ایران سے معاہدہ نہ ہؤا توپراجیکٹ فریڈم پلس کی طرف جائیں گے: ٹرمپ

  • ہفتہ 09 / مئ / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کو بھیجی گئی تجویز پر تہران کا جواب آج متوقع ہے۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی فوج ختم ہوگئی، دیکھتے ہیں وہ کیا کرتا ہے۔ معاملات آگے نہ بڑھے تو دوبارہ پراجیکٹ فریڈم کی طرف جاسکتے ہیں۔

دوسری طرف ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران امریکی تجاویزپرغور کر رہا ہے جب کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے تو اس کا اعلان کریں گے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ دشمن کی جمعرات کی رات کی کارروائی بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ایرانی افواج اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ مکمل طور پرتیار ہیں اور صورتحال پر قریبی نظررکھے ہوئے ہیں۔

اس دوران  امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ دونوں ممالک ثالثوں کے ذریعے ایک ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں، جس کے تحت ایک ماہ پر محیط مذاکراتی عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کا مقصد جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا خاتمہ بتایا جا رہا ہے۔

الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی 14 نکاتی مسودے کے مطابق ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا عمل مکمل طور پر روک دے، کم از کم 12 سال تک یورینیئم کی افزودگی بند کرے اور تقریباً 440 کلو گرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم امریکا کے حوالے کرے۔ اس کے بدلے میں امریکا نے پابندیوں میں نرمی لانے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ان نکات میں آبنائے ہرمز کو 30 دن کے اندر دوبارہ کھولنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

ایران کی جانب سے تاحال باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا تاہم الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پارلیمانی اور سیکیورٹی حکام نے ان تجاویز کو غیر حقیقی اور بعض کو انتہائی سخت مطالبات قرار دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری افزودگی پروگرام اس کی ’سرخ لکیر‘ ہے اور اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ تہران کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اسے اقوامِ متحدہ کی سطح پر سیکیورٹی ضمانتیں دی جائیں اور تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔

دوسری طرف بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی انٹیلیجنس ادارے سی آئی اے کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق تہران کئی ماہ تک بحری ناکہ بندی برداشت کر سکتا ہے۔ سی آئی اے کی رپورٹ سے باخبر ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے اندازے کے مطابق تہران کم از کم مزید چار ماہ تک امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برداشت کر سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن، تہران پر زیادہ دباؤ نہیں ڈال پا رہا۔

تاہم ایک سینیئر انٹیلیجنس عہدیدار کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کی رپورٹ کے متعلق دعوے ’درست‘ نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کو شدید مالی نقصان پہنچ رہا تھا اور اس کی معیشت تیزی سے گر رہی تھی۔