انون کا دائرہ اور اختیار کا نشہ
- تحریر نسیم شاہد
- ہفتہ 09 / مئ / 2026
اچھی خبر ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے پیرا فورس کے اہلکاروں کی مسلسل شہریوں سے بدتمیزی اور برے سلوک کا نوٹس لیا ہے۔30جون تک افسروں اور اہلکاروں کو باڈی کیم لگانے کا حکم بھی دےدیا ہے۔
5مئی کے کالم ’ایک معصومانہ سوال‘ میں اسی موضوع پر لکھتے ہوئے میں نے کہا تھا پنجاب میں جو فورس بھی حکومت اچھی نیت سے بناتی ہے، وہ اپنی حدود سے باہر نکل کر قانون کی بجائے بڑھک باز اور تڑی فورس بن جاتی ہے۔ اس کے افسر اور ماتحت یہ سمجھنے لگتے ہیں، انہیں عوام پر ظلم ڈھانے اور اُن کی زندگی کو مزید اجیرن بنانے کے لئے تعینات کیا گیا ہے۔سابق آئی جی سردار محمد چودھری کہتے تھے ایک پولیس والے کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوتی ہے کہ کوئی اس کی وردی پر ہاتھ ڈالے۔اس کی وضاحت وہ یوں کرتے تھے کہ پولیس والا اگر اپنی وردی کا اپنے رویے اور قانون کی حدود میں رہ کر احترام نہیں کرا سکتا تو وہ لاکھ یہ کہتا رہے اُس نے شیر کی کھال پہن رکھی ہے،اس کی حالت ایک ہارے ہوئے شخص کی ہوتی ہے۔ آج آپ سڑکوں پر دیکھیں تو روزانہ ایسے واقعات نظر آتے ہیں،جن میں ایک یا کئی پولیس والوں یا پیرا فورس اور پھر ٹریفک وارڈنز سے لوگ دست وگریبان ہوتے ہیں۔ وردی کو مقدس قرار دیا جانا چاہئے مگر یہ وردی کچھ اصول بھی تو سکھاتی ہو گی،حدود و قیود بھی تو رکھتی ہو گی۔ بے لگام آزادی تو قانون کی ضد ہے۔ یہ اگر ہو تو پھر اندھیر نگری چوپٹ راج کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
جب پیرا فورس بنی تھی تو سب نے اُس کے لئے تالیاں بجائی تھیں، اسے وقت کی ضرورت قرار دیا تھا۔ شہروں میں جس طرح تجاوزات نے انہیں جنگل بنا دیا تھا، اس کے خلاف بلدیہ کا عملہ ناکام ہو چکا تھا۔شروع میں کام بھی اچھے ہوئے، قانون اور ضابطے کے دائرے میں رہ کر کارروائیاں کی گئیں مگر پھر اختیارات کے نشے اور کرپشن نے رنگ دکھانا شروع کیا۔ من مانیا ں ہونے لگیں، کسی کی دکان سیل کر دی، کسی کی چھوڑ دی، کسی کا ٹھیلا اُٹھا لیا، کسی کا رہنے دیا، پھر سامان کی خورد برد کے واقعات سامنے آنا شروع ہوئے۔ بات یہیں نہیں رُکی دکانداروں کو دکانوں سے نکال کر تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیوز گردش کرنے لگیں۔حکومت نے معاشرتی فلاح کے لئے ایک ادارہ بنایا مگر وہ حکومت کے لئے نیک نامی کی بجائے عوامی ردعمل کا باعث بنتا گیا۔اب اگر مریم نواز شریف نے اس کا نوٹس لیا ہے، انہیں لینا بھی چاہئے تھا۔حکمرانی ڈنڈے کے زور پر نہیں ہوتی بلکہ قانون کے بل بوتے پر ہوتی ہے۔ مریم نواز نے پیرا فورس میں تعینات چار ہزار سے زائد افسروں اور ملازمین کی سکروٹنی کا بھی حکم دیا ہے۔ کون کیسے آیا ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ پچھلا ریکارڈ کیا ہے؟ کرپشن کے کسی الزام کی زد میں تو نہیں رہا۔ عوام کے ساتھ اشتراک عمل کا اسے کتنا تجربہ ہے؟اس سے یقینا ً دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ وہ افسر اور اہلکار جو سفارشیں کرا کے اس فورس میں آئے ہوں گے، اُن کی چھانٹی ضرور ہو گی۔
