نو مئی بمقابلہ بارہ مئی
- تحریر ٹونی عثمان
- جمعہ 08 / مئ / 2026
9 مئی کے فسادات کے متعلق شورشرابہ میں 12 مئی کے فسادات یا تو بھول گئے یا پھر دانستہ طور پر بھلا دیے گئے ہیں۔ ویکی پیڈیا کے مطابق 2023 میں 9 مئی کے فسادات میں ملک بھر میں 8 سے 14 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2007 میں 12 مئی کے فسادات میں کراچی میں 58 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یاداشت کو تازہ کرنے کے لیے پہلے بات کرتے ہیں 19 برس قبل ہونے والے فسادات کی۔ 9 مارچ 2007 کو اس وقت کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے منصب سے جبری طور پر ہٹا دیا تھا۔ نتیجے میں ایک ایسی وکلا تحریک نے جنم لیا جس نے حکومت کو غیر مستحکم کر دیا۔ معزول چیف جسٹس نے پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں کامیاب اجتماعات کرنے کے بعد اعلان کیا کہ وہ 12 مئی کو کراچی میں وکلا اور قانون دانوں کے جلسے میں شرکت کریں گے۔ 12 مئی سے چند روز قبل ہی فوجی حکومت کی حلیف جماعت ایم کیو ایم کے راہنماؤں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ کراچی اُن کا ہے اور اُن کی اجازت کے بغیر معزول چیف جسٹس کراچی نہیں آسکتے۔ پولیس اور ایم کیو ایم کے مسلح کارکنوں نے کراچی کی مرکزی گزر گاہ شاہراہ فیصل اور دیگر سڑکوں پر اتنی رکاوٹیں کھڑی کر دیں کہ معزول چیف جسٹس کے میزبان ملیر بار ایسوسی ایشن کے ارکان جب ایئرپورٹ جانے کے لیے باہر نکلے تو ملیر سے باہر نہ جاسکے۔
اُدھر معزول چیف جسٹس کراچی ایئر پورٹ تو پہنچ چکے تھے مگر اُنہیں ایئر پورٹ کی عمارت سے باہر نکلنے نہ دیا گیا۔ افتخار چوہدری کی حمایت میں ریلیوں پر گھات لگا کر حملے کرکے بدترین تشدد اور بھیانک قتل و غارت اور خونریزی کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ افتخار چوہدری کی کراچی آمد کی وجہ سے اتنا غصہ کیوں تھا۔ اُن کے حق میں ریلیاں تو ملک کے دیگر شہروں میں بھی نکالی گئی تھیں۔ بہر حال اُس دن مسلح جتھوں کے ہاتھوں پورا شہر یرغمال ہو گیا اور کسی حملہ آور کو کوئی ڈر نہیں تھا۔ ٹی وی چینل ”آج“ کی عمارت پر 6 گھنٹے لگاتار گولیاں برسائی گئیں۔ اس دوران گولیاں برسانے والوں کے لیے بارود کی سپلائی تو چلتی رہی مگر وہاں نہ تو پولیس پہنچی اور نہ ہی رینجرز۔ معروف صحافی طلعت حسین جو اُس وقت ”آج“ کے ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افئیرز تھے، نے بی بی سی کو بتایا کہ ”آج“ کے رپورٹرز کے گھروں پر آنے والے ایم کیو ایم سے متعلق افراد نے اُنہیں دھمکیاں دیں، اس لیے انہیں اپنے رپورٹرز کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا۔
اُس وقت کراچی میں شہری حکومت ایم کیو ایم کی تھی اور مصطفی کمال کراچی کے میئر تھے۔ یہ وہی مصطفی کمال ہیں جو 2013 میں بیرون ملک جا بسے تھے مگر تین سال بعد پاکستان واپس پہنچ کر ”پاک سر زمین پارٹی“ بنائی اور پھر 10 سال بعد اُسے ایم کیو ایم میں ضم کر نے کا اعلان کیا۔ اُس وقت سندھ کے گورنر بھی ایم کیو ایم کے عشرت العباد تھے، جو 2016 میں متحدہ عرب امارات منتقل ہوگئے تھے اور خود کو ایم کیو ایم سے الگ کر لیا تھا۔ مگر حال ہی میں وہ پھر ایم کیو ایم میں شامل ہوگئے ہیں۔ سندھ میں صوبائی حکومت ایم کیو ایم اور جنرل پرویز مشرف کے دیگر اتحادیوں کی تھی اور وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم تھے۔ یاد رہے یہ وہی غلام ارباب رحیم ہیں جنہیں پی ٹی آئی کے دور میں وزیر اعظم عمران خان کا معاون خصوصی برائے امور سندھ مقرر کیا گیا تھا۔
