8مئی آگ و خون سے عبارت ناروے کا یوم آزادی
- تحریر خالد محمود اوسلو
- جمعہ 08 / مئ / 2026
ویسے تو ناروے کا قومی دن سترہ مئی ہے جو ہر سال بڑے شان و شوکت سے منایا جاتا ہے اور روایتی طور پر اسے یوم آزادی بھی کہا جا سکتا ہے۔ سترہ مئی کو باضابطہ طور یوم آئین کہ کر منایا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ناروے والے اپنی آزادی کو یوم آئین سے ہی وابستہ کرتے ہیں۔
عوام آئین کو ہی قومی ریاست اور خودمختاری کی بنیاد تصور کرتے ہیں۔ جبکہ ناروے میں آٹھ مئی کو ناروے کا یوم آزادی کہا جاتا ہے اور یہ یوم آزادی دوسری جنگ عظیم کے دوران ناروے پر جرمنی کے پانچ سالہ قبضہ سے آزاد ہونے کے ساتھ منسلک ہے۔ جو 1945 میں پانچ سالہ جدوجہد اور بے پناہ قربانیوں کے عوض حاصل کی گئی۔ ہر سال اس دن ناروے میں سرکاری سطح پر اس دن کو یادگار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ گو اس دن ناروے میں کوئی سرکاری تعطیل نہیں ہے لیکن اس دن مختلف قومی یادگاروں پر اور خاص کر جرمنی سے آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی قبروں پہ پھول چڑھائے جاتے ہیں اور ان کے کارناموں کو بتا کر نئی نسل کو وطن کی خاطر موت کو گلے لگانے والوں سے متعلق آگاہ کیا جاتا ہے۔ تاکہ نئی نسلیں یہ جان سکیں کہ اُن کے اباواجداد نے اس آزادی کی کتنی بڑی قیمت ادا کی۔ جرمن افواج کے ہاتھوں کن مظالم اور تباہی کا نارویجن قوم شکار ہوئی۔ اس کے ایک انتہائی سیاہ اور کرب ناک گوشہ کا آشکار کرنے کا مقصد یہ کہ آج کی نسل کو احساس ہو کہ کس خون اور آگ کے دریا سے بہادر نارویجن قوم گزری تھی۔
1944 کے آخر میں جب جرمن افواج کو ہر محاذ سے پسپائی کا سامنا ہوا تو ناروے کے شمالی محاذ سے بھی روس کی اتحادی افواج اور نارویجن رضاکار فوج نے جرمن افواج کو پسپائی پر مجبور کرتے ہوئے ناروے کے شمال کی طرف سے پیش قدمی کرتے ہوئے جرمن افواج کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا ۔ جرمن افواج نے جب اپنی شکست کو بھانپتے ہوئے شمالی ناروے سے پسپائی اختیار کی تو انہوں زمانہ قدیم سے چلی آئی پسپائی کی روایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے زیر تسلط علاقوں کی مکمل تباہی کا حربہ بروئے کار لاتے ہوئے بڑے پیمانے پر جلاؤ کی پالیسی کو شروع کر دیا۔ ایسی پسپائی کو جنگی زبان میں سوخت کاری scorched earth جس کو نارویجن میں brent jord taktikk کہا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت قابض فوج پسپا ہونے سے پہلے اپنے زیر تسلط علاقے میں موجود ہر کار آمد چیز کو تباہ و برباد اور آگ لگا کر جلا دیتی ہے تاکہ وہ آگے بڑھتی ہوئی افواج کے کام نہ آسکے۔ مال مویشی مار دیے جاتے ہیں اور تالابوں اور جھیلوں میں زہر آلود مادہ ڈال دیا جاتا ہے تاکہ وہ پانی سے بھی محروم رہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جرمن افواج نے شمالی ناروے سے پسپا ہوتے ہوئے تاریخ کی بد ترین بربریت کا مظاہرہ کیا۔ شہروں کے شہر ویران کر دیئے۔ پورے شمالی ناروے کی ہر چھوٹی بڑی عمارت کو زمین بوس کرتے ہوئے جلا کر راکھ میں بدل دیا۔ بعد میں دستیاب ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق بارہ ہزار گھروں کو جلایا گیا، ایک سو چھ سکول، ایک سو اکتالیس عبادت گاہیں، ہال اور ستائیس گرجا گھر جرمن افواج کے ہاتھوں نظر آتش ہوئے۔ دو سو اُنتیس، صنعتیں ساڑھے چار سو تجارتی عمارتیں، ایک سو کے قریب سرکاری دفاتر اور بڑی تعداد میں صحت کے مراکز پسپا ہوتی جرمن فوج کے ہاتھوں جل کر راکھ بنے۔اس وقت کے شمال ناروے کے شہر ہامرفیستھ، شرکینیس، کھاوتوکھینو، بھرلےووگ، وادسو، واردو، ھونیگسووگ، شیروی اُوئئی، کھوفیرود، آلتا، کھاراشوک، لاکسایلواور کھویننگن مکمل طور پر راکھ میں تبدیل ہوگئے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ شمالی ناروے میں آباد تمام نارویجن آبادی کو جبراً نقل مکانی پر مجبور کیا گیا جو اس وقت ستر ہزار پر مشتمل تھی۔ جرمن قابض فوج نے تمام آبادی کو مختصر نوٹس جاری کرتے ہوئے فوراً گھر بدر کرنے کا عمل شروع کیا۔ بستروں میں سوئے ہوئے لوگوں کو اُٹھا کر باہر پھینک کر ان کی آنکھوں کے سامنے گھروں کو جلا ڈالا۔ شہروں کو خالی کرتے وقت تمام گھروں اور عمارات کو آگ لگا کر جلا دیا گیا۔ یہ جبری نقل مکانی تاریخ میں غیر انسانی رویہ کی عکاسی کرتی ہے جس میں لوگوں کو جبراً اپنے گھروں سے نکال دیا جاتا، ان کے گھر جلا دیے جاتے اور بے دردی سے ان کی آنکھوں سامنے ان کےمویشیوں کو ہلاک کر دیا جاتاہے۔
