متحدہ عرب امارات پر حملے کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 07 / مئ / 2026
مڈل ایسٹ میں اگرچہ ہنوز جنگ کے بادل امڈ رہے ہیں لیکن الحمداللہ پاکستان کی ثالثی میں کروائی گئی جنگ بندی ختم نہیں ہوئی، امریکا اور ایران میں اندرخانے بالواسطہ مذاکرات کا تسلسل نہیں ٹوٹا۔
اچھی خبر یہ ہے کہ اب وقت کے ساتھ ایرانی پاسداران کے شدت پسندانہ موقف میں بھی خاصی لچک آتی جا رہی ہے۔ اگرچہ کھلے بندوں وہ اپنی مضبوطی یا فتح دکھانے پر مصر ہیں، مجبوریاں ہر دو اطراف ہیں۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ جیسا ڈکٹیٹر ذہن، شتر بے مہار امریکی پریزیڈنٹ ہے جس کے عوام اپنے ملک کو جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتے۔ تازہ سروے کے مطابق بتیس فیصد امریکی، ایران امریکا جنگ کے حمایتی رہ گئے ہیں۔ اوپر سے طاقتور امریکی جمہوری سسٹم کی تلوار ٹرمپ کے سر پر لٹک رہی ہے، جیسے کہ امریکی آئین صدر کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر ساٹھ دن سے زیادہ جنگ کو طول دے سکے۔ کانگریس میں ڈیموکریٹس کے بالمقابل ریپبلکنز کو پہلے ہی کوئی ہیوی میجارٹی حاصل نہیں ہے اور پھر چند ماہ بعد جو مڈٹرم الیکشن آ رہے ہیں، ایسے میں ریپبلکنز کو اپنی کمزور میجارٹی کھو دینے کا خوف غالب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ڈیموکریٹس ہی نہیں ریپبلکنز کی بھی مجبوری ہے کہ وہ اپنے پریزیڈنٹ پر یہ دباؤ ڈالیں کہ وہ جنگ کو طول دینے سے باز رہیں۔ اگرچہ پریزیڈنٹ ٹرمپ اس نوع کے ریفرنسز دیتے ہیں کہ ویتنام، افغانستان اور عراق میں امریکی جنگیں کتنے طویل دورانیے کی تھیں لیکن کانگریس کا موڈ دیکھتے ہوئے انہوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ بندی کر چکے ہیں اور ہم اسے دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے۔
ان دنوں ایران نے اپنے ہمسایہ امریکی اتحادی ملک یونائیٹڈ عرب امارات پر جو میزائلز اور ڈرونز داغے ہیں یا آبنائے ہرمز میں موجود امریکی نیوی کے قریب جو فائرنگ کی ہے، اس پر بھی امریکا نے یہ کہا ہے کہ ان حملوں کے باوجود ہم جنگ بندی کو برقرار رکھیں گے۔ لیکن ایسے بیانات کے باوجود امریکی اتنے ملائم نہیں ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی خلیجی ناکہ بندی کے ذریعے ایران کی معاشی شاہ رگ کو دبوچ رکھا ہے اور ایران کا ناطقہ مزید بند کرنے کے لیے “آپریشن پروجیکٹ فریڈم” کا آغاز کرتے ہوئے امریکی گائیڈڈ میزائل شکن بحری جہازوں کو تدریجاً آگے بڑھا رہے ہیں۔
ایرانی رجیم کے لیے یہ صورت حال جنگ سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ ایک وقت اسلامی پاسداران یہ سوچ رہے تھے کہ وہ آبنائے ہرمزسے گزرنے والے تیل بردار جہازوں سے ٹول ٹیکس کے نام پر بھاری بھتہ وصول کرتے ہوئے اپنے جنگی نقصانات کا ازالہ کر سکیں گے۔ اور اب حالت یہ ہے کہ ان کی اپنی واحد معاشی امید یا سپلائی لائن بالفعل کٹی پڑی ہے۔ خارگ جزیرے پر محفوظ خام تیل کی لمٹ ختم ہونے کے بعد تیل کے کنووں کو رواں رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ ایران اپنے میزائلز یا ڈرونز سے امریکا پر براہ راست کوئی حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ اسرائیل سے چھیڑ خانی کی تو ادھر سے بھی منہ توڑ جواب آئے گا۔ ایسے میں اسلامی پاسداران کے پاس یہی گنجائش بچتی ہے کہ وہ اپنے عرب ہمسایہ ممالک پر غصہ نکالیں جس سے امریکیوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈلوایا جا سکے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی پاسداران نے چار اور پانچ مئی کو متحدہ عرب امارات پر ڈرونز کے علاوہ بیلسٹک اور کروز میزائلز بھی فائر کیے ہیں۔ اماراتی حکام اور قطری ذرائع کے مطابق ان ایرانی حملوں کے نتیجے میں فجیرہ پورٹ پر آئل کمپلیکس میں آگ بھڑک اٹھی، تین انڈین ورکرز زخمی بھی ہوئے اور امارات کی تیل کمپنی ایڈنوک کے آئل ٹینکر کو سٹریٹ آف ہرمز میں نشانہ بنایا گیا۔ یہاں ساؤتھ کوریا کے بحری جہاز کو بھی آگ لگی۔ نتیجتاً امارات کو اپنے تعلیمی ادارے ایک مرتبہ پھر بند کرنے پڑے اور امارات کے ایئرپورٹس پر اترنے والی پروازوں کو دیگر خلیجی ممالک کی جانب موڑنا پڑا۔ محض تیس منٹس کی بندش سے سات سو اماراتی فلائٹس متاثر ہوئیں۔ سب سے بڑے دبئی ایئرپورٹ کو بند کرنا پڑا۔
ایرانی رجیم کا یہ بھی ایشو ہے کہ فارن آفس اور اسلامی پاسداران کی قیادتوں سے متضاد نوعیت کے بیانات آتے ہیں، کہیں نفی کی جاتی ہے کہیں قبول کیا جاتا ہے۔ بہرحال جنگ بندی کے باوجود یونائیٹڈ عرب امارات پر ایرانی حملوں کی پوری دنیا میں مذمت کی جا رہی ہے۔ امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، جرمنی، فرانس، انڈیا، کویت، اومان، بحرین اور سعودی عرب سمیت پاکستان نے بھی عرب امارات پر ہونے والے ان افسوسناک اور بلاجواز حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ پاکستانی پرائم منسٹر نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان امارات کی قیادت حکومت اور عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ فائربندی کا احترام ناگزیر ہے۔ یونائیٹڈ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النیہان سے بات کرتے ہوئے امارات میں شہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کی مذمت کے ساتھ یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ مشکل گھڑی میں ہم اپنے اماراتی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے بھی امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النیہان کے ساتھ اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فون پر اظہار یکجہتی کیا اور کہا آپ تنہا نہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں، حالانکہ امارات نے اوپیک کو تازہ تازہ چھوڑا ہے۔ اس کے باوجود سعودی کراؤن پرنس نے بلاجواز ایرانی حملوں کی نہ صرف نام لے کر کھلے الفاظ میں سخت مذمت کی بلکہ امارات کے لیے خیرسگالی اور یکجہتی کی پوری یقین دہانی کروائی، پنجابی محاورہ ہے “گرا گدھے سے غصہ کمہار پر‘۔ اپنے ایرانی بھائیوں سے تمام تر محبتوں کے باوجود اسلامی پاسدارن کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ لوگوں کا سارا زور اپنے عرب خلیجی مسلمان ہمسائیوں پر ہی کیوں نکلتا ہے؟ اگر ٹرمپ نے آپ کی معاشی رگ پر انگوٹھا رکھا ہے تو اپنے میزائلوں کا رخ امریکی بحری بیڑوں یا اسرائیلی فوجی اڈوں کی طرف کرو، دوڑ دوڑ کر ان عرب ہمسایہ ممالک پر ہی چڑھائی کیوں کرتے ہو؟ جنہوں نے آپ پر حملے کیے ہیں، اتنے تگڑے ہیں تو ان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دو۔
