برطانیہ میں تارکین وطن مخالف ’ریفارم یوکے‘ پارٹی کی کامیابی
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 09 / مئ / 2026
برطانیہ کے وسیع علاقوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تارکین وطن دشمن اور پاپولسٹ ’دی ریفارم یو کے پارٹی‘ نے وسیع کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم اس کامیابی کا بنیادی نکتہ اس پارٹی کا تارکین وطن اور مہاجرین مخالف ایجنڈا ہے۔ عام خیال ہے کہ پارٹی لیڈر نیجل فاراج نے قومی وسائل پر پناہ گزینوں اور تاکین وطن کے بوجھ کا ذکر کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ پہلو اس لیے بھی قابل غور ہے کہ عام طور سے بلدیاتی انتخابات میں مقامی سہولتوں میں کمی اور فلاحی منصوبوں کے بارے میں شکایات کی وجہ سے ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ لیکن نیجل فاراج کی نئی پارٹی نے بنیادی طور پر تارکین وطمن اور مہاجرین کو نشانہ بنا کر ووٹروں کو متاثر کیا اور خود کو ان انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی پارٹی کی پوزیشن پر فائز کیا ہے۔ مقامی انتخابات میں تارکین وطن کے خلاف جذبات ابھار کر کامیابی حاصل کرنے والی پارٹی ملک کے عام انتخابات میں اس ہتھکنڈے کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ بڑی کامیابی سمیٹنے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ متعدد سیاسی مبصرین یہ قیاس کررہے ہیں کہ ریفارم یوکے پارٹی اب کوئی سیاسی احتجاجی تحریک نہیں بلکہ ایک مضبوط اور قومی سطح پر مستحکم پارٹی کی حیثیت اختیار کرچکی ہے ۔ پارٹی کی اس کامیابی کی وجہ سے اب برطانیہ کا روائیتی سیاسی نقشہ ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوسکتا ہے۔
ریفارم یو کے پارٹی نے اگرچہ ان بلدیاتی انتخابات میں لیبر اور ٹوری پارٹی دونوں کے ووٹ توڑے ہیں لیکن عملی طور سے لیبر پارٹی کو اس کا سب سے زیادہ نقصان ہؤا ہے۔ متعدد کونسلوں میں لیبر کو نئی پارٹی کے لیے جگہ خالی کرنا پڑے گی۔ اسی لیے ان انتخابات کو وزیر اعظم کئیر اسٹارمر کی ناکامی قرار دے کر ان سے استعفی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اسٹارمر نے انتخابی نتائج سامنے آنے کے فوری بعد انتخابی ناکامی کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم پارٹی قیادت اور وزارت عظمی سے استعفی دینے سے انکار کیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ان نتائج کی وجہ سے اسٹارمر کے اقتدار کو فوری خطرہ نہ بھی ہو تو بھی اس بات کا امکان نہیں ہے کہ وہ آئیندہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی قیادت کرسکیں گے۔ لیبر پارٹی میں یہ خیال تقویت پکڑ رہا ہے کہ اسٹارمر اب پارٹی کو کامیابی دلانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ جنسی اسکینڈل میں ملوث امریکی سرمایہ دار جیفری ایپسٹائن سے قریبی تعلق رکھنے والے شخص کو امریکہ میں برطانیہ کا سفیر مقرر کرنے پر وزیر اعظم کو پہلے ہی شدید تنقید کا سامنا ہے۔
ریفارم یو کے پارٹی نے اگرچہ لیبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں شدید زک پہنچائی ہے لیکن وہ کنزورویٹو پارٹی کی برطانوی سیاست میں حیثیت کے لیے حقیقی چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے۔ کنزورویٹو پارٹی رائے عامہ کے جائزوں میں مسلسل ناکامی کا سفر کررہی تھی لیکن ان انتخابی نتائج نے اس کی سیاست کے لیے ایک ایسا تازیانہ ثابت ہوئی ہے جس سے باہر نکلنے کے لیے اسے شدید محنت کی ضرورت ہوگی۔ ورنہ انتہاپسندانہ اور پاپولر نعروں کو عام کرنے والی یوکے ریفارم پارٹی اس کی جگہ لے سکتی ہے۔ اگرچہ کچھ عرصہ پہلے تک یو کے ریفارم پارٹی کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا تھا تاہم پہلے رائے عامہ کے جائزوں میں اور اب بلدیاتی انتخابات میں شاندار کامیابی کے ذریعے نیجل فاراج نے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر وہ قدامت پسند انتخابی حلقوں میں اپنے پاؤں جمانے میں کامیاب رہے تو آئیندہ انتخابات میں وہ کنزوریٹو پارٹی کی جگہ دائیں بازو کی نمایاں پارٹی ثابت ہوسکتی ہے۔
