معرکہ حق کی برسی اور پاکستانی قوم کی نفسیات

پاکستان  میں گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ یا جھڑپوں  کی سالگرہ دھوم دھام سے منائی جارہی ہے۔ شہروں میں عسکری قیادت کے بینر لگائے گئے ہیں اور بڑے بڑے کمرشل ادارے اشتہارات میں افواج پاکستان کی بہادری کا ذکر کرتے ہوئے، ان کا شکریہ ادا کررہے ہیں۔  ایک غریب ملک میں کسی جنگ کو گلوری فائی کرنے کا یہ رویہ ناقابل فہم اور افسوسناک  ہے۔

بھارت کے ساتھ ہونے ولی ہر جنگ کی طرح  گزشتہ مئی میں ہونے والی جھڑپیں بھی انتہائی افسوسناک تھیں۔ دونوں طرف انسانی جانوں کا نقصان ہؤا اور دو غریب ملکوں کے سرکاری خزانے کو ایک ایسی جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے جس کی ہرگز ضرورت نہیں تھی۔ لیکن اس بار یہ سانحہ ہؤا ہے کہ نہ صرف اس ایک جنگ میں نقصان اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ  مئی 2025 میں ہونے والے تصادم کی وجہ سے ابھی تک برصغیر میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔  بھارت میں نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت نے   ایک طرف  پاکستان کے خلاف حالت جنگ برقرار رکھی ہے تو دوسری طرف  جس عذر کی بنیاد پر 7 مئی  2025 کو پاکستان پر حملے شروع کیے  گئےتھے، اس کی حقیقت کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت بھی سامنے نہیں لائے گئے۔ اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی  ہے کہ پہلگام میں جس دہشت گرد حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتے ہوئے     جنگ شروع کی گئی تھی ، اس میں پاکستان کسی بھی طرح ملوث نہیں تھا۔ بھارت ابھی تک نہ تو اس الزام کو ثابت کرسکا ہے اور نہ ہی کسی ذمہ دار ملک کی طرح  غلط الزام پر معذرت کرکے حالات معمول پر لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس کے برعکس  آپریشن سندور  جاری رکھنے کا اعلان کیا جاتا ہے جو درحقیقت یہ دھمکی ہے کہ  بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر ایک اور حملہ شروع کرسکتا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی بعض رپورٹوں میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر دونوں  ملکوں میں کوئی نئی جنگ ہوتی ہے تو یہ  خطرناک اور مہلک ہوگی۔ اس  سے بھاری مالی و جانی نقصان کا امکان ہے۔  بھارت خواہ اپنی صنعتی ترقی اور ایک قابل ذکر مڈل کلاس کی وجہ سے خوشحالی کے جیسے بھی دعوے کرے، حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کی طرح بھارت میں بھی سماجی حالات  عبرت ناک ہیں، کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور  بہت بڑی آبادی کے لیے روزگار و بنیادی سہولتوں کا حصول ممکن نہیں ہے۔ لگ بھگ   ڈیڑھ ارب انسانوں کے ملک کی حکومت کے پاس خواہ جتنے بھی  وسائل ہوں، جب تک وہ  جنگوں سے گریز  کرکے  ترقی اور انسانی بہبود کو اپنی ترجیح نہیں بناتی، اس وقت تک عوام کی بھلائی کا  تصور بھی ممکن نہیں ہے۔

پاکستان میں بھی حالات دگرگوں ہیں۔ بھاری غیر ملکی قرضوں کی وجہ سے ملک کے بیشتر وسائل سود کی ادائیگی پر صرف ہوجاتے ہیں۔ رہی سہی کسر بھارت کے  ساتھ  مقابلے بازی نے پوری کردی ہے ۔ ملکی دفاع  پرمصارف میں اضافہ غریب عوام کے منہ  سے نوالہ  چھین لینے کے مترادف ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی نوٹ  کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کی فوجی تیاریاں بھارت کے مدمقابل  دفاع کی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے اہم  ہیں۔ پاکستان نے اسّی کی دہائی میں صرف اس لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کی  کیوں کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کے پاس اتنے بڑے ملک سے اپنےبچاؤ  کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ اب بھی بھارت اپنی آبادی اور حجم کی بنیاد پر بڑی معیشت  کہلاتا ہے اور اس کی وجہ سے     بھارت کی فوجی تیاریوں پر اخراجات ایک سو ارب ڈالر تک پہنچا دیے گئے ہیں۔ پاکستان کو اس کثیر بجٹ سے مقابلہ کی مشکل درپیش ہے۔ یہ مشکل اس وقت تک دور نہیں ہوسکتی جب تک نئی دہلی کے سیاسی لیڈر ہوش کے ناخن  نہیں لیتے اور  پاکستان کے ساتھ جنگ و تصادم کی کیفیت برقرار رکھنے کی بجائے  باہمی مکالمہ و مذاکرات کے ذریعے  مسائل حل کرنے کی طرف پیش قدمی نہیں کرتے۔