جب کراچی میں آگ اورخون کی ہولی میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کی گنتی ہو رہی تھی، تب اسلام آباد میں سرکاری خرچے سے منعقد کی گئی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے ایم کیو ایم کو”کامیابی“ پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہوا میں مکا لہرایا اور کہا کہ کراچی کے عوام نے اپنی طاقت دکھا دی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن نے 12 مئی کے فسادات پر 124 صفحات پر مبنی جو تحقیقاتی رپورٹ جاری کی تھی، اس میں سندھ حکومت اور ایم کیو ایم کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں اخباری خبریں، تصاویر، مختلف ٹی وی چینلز پر نشر کی گئی رپورٹس اور عینی شاہدین کے بیانات شامل کیے گئے تھے۔ کمیشن کی چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ واقعات کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے کر اس واقعے کے ذمہ داران کو بے نقاب کیا جائے، تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔
ایم کیو ایم کے مطابق یہ رپورٹ ان کے خلاف ایک”سازش“ تھی۔ مقدمہ جب عدالت میں پہنچا تو ایم کیو ایم نے سندھ ہائی کورٹ کا گھیراؤ کر دیا لہٰذا عدالت نے یہ کہہ کر سماعت ملتوی کردی گئی کہ دباؤ کے حالات میں سماعت کرنا ممکن نہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے ایم کیو ایم کی طرف سے عدالت کے گھیراؤ کا نوٹس لیا اور اس کی سماعت شروع کی ہی تھی کہ اُنہیں جنرل مشرف نے ایمرجنسی لگا کر معزول کردیا۔
تحریک انصاف کے راہنما عمران خان نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر فسادات میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اعلان کیاتھا کہ وہ لندن جاکر برطانوی قانون کے مطابق الطاف حسین پر مقدمہ دائر کریں گے۔ مگر اس اعلان کا کیا بنا شاید کسی کو نہیں معلوم۔ دیگر جماعتوں نے بھی کئی اعلانات کیے اور انصاف کے لیے کھوکھلے نعرے لگائے۔ عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، اور مسلم لیگ (ن) کے حلقے غیر جانبدار تحقیقات کا نعرہ لگاتے رہے مگر فروری 2008 کے عام انتخابات کے بعد سیاسی مصلحت یا شاید منافقت کے باعث تمام سیاسی قوتیں 12 مئی کے فسادات کو بھول گئیں۔ معروف قانون دان اعتزاز احسن جو وکلا تحریک کے سرکردہ راہنما تھے اور معزول چیف جسٹس کے بہت قریب تھے، نے بھی 12 مئی کو بھول جانے کا مشورہ دیا تھا۔
افتخار محمد چوہدری اپنے عہدے پر بالآخر مارچ 2009 میں بحال ہو گئے۔ وہ دسمبر 2013 تک اس عہدے پر رہے اور بڑے دھڑلے سے جوڈیشل ایکٹوازم تو کرتے رہے مگر سانحہ 12 مئی کے ذمہ داران کو کچھ کہنے کی توفیق اُنہیں بھی نہ ہوئی۔ دسمبر 2015 میں اُنہوں نے اپنی سیاسی جماعت ”پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی“ بنائی مگر بطور سیاستدان بھی اُنہوں نے کبھی سانحہ 12 مئی کے متاثرین کے لیے انصاف کی بات نہیں کی۔ کہا جاتا ہے کہ فسادات کی تحقیقات اس لیے نہیں کرائی گئیں کہ اگر وہ غیر جانبدارانہ ہو جاتیں تو بات بہت دور تک جاتی۔
آئیے اب چلتے ہیں 3 برس پہلے ہونے والے 9 مئی فسادات کی طرف۔ اُس دن سابق وزیراعظم عمران خان کو بدعنوانی کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔ ایسا نہیں کہ اُنہیں گرفتار کرنے کوشش پہلے نہ کی گئی ہو مگر پولیس جب بھی اُن کے گھر زمان پارک جاتی تو پی ٹی آئی کے کارکنان پولیس پر شدید پتھراؤ کرکے گرفتاری کے عمل کو رکوا دیتے۔ حکام نے اب کی بار پولیس کی بجائے رینجرز کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے اُنہیں گرفتار کر لیا۔ گرفتاری سے پہلے پی ٹی آئی کی طرف سے کئی بار اعلان کیا جا چکا تھا کہ عمران خان کو گرفتار کرنا ایک ریڈلائن کو کراس کرنا سمجھا جائے گا۔ لہٰذا وہی ہوا۔ عمران خان کے حامیوں نے احتجاج شروع کردیا اور تقریباً 40 سرکاری عمارتوں اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات متعدد شہروں تک پھیلتے گئے۔
