امی جان کے بغیر جنم دن پر اپنے لیے پرسہ جیون کہانی (1)

یوں تو امی جان کی رخصتی کے بعد کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں جب ان کی یاد نہ آئی ہو۔ لیکن مئی کا مہینہ شروع ہوتےہی اداسی نے کچھ اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا کہ اسے ضبط ِ تحریر میں لانے کی بھی ہمت نہیں۔

لیکن پہلے آپ کو 1983 کی ایک یاد میں شامل کرتا ہوں۔ یہ وہ برس تھا جب ہم نے صحافت کے خارزار میں قدم رکھا تھا ۔ والدہ صاحبہ کو ہم بچپن سےمحنت کرتے دیکھ رہے تھے ۔ ہم اس برس کے اوائل میں جلیل آباد والے گھر میں منتقل ہو گئے ۔ یہاں آتے ہی میں نے روزگار کی تلاش شروع کر دی ۔ تعلیم ابھی صرف میٹرک تھی، نوکری کہاں ملنا تھی۔ لیکن ہمارے چچا ظہیر نے ایک روز ہم سے ایک درخواست لکھوائی اور ریلوے میں جمع کرا دی ۔ ریلوے میں ان دنوں اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کی اسامیاں آئی تھیں ۔ چچا کا خیال تھا ہم اگر ریلوے میں بھرتی ہو گئے تو پھر آنے والے دنوں میں سٹیشن ماسٹر بھی بن جائیں گے ۔

24 نومبر 1983 کو ڈی ایس آفس ملتان کے گراؤنڈ میں ہمارا ٹیسٹ تھا ( یہ تاریخ ہمیں اس لیے بھی نہیں بھولی کہ اس روز فلم سٹار وحید مراد کے انتقال کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تھی)۔  ٹیسٹ میں شامل ہونے کا حکم ملا تو انکار کی گنجائش ہی نہیں تھی ۔ امی کی بھی خواہش تھی کہ ہم یہ امتحان ضرور دیں کہ سرکاری ملازمت مل گئی تو زندگی میں کچھ آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ ٹیسٹ مشکل بھی نہیں تھا ۔ ہم اس میں آسانی سے کامیاب ہو کر اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر بھرتی ہو سکتے تھے۔ لیکن ہم دانستہ اس امتحان میں ناکام ہو گئے کہ ہمیں کسی قسم کی ماسٹری قبول نہیں تھی۔ سب گھر والے خاص طور پر امی جان اس پر بہت آزردہ ہوئیں ۔ لیکن اسی برس تین چار ماہ بعد اپریل کے مہینے میں ہمیں نذیر قیصر صاحب کی وساطت سے روزنامہ سنگِ میل میں 600 روپے ماہوار پر ملازمت مل گئی۔ اور ہم نے امتیاز روحانی صاحب کے اخبار میں کام شروع کر دیا۔

امی کی خوشی اس روز دیدنی تھی۔ انہوں نے ہمیں مزدور پتر کہنا شروع کر دیا۔ اور یکم مئی کو وہ ہمیں مزدوروں کے عالمی دن کے حوالے سے جنم دن کی بھی پیشگی مبارک باد دے دیتی تھیں۔ جب تک وہ حیات رہیں میں اس روز ان کی دعائیں ضرور لیتا تھا ۔ وہ میرے جنم دن پر ایک پنجابی کا گیت بھی گاتی تھیں:

رضی الدین چوہدری دیوان خانے بہوے

حوراں پریاں پکھا جھلن ، نور پیا ورہے

( رضی الدین چوہدری دیوان خانے میں بیٹھے ، حوریں اور پریاں اسے پنکھا جھلیں اور اس کے چہرے سے نور برسے )۔۔

واپس سنگِ میل اخبار کی جانب آتا ہوں ۔۔ 1983 میں جنوری کی کسی تاریخ کو اپنے والد کی برسی کے موقع پر ہم نے ’آہ رضی الدین رضی‘ کے عنوان سے ایک مزاحیہ کالم تحریر کر دیا ۔ اخبار گھر آتا تھا اور میرے جاگنے سے پہلے امی وہ کالم پڑھ چکی تھیں۔ کالم پڑھنے کے بعد وہ خوب روئیں۔ دوبارہ ایسا کالم نہیں لکھنا ۔۔ یہ ان کا حکم تھا اور ہم نے ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگ لی ۔۔

ہماری سالگرہ 1980 کے عشرے سے منائی جانے لگی ۔ اس سے پہلے سالگرہ منانے کا کوئی ایسا زیادہ رواج بھی نہیں تھا۔ ممکن ہے رواج بھی ہو لیکن ہمیں اس سے پہلے کی سالگرہ یاد ہی نہیں۔ ہاں امی کو یہ دن یاد ہوتا تھا۔ وہ مجھے مبارک باد دیتی تھیں کہ آج تمہاری سالگرہ ہے۔ انہوں نے ہی بتایا تھا کہ اس روز جمعرات بھلی مراد تھی کہ ان کی شادی کے دو برس بعد ہم پیدا ہوئے تھے۔ ذی الحج کا مہینہ تھا اور شدید گرمی تھی۔۔

1983 میں ہم جلیل آباد منتقل ہوئے تو سال گرہ باقاعدہ منائی جانے لگی۔ جاوید ماموں ہمارے ساتھ ہوتے تھے اور بیکری پر کام کرتے تھے۔ وہ اس دن کے لیے ہر سال تو نہیں لیکن کبھی کبھار کیک بھی بنا لاتے۔ یہ سادہ کیک کا زمانہ تھا۔ ابھی کیک پر آج کی طرح کریم سے نام لکھنے کا چلن نہیں ہوا تھا۔ امی جان کو میٹھا بہت پسند تھا۔ ہم سب بہن بھائی کیک کھاتے اور امی کے لیے کچھ ٹکڑے الگ بھی رکھ دیئے جاتے کہ وہ جاب چاہیں چائے کےساتھ کھا لیں ۔

لیکن ماؤں کے حلق میں اولاد کے بغیر کوئی لقمہ کب جاتا ہے۔۔ وہ کیک بھی ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ آخر کو ہمارے حصے میں ہی آنا ہے۔ (جاری)

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)