آتش فشاں کی آواز سُنیے!
- تحریر حامد میر
- جمعرات 07 / مئ / 2026
ہم ایک آتش فشاں کے دہانے پر کھڑے ہیں ۔ ہمارے قدموں کے نیچے زیر زمین کافی گڑ بڑ ہے ۔ اس گڑ بڑ کا پتہ لگانے کیلئے زمین کے ساتھ کان لگانے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہماری زیادہ توجہ زمین کے اوپر جاری گڑبڑ پر ہے ۔
زمین کے اوپر جاری گڑ بڑ کا زیرِ زمیں گڑ بڑ سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ہمیں صرف وہ آتش نظر آتی ہے جو نفرت کی صورت میں انسانوں کے دل و دماغ میں بھڑک رہی ہے ۔ اس آتش کا نتیجہ جنگ و جدل اور قتل وغارت کی صورت میں نظر آ رہا ہے لیکن جو آتش فشاں زمین کے نیچے ہے وہ صرف ایک قوم و ملک نہیں بلکہ پورے خطے اور پوری دنیا کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے ۔ اس آتش فشاں کو سمجھنے کیلئے ہمسایہ ملک بھارت کی ریاست مغربی بنگال چلتے ہیں۔ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے لیکن چند دن قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سپریم کورٹ آف انڈیا اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی مدد سے مغربی بنگال میں الیکشن جیت کر کولکتہ میں بھی جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ۔
مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی ممتا بینرجی 2011 سے وزیراعلیٰ تھیں ۔ انہوں نے مغربی بنگال کی 27 فیصد مسلم آبادی اور 23 فیصد دلت آبادی کی مدد سے یہاں بی جے پی کا راستہ روک رکھا تھا۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت نے مسلمان اور دلت ووٹروں کو غیر موثر کرنے کیلئے ایک طویل منصوبہ بندی کی۔ سب سے پہلے تو سٹیزن شپ ایکٹ 2019 کے ذریعہ لاکھوں مسلمانوں کی شہریت منسوخ کی گئی۔ جو باقی بچے اُن کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کردئیے گئے۔ مغربی بنگال کے حالیہ الیکشن میں ووٹر لسٹوں سے 90 لاکھ سے زائد مسلمان اور دلت ووٹروں کو نکال دیا گیا اور 7 لاکھ نئے ووٹر شامل کئے گئے ۔ مختلف حلقوں کو ٹارگٹ کر کے ووٹر لسٹوں میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں کہ مغربی بنگال کی 294 میں سے 207 نشستیں بی جے پی کو دے دی گئیں۔ جب ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری ہوئی تو ممتابینرجی سپریم کورٹ میں چلی گئیں لیکن وہاں سے اُنہیں انصاف نہ ملا ۔ بی جے پی نے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے علاوہ میڈیا کو بھی ترنمول کانگریس کے خلاف استعمال کیا ۔
ترنمول کانگریس کی انتخابی شکست کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس نے مغربی بنگال کے مختلف شہروں میں مسلمانوں پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔ ان حملوں کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ مغربی بنگال کی 27 فیصد مسلم آبادی کے نوجوان آر ایس ایس کا مقابلہ کرنے کیلئے عسکریت کا راستہ اختیار کرلیں گے۔ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش پہلے ہی مغربی بنگال اور آسام میں سرگرم ہے۔ اب اُسے مزید افرادی قوت مل جائے گی۔ اس جماعت کی کارروائیوں کا الزام بنگلہ دیش پر لگایا جائے گا۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں تناؤ بڑھے گا۔ بی جے پی کی پالیسیوں سے پورے بھارت میں مسلمان پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ ہوجائیں گے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی ظلم بڑھے گا اور ظلم کے خلاف مزاحمت بڑھے گی۔ اس مزاحمت کا الزام بھی پاکستان پر آئے گا۔
بھارت کی طرف سے افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت بڑھے گی اور یوں پاکستان اور افغانستان میں بھی تعلقات بگڑیں گے ۔ بھارت میں جمہوریت کے کمزور ہونے سے جو گڑ بڑ پھیلے گی، وہ آگ بن کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لےلے گی ۔ جمہوریت کی کمزوری سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل آمریت یا مطلق العنانیت نہیں ہوتی ۔ اب ذرا غور کریں کہ مغربی بنگال کے الیکشن کے بارے میں عالمی میڈیا جو کچھ کہہ رہا ہے کیا وہی کچھ 2024 میں پاکستان کے الیکشن کے بارے میں نہیں کہا گیا تھا ؟ آج جو الزامات الیکشن کمیشن آف انڈیا اور سپریم کورٹ آف انڈیا پر لگائے جا رہےہیں، کیا ایسے ہی الزامات پاکستان میں ان اداروں پر نہیں لگائے جاتےرہے ؟ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نام نہاد آزاد میڈیا پر الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے بارے میں تنقید کم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ بھارت کی طرح پاکستان میں بھی میڈیا پر ریاست کا کنٹرول بڑھ گیا ہے ۔
