ہندوستانی مسلمان، مسائل اور حل

ہندوستانی مسلمان آخر کب تک سیاسی پارٹیوں سے امیدیں وابستہ رکھے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو میرے ذہن میں بار بار گونجتا ہے۔ آزادی سے پہلے بھی مسلمانوں کو سیاسی نعروں، وعدوں اور جذبات کے ذریعے استعمال کیا گیا، اور آزادی کے بعد بھی یہی سلسلہ مختلف چہروں، مختلف جھنڈوں اور مختلف نعروں کے ساتھ جاری رہا۔ فرق صرف اتنا آیا کہ پہلے مسلمان کو خوف دکھا کر استعمال کیا جاتا تھا اور اب تحفظ کا خواب دکھا کر۔ لیکن نتیجہ ہر بار ایک ہی نکلا،محرومی، کمزوری، ذلت اور سیاسی استحصال۔

میرے نزدیک ہندوستانی مسلمان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ہر انتخاب سے پہلے کسی نہ کسی سیاسی مسیحا کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔ کبھی سیکولرازم کے نام پر ووٹ دیا جاتا ہے، کبھی فرقہ پرستی کے خوف سے، اور کبھی اس امید پر کہ شاید اس بار کوئی پارٹی مسلمانوں کے تعلیمی، معاشی اور سماجی مسائل پر سنجیدگی سے کام کرے گی۔ لیکن افسوس کہ ہر انتخاب کے بعد مسلمان صرف تقریروں، وعدوں اور جذباتی نعروں کے درمیان تنہا کھڑا رہ جاتا ہے۔

سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو ایک ووٹ بینک کے طور پر دیکھا، ایک ایسی بھیڑ جسے ڈر، جذبات یا مذہبی نعروں کے ذریعے آسانی سے ایک سمت میں دھکیلا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کی بستیوں میں انتخابی جلسے تو بہت ہوئے، مگر وہاں اسکول کم بنے۔ وعدے تو بے شمار کیے گئے، مگر روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے گئے۔ ہر پارٹی نے مسلمانوں کے نام پر سیاست کی، لیکن مسلمانوں کی حقیقی ترقی کے لیے مخلصانہ منصوبہ بندی بہت کم دکھائی دی۔سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمان خود بھی اس سیاسی کھیل کو سمجھنے کے باوجود خاموش رہتا ہے۔ چند نمائشی چہروں، چند ٹکٹوں اور چند بیانات پر خوش ہو جاتا ہے، جبکہ پوری قوم تعلیمی پسماندگی، بے روزگاری، معاشی کمزوری اور سماجی عدم تحفظ کا شکار رہتی ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو صرف انتخابات کے موسم میں یاد کیا جاتا ہے، اور پھر پانچ سال کے لیے انہیں ان کے حالات پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ آخر کیوں مسلمان اپنی اصل طاقت کو بھول چکا ہے؟ ایک قوم جو علم، تجارت، تہذیب اور کردار کے ذریعے دنیا کی قیادت کرتی تھی، آج سیاسی جماعتوں کے دروازوں پر امیدوں کی بھیک کیوں مانگ رہی ہے؟ کیوں مسلمان اپنی تعلیمی تحریک، اقتصادی خودمختاری اور سماجی اتحاد کے بجائے سیاسی نعروں میں الجھا ہوا ہے؟میرے خیال میں مسلمانوں کو اب سیاسی پارٹیوں کے رحم و کرم پر جینے کی ذہنیت بدلنی ہوگی۔ اگر قوم واقعی عزت اور وقار چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنانا ہوگا۔ ہر محلے میں اسکول، لائبریری، کوچنگ سینٹر اور ہنر مندی کے ادارے قائم کرنے ہوں گے۔ نوجوانوں کو صرف جذباتی سیاست نہیں بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی، قانون، میڈیا اور کاروبار کی دنیا میں آگے بڑھانا ہوگا۔ جب تک مسلمان معاشی اور تعلیمی طور پر مضبوط نہیں ہوگا، تب تک وہ ہر سیاسی پارٹی کے لیے صرف ایک استعمال ہونے والا طبقہ بنا رہے گا۔یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان جذباتی نعروں کے بجائے سوال پوچھنا سیکھے۔ جو پارٹی ووٹ مانگنے آئے، اس سے تعلیم، روزگار، تحفظ اور نمائندگی کے بارے میں عملی جواب طلب کرے۔ صرف مذہبی یا سیکولر نعروں پر یقین کرنے کے بجائے اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرے۔

مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی پر جب میں سنجیدگی سے غور کرتا ہوں تو دل میں ایک عجیب سی کسک پیدا ہوتی ہے۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ حالات خراب ہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے اپنی تباہی کے اسباب خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیے ہیں۔ ہم ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں، مگر خود احتسابی سے ہمیشہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہندوستانی مسلمانوں کی بدحالی میں دوسروں سے زیادہ خود مسلمانوں کی اپنی کمزوریاں، بدعنوانی، جھوٹ، منافقت، عہدوں کی لالچ اور ذاتی مفادات شامل ہیں۔قوم کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلی گئی ہے جن کے نزدیک ملت کی خدمت سے زیادہ اپنی کرسی، اپنی تصویر اور اپنی سیاسی دکان اہم ہے۔ مذہب کے نام پر جذبات بھڑکائے جاتے ہیں مگر تعلیم، روزگار اور فکری ترقی پر بات نہیں کی جاتی۔ ہم نے قوم کو نعروں میں الجھا دیا اور نئی نسل کو عملی میدان میں تنہا چھوڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان معاشی، تعلیمی اور سماجی طور پر کمزور ہوتے جا رہے ہیں اور بحالتِ مجبوری ذلیل و خوار زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مجھے سب سے زیادہ مایوسی اس وقت ہوئی جب میں نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو دو تفصیلی خطوط لکھے۔ ان خطوط میں میں نے نہ کوئی عہدہ مانگا، نہ کوئی مالی فائدہ، بلکہ صرف یہ پیش کش کی کہ میں مغربی بنگال کے مسلمانوں کے لیے بطور کنسلٹینٹ کام کرنا چاہتا ہوں تاکہ تعلیمی، سماجی اور فکری مسائل کے حل کے لیے کچھ مثبت تجاویز پیش کر سکوں۔ لیکن افسوس کہ ان خطوط کا کوئی جواب تک نہیں دیا گیا۔بعد میں ان کی پارٹی کے چند دلال نما کارکنوں نے بڑی بے شرمی سے مجھ سے کہا کہ "ممتا بنرجی خط نہیں پڑھتیں، اور ان تک خط پہنچنے بھی نہیں دیا جاتا"۔یہ سن کر مجھے حیرت نہیں ہوئی، صرف افسوس ہوا۔ شاید ہمارے ملک میں لیڈروں تک عوام کی آواز پہنچنے سے پہلے ہی چاپلوسوں، مفاد پرستوں اور سیاسی دلالوں کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ عوام کے مسائل سے زیادہ اہمیت خوشامد کرنے والوں کو دی جاتی ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک سیاستدان کی ناکامی نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کی اخلاقی موت کی علامت ہے۔پریشانی کی بات یہ ہے کہ سیاستدان عوام کے درمیان جا کر جمہوریت، سیکولرازم اور خدمت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، مگر جب کوئی شخص سنجیدگی کے ساتھ قوم کی بہتری کے لیے اپنی خدمات پیش کرتا ہے تو اس کی آواز فائلوں، دلالوں اور سیاسی ایجنٹوں کے درمیان دفن کر دی جاتی ہے۔ پھر یہی لوگ انتخابی جلسوں میں مسلمانوں کے مستقبل کی فکر کا ڈرامہ کرتے ہیں۔

میرے نزدیک مسلمانوں کو اب دوسروں کے رحم و کرم پر جینے کے بجائے خود اپنے اندر انقلاب پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کو ہنر، ٹیکنالوجی، تجارت اور جدید علوم کی طرف لانا ہوگا۔ ہمیں ایسے لیڈروں کو مسترد کرنا ہوگا جو صرف جذباتی تقریریں کرتے ہیں مگر عملی میدان میں صفر ثابت ہوتے ہیں۔ فرقہ واریت، حسد اور ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر اجتماعی ترقی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔اگر مسلمان سچائی، محنت، علم اور اتحاد کو اپنا لیں تو حالات بدل سکتے ہیں۔ لیکن جب تک ہم خود اپنی اصلاح نہیں کریں گے، تب تک سیاسی جماعتیں ہمیں صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی رہیں گی۔ قوموں کی عزت نعروں، جذباتی تقریروں یا سیاسی وعدوں سے نہیں بلکہ کردار، علم اور عمل سے بحال ہوتی ہے۔

میرے خیال میں ہندوستانی مسلمانوں کی ترقی، عزت اور تحفظ کا سب سے بڑا راز اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ جب تک مسلمان ذات، مسلک، جماعت اور ذاتی مفادات کی دیواروں میں تقسیم رہیں گے، تب تک وہ سیاسی طور پر کمزور اور سماجی طور پر غیر محفوظ رہیں گے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان چھوٹے چھوٹے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر تعلیم، معیشت، روزگار اور نئی نسل کے مستقبل جیسے بڑے مسائل پر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ ایک منتشر قوم ہمیشہ دوسروں کے رحم و کرم پر رہتی ہے، جبکہ متحد قوم اپنی آواز، اپنی شناخت اور اپنے حقوق کا تحفظ خود کر سکتی ہے۔ اگر ہندوستانی مسلمان سچے دل سے اتحاد، بھائی چارے اور اجتماعی شعور کو اپنا لیں تو نہ صرف ان کی ترقی ممکن ہے بلکہ ان کا تحفظ اور وقار بھی مضبوط ہو جائے گا۔

ہندوستانی مسلمان اپنی تقدیر سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں میں دینے کے بجائے خود اپنی تقدیر لکھنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ جو قومیں دوسروں کے وعدوں پر زندہ رہتی ہیں، وہ ہمیشہ استعمال ہوتی ہیں۔ اور جو قومیں علم، اتحاد اور خودداری کو اپنا لیتی ہیں، دنیا ان کی آواز سننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