بنوں پولیس چوکی پر حملہ میں 15 اہلکار جاں بحق، مقابلہ جاری ہے

  • اتوار 10 / مئ / 2026

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ہفتے کی رات ایک پولیس چوکی پر حملے کے نتیجے میں اب تک 15 پولیس اہلکار جان بحق ہوچکے ہیں۔ جبکہ تین زخمی ہیں۔ 

بنوں پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ فتح خیل چوکی حملے کے نتیجے میں منہدم ہو گئی اور کئی پولیس اہلکار ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔ یہ چوکی بنوں کے منڈان تھانے کے حدود میں واقع ہے اور اس سے پہلے بھی اس تھانے اور اسی علاقے میں پولیس اہلکاروں اور پولیس وین پر حملے کیے گئے ہیں۔

سکیورٹی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ حملے کے بعد امدادی کارروائی کے لیے پہنچنے والے اہلکاروں پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ روئٹرز کے مطابق پولیس افسر سجاد خان نے کہا کہ بنوں شہر کے مضافات میں واقع چوکی پر تعینات 15 میں سے زیادہ تر اہلکاروں کے جان سے جانے کا خدشہ ہے اور یہ تنصیب مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

انہوں نے رات گئے بتایا کہ لڑائی جاری ہے اور نقصان کی مکمل تفصیل آپریشن ختم ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔ ایک اور پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’دہشت گردوں نے پہلے پولیس چوکی پر بارودی مواد سے بھری گاڑی سے حملہ کیا، پھر مسلح افراد نے احاطے میں داخل ہو کر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مدد کے لیے گئے لیکن دہشت گردوں نے ان پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا اور کچھ جانی نقصان ہوا۔

پولیس ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں نے اس حملے میں ڈرونز استعمال کیے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے بتایا کہ حملے میں ایک خودکش بمبار بھی شریک تھا۔ پولیس افسر زاہد خان نے اے پی کو بتایا کہ حملے کے فوری بعد کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور دھماکے کے اثرات سے قریبی کئی مکانات اور سکیورٹی چوکی منہدم ہو گئی۔

انہوں نے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا اور کہا کہ فائرنگ کا تبادلہ ابھی جاری ہے اور کچھ اہلکاروں کے زخمی ہونے اور ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

روئٹرز کے مطابق ریسکیو ایجنسیوں اور سرکاری ہسپتالوں کی ایمبولینسیں جائے وقوعہ پر بھیج دی گئیں اور حکام نے بنوں کے سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ اتحادالمجاہدین نامی عسکری اتحاد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