اب آئیے اس آتش فشاں کی طرف جس پر ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ یہ آتش فشاں دراصل وہ شدت پسندی اور عسکریت ہے جو جمہوری اداروں کی کمزوری کی وجہ سے ہمارے نوجوانوں میں پھیل رہی ہے ۔ گزشتہ دنوں چارسدہ کے نامور عالم دین مولانا شیخ محمد ادریس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ شیخ محمد ادریس خیبر پختو نخوا اسمبلی کے سابق رکن تھے۔ وہ عسکریت کی بجائے سیاسی جدو جہد کے قائل تھے ۔ کچھ عرصہ سے انہیں دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ وہ جمہوریت اور آئین کی حمایت چھوڑ دیں ۔ اُن کے کچھ شاگرد بھی اُن سے پوچھتے تھے کہ جس جمہوریت میں انصاف نہ ہو اور جس آئین کو طاقتور لوگ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کریں، اس جمہوری نظام کی حمائت کا کیا فائدہ ؟ شیخ محمد ادریس نے دھمکیوں کے باوجود سیاسی و جمہوری جدوجہد کی حمایت جاری رکھی اور آخر کار گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
حسب معمول اُن کی ٹارگٹ کلنگ کا تعلق بھی افغانستان سے بتایا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو اتنی آسانی سے گمراہ کیوں کیا جاتا ہے ؟ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے ۔ اکثر مسلم ممالک کے نوجوانوں میں شدت پسندی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ گزشتہ ہفتے مجھے استنبول میں مختلف مسلم ممالک کے زیر عتاب اور مطلوب رہنماؤں کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کا موقع ملا ۔ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو سیاسی جدو جہد چھوڑ کر مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کر چکے ہیں ۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب ان کے جمہوری ادارے غیر موثر ہو گئے تو پھر اپنی بقا کیلئے اُنہوں نے بیلٹ کی بجائے بلٹ کا راستہ اختیار کیا ۔ اس سلسلے میں بار بار مصر کی مثال دی گئی جہاں ووٹ کی طاقت سے محمد مرسی اقتدار میں آئے لیکن مغربی طاقتوں نے فوجی بغاوت کے ذریعہ محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا جس کے بعد محمد مرسی کے حامی بہت سے نوجوان شدت پسند تنظیموں سے وابستہ ہو گئے ۔ پاکستان کے حالات مصر سے بہت مختلف ہیں لیکن یہاں پر جمہوری نظام کے اندر رہ کر سیاسی جدو جہد کی حمایت کرنے والے علما کو نشانہ بنانے کے واقعات بڑھ رہے ہیں ۔
یہ واقعات ہمیں اس آتش فشاں کا پتہ دے رہے ہیں جو ابھی زمین کے نیچے ہے ۔ ہمیں اسلام آباد، لاہور یا کراچی میں بیٹھ کر زیادہ نظر نہیں آئے گا لیکن اگر آپ پشاور یا ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف جائیں تو آپ کو زیر زمین آتش فشاں کی خوفناک آوازیں سنائی دیں گی ۔ آپ کوئٹہ یا تربت کی طرف جائیں تو آپ کو زمین میں وہ دراڑ یں بھی نظر آئیں گی جن میں سے آتش فشاں کا لاوا باہر آکر تباہی مچا سکتا ہے ۔ یہ ساری گڑ بڑ جمہوری اداروں کی کمزوری کے باعث بڑھ رہی ہے۔ اگر ہم پاکستان کے ارباب اختیار سے ان معاملات پر بات کریں تو وہ کہیں گے الیکشن کمیشن ، سپریم کورٹ اور تمام دیگر ادارے جو بھی کر رہے ہیں، قانون کے مطابق کر رہے ہیں۔ سب ٹھیک ہے ۔ ان کا مؤقف ہے کہ ساری گڑ بڑ بھارت اور افغانستان کی طرف سے ہو رہی ہے۔ ایران، عراق، مصر، ترکی، انڈونیشیا، ملائشیا سمیت اکثر مسلم ممالک کی حکومتوں کا بھی یہی موقف ہے کہ ان کے معاملات بالکل ٹھیک ہیں۔ کوئی بھی جمہوری اداروں کی کمزوری اور آزادی اظہار پر پابندیوں کے باعث نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے اسباب کا جائزہ لینےپر تیار نہیں ۔
فی الحال تو ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی جنگ نے اس بے چینی اور نفرت کو کچھ بریک لگا رکھی ہے۔ لیکن جنگ کے خاتمے کے بعد یہ بے چینی بہت سے اہم مسلم ممالک کیلئے چیلنج بن سکتی ہے۔ کیونکہ دشمن اس بے چینی کو ہمیں آپس میں لڑانے کیلئے استعمال کرے گا۔ اس لئے زمین کے ساتھ کان لگا کر آتش فشاں کی آواز سننے میں کوئی حرج نہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)