سرکاری ملازمین کی اس نفسیاتی الجھن کا حل کسی کے پاس ہے یا نہیں کہ وہ سرکاری ملازمت میں آتے ہی کلونیل ازم کی اُس سوچ کا شکار ہو جاتے ہیں جو عوام کو غلام اور خود کو آقا سمجھنے کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ بات صرف پیرا فورس کی تھوڑی ہے آپ جس ادارے کو بھی دیکھیں اُس کا رویہ عوام سے ہمدردانہ ہر گز نہیں ہو گا بلکہ اُن کی سوچ اس نکتے پر استوار ہو گی کہ خلق ِ خدا کو تنگ کرنا ہے۔یہ محکمے یہ ادارے اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ معاشرہ فلاحی بنیادوں پر چلتا رہے۔لوگ مسائل کا شکار نہ ہوں اور انہیں دہلیز پر ہر مسئلے کا حل ملے۔ آپ اگر پنجاب حکومت کی ویب سائٹ پر جا کر ان سہولتوں اور ایپس کا جائزہ لیں جو عوام کی خدمت کے لئے بنائی گئی ہیں تو دماغ چکرا جائے۔آپ کو یوں لگے گا کہ ہر مسئلے کا تو حل بہت آسان ہو گیا ہے۔ مگر نہیں صاحب معاملہ یہ نہیں ہے۔ آگے جو نظام ہے، جو سرکاری کارندے ہیں، انہوں نے بھی ہر مسئلے کا حل ڈھونڈا ہوا ہے ۔چونکہ بالآخر جانا انہی کے پاس ہوتا ہے اس لئے وہ آپ کو ایک پٹڑی پر ڈال دیتے ہیں جو گھماتی رہتی ہے منزل تک نہیں پہنچتی۔
ابھی چند روز پہلے وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہی صاف ستھرا پروگرام پر جو شدید تنقید کی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ اس صاف ستھرے پروگرام کی وجہ سے کرپشن کے کئی نئے در کھلے ہیں۔ آپ کو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ پنجاب کی کسی ایک تحصیل کا سالانہ ٹھیکہ جب کوئی کمپنی لیتی ہے تو اسے ایک ارب بیس کروڑ روپے سال میں ادا کئے جاتے ہیں۔ معاہدے تو بڑے چکا چوند ہوتے ہیں جن میں صفائی ورکروں کی تعداد، گاڑیوں اور عملے کی فراہمی اور روزانہ کی بنیاد پر صفائی و کوڑے کی شرائط طے کی گئی ہوتی ہیں مگر اِن کمپنیوں نے افسروں کے ساتھ مل کر لوٹ کیسے مچائی ہوئی ہے۔فرضی حاضریوں کم گاڑیوں اور کوڑے کی جگہ پتھر اُٹھا کر وزن پورا کرنے کی وارداتوں کے ذریعے اس نظام کو فیل کر دیا گیا ہے۔صرف ملتان ڈویژن ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کمشنر عامر کریم خان نے ناقص کارکردگی کی وجہ سے اُن کے معاہدے کینسل کئے،وگرنہ پنجاب کے کسی کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ان صفائی کا ٹھیکہ لینے والی کمپنیوں پر چیک رکھے۔
ہم وہ معاشرہ بن چکے ہیں جس میں ہر کوئی پاور ہنگر یعنی طاقت کا متلاشی، سرکاری عہدہ اسی نفسیاتی کمزوری کا سب سے آسان حل نظر آتا ہے۔ یہ نظام درجہ بدرجہ طاقت کی سیڑھیوں پر کھڑا ہے،لیکن ہر ایک کی اپنی اپنی جگہ نفسیات یہی ہے کہ میں نے اپنے عہدے یا اختیار کی طاقت سے اپنا رعب داب جمانا ہے۔ کبھی آپ اُس ایس ایچ او کو ڈی پی او کے اردل روم میں دیکھیں جو اپنے علاقے میں حد درجہ بدتمیز اور اکھڑ مشہور ہے تو حیران رہ جائیں۔ یہ وہی شخص ہے جو انسان کو انسان نہیں سمجھتا،کیونکہ وہاں اُس کی ٹانگیں کانپ رہی ہوتی ہیں اور زبان لڑکھڑا رہی ہوتی ہے مگر باہر آتے ہی وہ اپنی پتلون کی بیلٹ کو سنبھالتا مولا جٹ بن جاتا ہے۔
بہرحال ہمارے سرکاری افسروں اور ماتحتوں کو سمجھنا چاہئے، وہ یو این او کی فورس میں شامل ہو کر روانڈا یا افریقہ میں نوکری نہیں کر رہے۔ پاکستان میں ہیں جہاں اُن کے ہم وطن اپنے ٹیکسوں سے اُن کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اُن کے ساتھ ناانصافی یا بُرا سلوک اِس لئے بھی انہیں زیب نہیں دیتا کہ ایسا کرنا احسان فراموشی کے زمرے میں آتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)