سعودی عرب، کویت، قطر، اومان، بحرین یا متحدہ عرب امارات نے تو اپنے اوپر ہونے والے آپ کے بلاجواز حملوں کا جواب تک نہیں دیا، جوابی طور پر بھی کوئی حملہ نہیں کیا۔ پھر بھی آپ لوگوں کا غصہ اپنے برادر اسلامی ممالک پر کیوں ہے؟ اگر ان ممالک میں امریکی فوجی اڈے ہیں تو وہ اڈے کیا عراق میں بھی نہیں ہیں؟ وہ امریکی فوجی اڈے دنیا کے بیسیوں ممالک میں ہیں، کون سا براعظم ہے جہاں امریکی فوجی اڈے نہیں؟ دنیا بھر میں امریکی فوجی اڈے کوئی ساڑھے سات سو سے بھی زائد ہیں۔ کیا دوسرے ممالک کو اپنی مرضی سے اپنے فیصلوں کا حق بھی نہیں؟ کیا وہ اپنی خارجی پالیسی یا اپنے دفاعی معاہدے آپ لوگوں سے پوچھ کر طے کریں کہ پاسداران کیا چاہتے ہیں؟
جنگ سے قبل بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تمام خلیجی ممالک نے امریکا کو قائل کرتے ہوئے آپ لوگوں کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ ہمارے ممالک میں موجود امریکی اڈوں سے ایران پر حملے نہیں ہوں گے۔ اور پوری دنیا گواہ ہے کہ انہوں نے اپنے اس عہد کی پاسداری کی۔ امریکا کو حملوں کے لیے کیا اپنے دیو ہیکل بحری بیڑے ہی کافی نہیں ہیں؟ اور پھر خطے میں اسرائیل جیسی امریکی اتحادی فوجی طاقت موجود ہے۔ اسرائیلی تنازع عربوں کا مسئلہ ہے۔ کیا ان عرب ممالک نے آپ کو کہا تھا کہ آپ تیسری نکر سے اٹھ کر اسرائیل دشمنی کو اپنا جینا مرنا بنالیں؟ کیا ان عرب ممالک نے آپ سے یہ کہا تھا کہ آپ لوگ یمن، شام، عراق اور لبنان میں اپنی دہشتگرد جنگجو پراکسیاں پالیں؟ خوشحال ایرانی عوام کو بھوکا مار کر غزہ میں حماس سے خوفناک بارودی سرنگیں بنوائیں؟ اسرائیل پر حملے کروائیں؟ ان کے بچے ماریں اور اپنے بچے مروائیں؟ کسی بھی شخص کو اتنا ہڈ اٹھانا چاہیے جتنے جوگا وہ ہے۔
آج اس جنونیت سے نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اسلامی پاسداران سے ایرانی عوام بھی بیزار ہو چکے ہیں لیکن پھانسیوں کے خوف سے دبکے بیٹھے ہیں۔ کیا اندر خانے آپ لوگ پاکستان کے ذریعے ٹرمپ کو یہ پیغام نہیں بھیج رہے ہیں کہ ہم یورینیم کی افزودگی بھی تین اشاریہ پانچ فیصد تک قبول کرنے کو تیار ہیں؟ امریکی ناکہ بندی کی اذیت ختم کروانے کے لیے آپ خلیجی ممالک سے امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے کی شرط بھی چھوڑنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں؟ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر عدم جارحیت کا ایسا جامع معاہدہ پرپوز کر رہے ہیں جس میں اسرائیل کی پوری طرح نہ صرف شمولیت ہو بلکہ اسرائیلی ضمانت بھی ہو؟
آبنائے ہرمز میں اپنی بچھائی بارودی سرنگوں کو بھی اپنے ہاتھوں صاف کرنے کے لیے تیار ہیں؟ سو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، عرب دشمنی کا کیڑا بھی اپنے دماغ سے نکال دیں؟ عرب بھائیوں کو اپنا بھائی سمجھیں۔