخن کی محفل ایک لمحے کو باورچی خانے کی توسیع بن گئی ہو۔ بعض اہلِ ذوق نے اشعار پر جتنا غور نہیں کیا تھا، اس سے کہیں زیادہ سنجیدگی ان سموسوں کے انتخاب میں دکھائی کہ کون سا پہلے لیا جائے اور کون سا بعد میں، یہ بھی ایک طرح کا ادبی فیصلہ معلوم ہوتا تھا۔چھولوں کی خوشبو نے کئی سنجیدہ سامعین کو بھی مصرعہ چھوڑ کر لقمہ کی طرف مائل کر دیا۔ مٹھائی نے روایتی شیرینی کا حق ادا کیا اور نمک پاروں نے ثابت کیا کہ مشاعرے صرف لطافتِ فکر کا نہیں بلکہ ذائقے کے توازن کا بھی نام ہیں۔تھوڑی دیر کے لیے یوں لگا کہ یہاں شعر و ادب کے ساتھ ساتھ معدے کی بھی ایک باقاعدہ نشست ہو رہی ہے، اور حاضرین دونوں میدانوں میں یکساں کامیابی حاصل کرنے کے مشن پر تھے۔
اس محفل میں ایک اور پہلو میرے لیے ذاتی طور پر نہایت اہم اور جذباتی تھا۔وہ تھی معروف ادیب، ڈرامہ نگار، شاعراور دانشور جناب رفعت شمیم کی شرکت۔ ان کی موجودگی نے اس ادبی نشست کو صرف ایک مشاعرے تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے یادوں، نسبتوں اور فکری رشتوں کی ایک لڑی میں پرو دیا۔رفعت شمیم ان شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے ادب کے سفر میں نہ صرف رہنمائی کا کردار ادا کیا بلکہ حوصلہ بھی دیا اور راستہ بھی دکھایا۔ میری ابتدائی ادبی تربیت اور لکھنے پڑھنے کے شوق کو جلا بخشنے میں ان کی حوصلہ افزائی اور تعمیری تنقید ہمیشہ ایک بنیادی حوالہ رہی ہے۔ خاص طور پر میری پہلی کتاب "ایک گریزاں لمحہ"کی اشاعت کے مرحلے میں ان کی سرپرستی اور عملی تعاون ایک ایسا احسان ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا میرے لیے ممکن نہیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ بعض رشتے محض ملاقاتوں یا رسمی تعلقات تک محدود نہیں رہتے بلکہ وقت کے ساتھ وہ فکری اور جذباتی وابستگی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ رفعت شمیم کی شخصیت میرے لیے اسی نوعیت کی ہے۔ایک ایسا حوالہ جس کے بغیر میرے ادبی سفر کا ابتدائی باب مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ ان کا احسان ایک ایسی یاد ہے جو نہ وقت کے ساتھ دھندلی پڑتی ہے اور نہ ہی لفظوں میں پوری طرح بیان کی جا سکتی ہے۔
محفل کے اختتام پر یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ بزم اردو لندن نہ صرف ایک ادبی ادارہ ہے بلکہ ایک ایسا تہذیبی پل ہے جو مختلف ممالک میں بسنے والے اردو ادب کے شائقین کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ مرحوم سید حسن کیفی کی اس کاوش نے لندن میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے جو بنیاد رکھی، وہ آج بھی مضبوطی سے قائم ہے اور نئی نسلوں کو اپنی تہذیبی وراثت سے جوڑ رہی ہے۔لندن کی فضاؤں میں اردو کی خوشبو اس مشاعرے کے ذریعے یوں رچ بس گئی جیسے برسوں سے بچھڑی ہوئی کوئی محبت اچانک لوٹ آئی ہو۔ اس محفل نے یہ ثابت کیا کہ زبانیں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں، بلکہ دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ مشاعرے میں گونجتے اشعار کبھی ہنسا گئے، کبھی رُلا گئے اور کبھی ماضی کی یادوں میں لے گئے۔
یہ محض ایک ادبی نشست نہیں تھی بلکہ ایک احساس تھا، ایک تہذیب تھی جو سمندر پار بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ جب محفل اپنے اختتام کو پہنچی تو یوں لگا جیسے لفظوں کی یہ خوشبو ابھی بھی فضا میں تیر رہی ہے اور دلوں میں دیر تک مہکتی رہے گی۔