آئی ایم ایف نے پاکستان کو 1.32 ارب ڈالر کی قسط جاری کردی
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق اس کے ایگزیکٹو بورڈ نے جمعے کے روز پاکستان کے لیے 1.32 ارب ڈالر قرض کی قسط کی منظوری دی ہے۔
ایک بیان میں آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت پاکستان کو فوری طور پر تقریباً 1.1 ارب ڈالر جبکہ ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت تقریباً 22 کروڑ ڈالر جاری کیے جائیں گے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان سے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔آئی ایم ایف نے بجلی، گیس اور پٹرولیم قیمتیں لاگت کے مطابق رکھنے کی ہدایت کی۔ سرکاری اداروں کی نجکاری اور اصلاحات تیز کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیاہے۔ سماجی تحفظ اور تعلیم و صحت پر اخراجات بڑھانے ،موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔ آئی ایم ایف نے اعلامیہ میں کہا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آ رہا ہے۔مشرق وسطیٰ جنگ کے باوجود پاکستان نے معاشی اہداف حاصل کئے، پاکستان کو کاروباری وسعت کے لئے مسابقت کو مقابلے کو فروغ دینا ہوگا۔ مسابقت سے پیداواری شعبہ ترقی کرے گا۔
آئی ایم ایف کے مطابق معاشی اصلاحات کے ذریعے پاکستان طویل مدت معاشی گروتھ حاصل کرسکتا ہے۔ مالی سال 2026میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔مہنگائی کی شرح رواں مالی سال میں 7.2 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، رواں مالی سال پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد رہنے کا امکان ہے، رواں مالی سال قرض معیشت کا 73.8 فیصد رہ سکتے ہیں۔