اگرچہ برطانیہ کے انتخابی نظام کی وجہ سے کسی بھی نئی پارٹی کے لیے عام انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ کیوں کہ ہر حلقے میں صرف اسی پارٹی کا امیدوار ہی کامیاب ہوتا ہے جو ووٹوں کی سادہ اکثریت حاصل کرلے۔ اس مقصد کے لیے کسی بھی سیاسی پارٹی کو سینکڑوں انتخابی حلقوں میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہونا چاہئے۔ دو پارٹی نظام کے تحت کام کرنے والے برطانوی نظام میں یہ مرحلہ عبور کرنا آسان نہیں ہوگا۔ کئی سال سے برطانوی سیاست میں نمایاں ہونے کی کوشش کرنے والی لبرل پارٹی ابھی تک پارلیمنٹ میں حکومت سازی کی پوزیشن حاصل نہیں کرسکی کیوں کہ اس کے ووٹ ملک بھر تو موجود ہوتے ہیں لیکن حلقوں میں بٹ کر وہ پارٹی کو کامیابی دلانے میں ناکام رہتے ہیں۔ ریفارم یوکے پارٹی کو بھی اس مشکل کا سامنا ہوگا۔ لیکن بعض مبصرین سمجھتے ہیں کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات سے جو سیاسی مزاج سامنے آیا ہے، اس کی روشنی میں یہ دکھائی دینے لگا ہے کہ اب برطانوی سیاست میں دو پارٹیوں کے تسط کے دن گنے جاچکے ہیں۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ریفارم یوکے پارٹی کے علاوہ بائیں بازو کا رجحان رکھنے والی گرین پارٹی نے بھی شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کی سیاسی مقبولیت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گرین پارٹی نے 18 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اس طرح وہ لیبر اور کنزرویٹو دونوں سے ’بڑی‘ پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ مستقبل میں دو کی بجائے تین یا چار پارٹیاں برطانوی پارلیمنٹ کی بیشتر سیٹوں پر کامیاب ہوں گی۔ اس طرح صرف لیبر یا کنزرویٹو پارٹی کی حکومت بننے کی بجائے مستقبل میں شاید مخلوط حکومت قائم کرنا ضروری ہوجائے۔ ایک امکان یہ بھی موجود ہے کہ ریفارم یو کے پارٹی پارلیمنٹ میں اکثریت تو حاصل نہ کرسکے لیکن اتنی بڑی تعداد میں سیٹوں پر انتخابات جیت لے کہ کوئی بھی بڑی پارٹی اس کی حمایت کے بغیر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ ہو۔ اس انتہاپسند پارٹی کی کامیابی کا سب منفی اثر یہ ہوگا کہ برطانوی سیاست میں اب سب پارٹیاں تارکین وطن کے خلاف اقدامات پر بات کریں گی اور مہاجرین کے لیے برطانیہ کے حالات مشکل بنائے جائیں گے۔
یہی ریفارم یوکے پارٹی کی کامیابی اور تارکین وطن کے خلاف نعروں کی مقبولیت کا سب سے نمایاں اور منفی پہلو ہے۔ ریفارم یوکے پارٹی نے 26 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل کی ہے۔ یہ ملک کے ووٹروں کا ایک چوتھائی حصہ ہے جو کسی بھی ملک کی سیاست پر دیر پا اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ برطانوی رائے عامہ میں نسل اور دوسری ثقافتوں کے بارے میں ابھرنے والے اس منفی رجحان سے ہی ملک کے سماجی تانے بانے پر اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ شروع کے سالوں میں یہ ووٹر اگر پارلیمنٹ میں اپنی کسی پسندیدہ پارٹی کو کامیاب کرانے میں کامیاب نہ بھی ہوسکیں تو بھی ان کا اثر و رسوخ سرکاری پالیسیوں اور سماجی رویوں میں ہر جگہ محسوس کیا جائے گا۔ یہی ان انتخابات کا سب سے ہریشان کن اور تشویشناک پہلو ہے۔
برطانیہ میں ریفارم یوکے پارٹی کی کامیابی یورپ کے دیگر ممالک فرانس، نیدر لینڈ ، ڈنمارک اور سویڈن وغیرہ میں دائیں بازو کی انتہا پسند تحریکوں اور پارٹیوں کی مقبولیت ہی کی طرز پر ایک ایسے رجحان میں اضافے کی نشاندہی ہے جو بین الثقافتی معاشرہ تبدیل کرکے اسے سفید فام اکثریتی خواہش کے مطابق تشکیل دینا چاہتاہے۔ یہ سوچ اور مزاج درحقیقت نسل پرستی اور خود سے مختلف دکھائی دینے والوں سے نفرت یا دوری کا رویہ راسخ کرتی ہے۔ یہی اس وقت یورپی سیاست کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات میں یہ نمایاں ہوکر سامنے آیا ہے۔
مین اسٹریم سیاست دانوں نے اگر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹھوس سیاسی پروگرام تشکیل نہ دئیےتو جمہوریت اور اور انسانی حقوق کی روایت مقبولیت کے نام پر اٹھنے والے اس طوفان میں بہہ جائے گی۔