بدقسمتی سے اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی بجائے بھارتی حکومت نے ایک طرف آپریشن سندور جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے حالت جنگ برقرار رکھی ہے تو دوسری طرف سندھ طاس معاہدے  پر عمل درآمد روک کر دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے متفقہ اصولوں سے گریز کیا جارہا ہے۔ ابھی پاکستان کو پانی کی فراہمی میں کوئی ایسی بڑی رکاوٹ تو نہیں آئی جو کسی بڑے تنازعہ کا سبب بن سکے لیکن یہ واضح ہے کہ اگر بھارت  نے کبھی پاکستان کا پانی روکنے اور ملک میں قحط کی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی تو  اس کا واحد منطقی نتیجہ مسلح تصادم کی صورت   میں سامنے آئے گا۔ دنیا بھر میں خود کو سب سے بڑی جمہوریت  قرار دینے  اور  امن کے نغمے الاپنے والا بھارت درحقیقت اس وقت ایسی جنگی ذہنیت رکھنے والے لیڈروں کے تسلط میں ہے جو جنون کی حد تک خود کو بالادست ثابت کرنے کے لیے ہر اصول و ضابطہ  کچلنے پر آمادہ و تیار رہتے ہیں۔  بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے بھی اس انتہا پسند ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حال ہی  میں مغربی بنگال میں انتخابات میں کامیابی کے لیے بی  جے پی نے پہلے دل بھر کے دھاندلی کی اور نام نہاد جیت کے بعد مسلمان آبادیوں پر حملے کرکے اپنی فتح کا جشن منایا۔

اس پس منظر میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بجا طور سے   اعلان کیا ہے کہ ’مسلح افواج  پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت یا دشمن کے عزائم کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت، درستی اور عزم کے ساتھ دیں گی۔ معرکۂ حق میں دشمن نے پاکستان کی قوت، تیاری اور فیصلہ کن صلاحیت کا مشاہدہ کیا، آئندہ ہر مہم جوئی کا جواب اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا‘۔ اس حد تک بات سمجھ آتی ہے ۔ قوم کے لیے بھی فوج کی طرف سے یہ یقین دہانی اہم ہے کہ وہ ہر وقت چوکس اور  ملکی دفاع کے لیے تیار ہے۔ تاہم محض اس بنیاد پر ملک میں جنگی جنون اور جنگ کو  ایک خاص سماجی و نفسیاتی مقام دینے کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ  ہمیں مشکل ہمسایہ ملک کا سامنا ہے اور تصادم کی کیفیت جاری رہتی ہے۔ مسلح افواج کے قیام کا مقصد ہی ملک کا دفاع ہے۔  پاکستانی شہری  اپنا پیٹ کاٹ کر بھاری  قیمت ادا کرتے ہیں تاکہ افواج پاکستان کو ضروری وسائل اور  ٹیکنالوجی فراہم ہوسکے۔  یہ ایک فطری اور کسی بھی ریاستی انتظام میں طے شدہ معاملہ ہے۔ اس سے زیادہ فوج یا اس کی صلاحیت اور کامیابیوں کا ڈھندورا پیٹنے سے باہمی تعصب و نفرت کو بڑھاوا دینے کے سوا کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔

بھارت اگر جنگ جویانہ ذہنیت کو فروغ دے کر اپنے سماج میں خرابی پیدا کررہا ہے تو پاکستان کو اس سے سبق سیکھ کر ویسا ہی کام کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔   اس کے برعکس پاکستان  میں پہلے ہی ہر سال  1965 میں جنگ کی یاد میں 6ستمبر کو یوم دفاع پاکستان منایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد قومی دنوں پر  ملک  کی عسکری صلاحیتوں کا جوش و خروش سے ذکر کرکے، عمومی مسائل نظرانداز کرنے کی روایت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اب سانحہ مئی کے بعد  پورا سال سیاسی و سماجی لیڈر  عسکری قیادت کی تعریف میں رطب اللساں رہے ہیں۔ فوج کو سراہنا درست ہے لیکن   غیر ضروری  خودستائی  سے ایسا سماج تیار ہوتا ہے جو صرف جنگ و جدل کو ہی ترقی و خوشحالی کا راستہ سمجھتا ہے۔  پاکستان قائم ہونے کے بعد سے یہ سلسلہ شروع ہؤا اور بے تکان اسے فروغ  دینے کی کوششیں ہورہی ہیں۔

اب معرکہ حق کی یاد میں تقاریب  اور  میڈیا پروگرام درحقیقت زمینی حقائق و مسائل سے گریز کا وہی پرانا طریقہ ہیں،  جن کی وجہ سے پاکستانی قوم نہ کوئی مسئلہ حل کرسکی ہے اور نہ ہی اسے سمجھنے کا کوشش کی گئی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ جنگ کو دفاع کی ضرورت تک محدود رکھا جائے اور باقی وقت اور صلاحیت دیگر امور پر توجہ دینے اور قومی تعمیر کے کام پر صرف کی جائے۔