عمران خان کے حامیوں نے لاہور میں لبرٹی چوک کی سڑکیں بلاک کر دیں اور چھاؤنی میں کور کمانڈر ہاؤس کو آگ لگا کر شدید نقصان پہنچایا۔ اس ہاؤس کی ایک تاریخی اہمیت ہے کیونکہ اسے محمد علی جناح نے 1943 میں خریدا تھا، اس لیے اسے”جناح ہاؤس“ بھی کہا جاتاہے۔ کراچی میں شاہراہ فیصل پر متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹرکینن کا استعمال کیا۔ پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو مظاہرین نے آگ لگا دی۔ راولپنڈی میں مظاہرین نے جی ایچ کیو میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ عمران خان کے حامیوں کے متعلق یہ تاثر عام ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا بہت استعمال کرتے ہیں۔ 9 مئی کو بھی اُنہوں نے ایسا ہی کیا اور ایسے ویڈیو کلپ، جن میں وہ بہت فخر سے توڑ پھوڑ کررہے تھے، کو خود ہی اپلوڈ کرکے اپنے ہی خلاف شواہد مہیا کر دیے۔ معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ وہم ہوگیا تھا کہ وہ اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ ریاست کے ادارے اُن کے سامنے بے بس ہو جائیں گے۔
بی بی سی کے مطابق اُس دن ملک بھر میں 38 ہزار افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا اور کم از کم 10 افراد مارے گئے۔ نتیجے میں حکام نے عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کے راہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرکے ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا، کئی راہنماؤں کو پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا اور پارٹی نہ چھوڑنے والے راہنماؤں کے کاروبار سیل کر دیے۔ فسادات کی سی سی ٹی وی فوٹیج ریلیز کرکے پی ٹی آئی کے خلاف شواہد بھی دکھائے گئے۔
پی ٹی آئی کی طرف سے پہلے تو کہا جاتا رہا کہ 9 مئی کے فسادات عمران خان کی گرفتاری کے نتیجے میں ایک فطری عمل تھا۔ جب اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط ہوئی تو یوٹرن لے کر”فطری عمل“ والے پرتشدد واقعات کو پی ٹی آئی کے خلاف ایک ”سازش“ قرار دیا گیا۔ صحافی حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے حمائتی 9 مئی کے واقعات کے متعلق صرف اُس ورژن پر یقین رکھتے ہیں جو پارٹی کی قیادت کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ فوج کا آج تک موقف ہے کہ پی ٹی آئی کے کئی راہنماؤں نے 9 مئی کو اپنے حامیوں کو فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے احکامات جاری کیے تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق 9مئی کے واقعات کا پاکستانی سوسائٹی پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ اس نے ہر چیز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
گزشتہ برس انسداد دہشت کی عدالت نے پی ٹی آئی کے 108 ارکان کو قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ حزب اختلاف کی شخصیات نے عدالت کے فیصلوں کی مذمت کی تھی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی انسداد دہشت کی عدالت کے ذریعے گرفتاریوں اور ٹرائل پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
(بشکریہ: روزنامہ جد و جہد آن لائن)