بہت سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گھروں سے جبری بے دخلی کے بعد شمالی ناروے کا رُخ کرنے پر مجبور ہوئے۔ ساحلی علاقوں کے لوگ قدرے آسانی سے نقل مکانی کر سکے کیونکہ ان کے پاس اپنی کشتیاں تھیں لیکن دوسرے لوگوں کو بڑے ہی پُرآزمائش حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ جرمن فوج نے اپنے دو بحری جہازوں میں تین ہزار کے قریب لوگوں کو جنوبی ناروے کی جانب منتقل کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک بحری جہاز پر 1900 افراد کو منتقل کیا گیا۔ ستم ظریفی دیکھیں کے ان سینکڑوں افراد کے لیے اس بحری جہاز میں صرف دو بیت الخلا تھے۔ جبری منتقل کیے جانے والوں میں بڑی تعداد دوران سفر موت کی آغوش میں چلے گئے۔ شمالی ناروے سے نقل مکانی کے بعد بڑی تعداد نےمختلف علاقوں میں جا کر پناہ حاصل کی جہاں پر ان کی گزربسر دوسرے شہریوں کی طرف سے دی جانے والی امداد کی مرہون منت تھی۔ بڑی تعداد نے ان نئے آنے والے بے گھر افراد کے لیے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، انہیں سر چھپانے کے لیے چھت، کھانے کی اشیا اور کپڑے فراہم کیے۔ اس کے علاوہ نارویجن ریڈکراس اور دوسری امدادی تنظیمیں بھی ان کا سہارا بنیں، جس کی وجہ سے بڑی تعداد بھوک سے موت کے منہ میں جانے سے بچ گئی۔
ناروے کے شہر تھروندھیم میں ایک سکول ان داخلی مہاجرین کی سب سے بڑی پناہ گا بنا۔ جرمن افواج کی اس جبری نقل مکانی سے شمالی علاقے میں آباد بڑی تعداد نے بغاوت بھی کی اور آبادی کا لگ بھگ ایک تہائی حصہ نے جرمن افواج کی جبری نقل مکانی سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑ کر پہاڑوں، وادیوں اور جنگلات میں روپوش ہو گیا۔ بیشتر نے ان مشکل حالات میں سر چھپانے کے لیے جھونپڑیاں تعمیر کیں اور کئی اپنی کشتیوں کو اُلٹا کر اُنہیں بطور چھت تصرف میں لائے اور ایک بڑی تعداد نے غاروں میں پناہ لے کر جان بچائی۔ تیئیس ہزار کے قریب لوگ جرمن افواج کی جبری نقل مکانی سے بچنے میں کامیاب ہوئے۔ ان میں سے بڑی تعداد نے بعد میں روسی فوج کی اعانت کا سبب بنی اور بڑی تعداد روسی فوج میں شامل ہو کر جرمن فوج کے خلاف برسرپیکار ہو گئی۔
ان نارویجبوں کی موجودگی کی وجہ سے ناروے کو آزاد کروانے کے لیے آنے والی افواج کو خوارک کی رسد ان لوگوں سے میسر ہوئی جنہوں نے اپنے مویشی ذبحہ کر کے خوراک کی دستیابی کا بندوبست کیا۔ ناروے میں جرمن فوج کی روسی فوج کے ہاتھوں پسپائی کا اغاز اکتوبر 1944 میں ہوا اور پہلا شہر شرکینیس پچیس اکتوبر 1945کو جرمن فوج سے آزاد کروایا لبم۔ اس طرح آگے بڑھتے ہوئے جرمن فوج کو مئی 1945 میں حتمی شکست سے دوچارکرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ روسی افواج اپنی حکومت کے حکم کے تحت پچیس ستمبر 1945 کو ناروے سے واپس چلی گئیں۔
ناروے کے شمال میں جنگ عظیم دوم کے اختتام پر جرمن فوج کی طرف سے سوخت کاری کی صورت میں برپا کی جانے والی انسانیت سوز تباہی، ناروے کی تاریخ کی سب سے بڑی بربادی کے طور پر یاد کی جاتی ہے جس کے ساتھ کئی درد ناک داستانیں وابستہ ہیں۔اس حد تک ملک کے ایک پورے حصے کی بربادی، آزادی کے بعد ناروے کی معیشت کے لیے بھی بہت بڑا چیلنج تھی۔ تعمیر نو میں بہت زیادہ وسائل درکار تھے۔ نئی نارویجن حکومت نے اس کو پہلی ترجیح بناکر شمالی ناروے کی تعمیر نو کو بڑی تیزی سے مکمل کیا۔
آٹھ مئی کا دن ہر سال عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ گو اس سلسلہ میں سرکاری چھٹی نہیں ہوتی لیکن ناروے کا شاہی خاندان اورخاص کر عسکری ادارے خصوصی شرکت کرتے ہیں۔