بنیان مرصوص اور سانحہ 9 مئی کا یوم ’اتصال‘

پاکستان میں گزشتہ سال بھارت کے ساتھ جنگ کا ایک سال  مکمل ہونے پر تقریبات اور قومی جوش و خروش   ظاہر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ آج  دن کا آغاز روالپنڈی میں جی ایچ کی ایک تقریب سے ہؤا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہ شریک تھے۔ بعد میں   اسلام آباد میں مونومنٹ پاکستان پر خصوصی تقریب  منعقد کی گئی  جس میں عسکری قیادت کے علاوہ  صدر پاکستان اور وزیر اعظم  سمیت متعدد سیاسی لیڈر بھی شریک تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے مستقبل میں 10 مئی  کو بھارتی حملے کے جواب میں شروع کیے گئے آپریشن  کی  یاد میں  یوم بنیان مرصوص کے طور منانے کا اعلان کیا۔ یوں تو   ملک کے دیگر شہروں میں اس جنگ کی یاد میں منائی جانے والی تقریبات کا سلسلہ  تین  روز پہلے ہی شروع ہوگیا تھا تاہم آج  راولپنڈی اور اسلام آباد  میں منعقد ہونے  والی تقریبات کو    نقطہ عروج کہا جاسکتا ہے۔ ملک کے تمام نمایاں لیڈروں نے اس موقع پر جمع ہوکر سال بھر پہلے حاصل کی جانے والی کامیابی کو یاد کیا، افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا اور اور مستقبل میں ملک کے دفاع کو مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے الفاظ میں  ’پاکستان کے خلاف آئندہ کسی بھی مہم جوئی کی کوشش کی گئی تو اس بار جنگ کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی وسیع، خطرناک، دوررس اور تکلیف دہ ہوں گے‘۔

یہ  ملک کے دشمنوں کے لیے دو ٹوک پیغام اور  اہل پاکستان کے لیے یقین دہانی کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس ملک کی سالمیت و خود مختاری کا تحفظ  کرنے  کے لیے سول قیادت کے علاوہ افواج پاکستان بھی ہر وقت پرعزم ہیں۔ تاہم شان و شوکت کے اس مظاہرے اور بلند باند  دعوؤں کے ہجوم میں شاید پاکستانی عوام  کے بنیادی مسائل مسلسل نظر انداز ہورہے ہیں۔ خاص طور ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال نے ایک ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ مہنگائی اور مالی مشکلات  کے بوجھ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ وزیر اعظم گاہے بگاہے عوام کو سہولت دینے کی بات تو ضرور کرتے ہیں لیکن کوئی ایسا  منصوبہ دیکھنے میں نہیں آتا کہ حکومت ان سہولتوں کا انتظام کیسے کرے گی۔ ملکی معیشت آئی ایم ایف کے سہارے کھڑی ہے اور اس کی طرف سے گزشتہ روز ہی قرض کی نئی قسط جاری کرتے ہوئے ملکی معاشی بحالی کے وہی نکات بیان کیے گئے ہیں جن  سے براہ راست عوام کو ملنے والی سہولتیں متاثر ہوتی ہیں۔  یعنی  پیٹرولیم مصنوعات سمیت کسی بھی چیت پر سبسڈی دینے کا طریقہ ختم کرنے پر اصرار، قومی آمدنی میں اضافہ اور  خزانے پر بوجھ بننے والےقومی اداروں کو نجی تحویل میں دینے کا  مطالبہ ۔ یہ اقدامات اگرچہ قومی معیشت مستحکم کرنے کے لیے اہم ہیں لیکن ان ہی کے ذریعے ملک کے عام شہری کو تھوڑی بہت  مالی سہولت حاصل ہوتی  ہے، جس کی وجہ سے وہ  لشٹم پشٹم  زندگی گزار پاتا ہے۔ جب حکومت ملک کے مفلسوں کو خوراک یا  بجلی و گیس پر سہولت دینے میں ناکام رہے اور قومی اداروں کو نجی  تحویل میں دے کر ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کیا جائے تو ان اقدامات سے  عوام کے نچلے طبقات ہی متاثر ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب حکومت زیادہ آمدنی والے تاجروں یا نجی کام کرنے والے لوگوں کو ٹیکس نیٹ  میں لانے میں ناکام رہتی ہے تو وہ آمدنی کے اہداف پورے کرنے کے لیے بالواسطہ محاصل میں اضافہ کرتی ہے۔ اس سے بھی وہی عام آدمی متاثر ہوتا ہے جسے تبدیل شدہ عالمی حالات کی وجہ سے پہلے ہی شدید مالی  بوجھ  اٹھانا پڑرہا ہے۔

حکومت کو بھارت کے خلاف جنگ  میں فتح  پر دھوم دھام مناتے ہوئے  ان پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مشاہدے  میں آیا ہے کہ اگر کسی مریض کو مناسب دوا  نہ دی جاسکے اور اس کا علاج ممکن نہ ہو تو تیمار دار یا ڈاکٹر کی  تسلی یا ہمدردی کے الفاظ بھی اسے حوصلہ  دینے اور اس مشکل سے نکلنے  کی ہمت عطاکرنے کا سبب بن سکتی ہے۔  بعینہ حکومت کے کارپرداز اگر ملکی معیشت کی مجبوریوں کی وجہ سے عوام کو زیادہ سہولتیں دینے  سے قاصر ہوں بھی  تووہ ان مسائل پر بات کرکے اور عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کے مختلف طریقوں پر عمل کرکے   ظاہر کریں کہ انہیں لوگوں کی تکالیف کا احساس ہے تو شاید عام آدمی یہ سوچ کر حوصلہ پاسکتا ہے کہ اس کی حکومت اس کی مشکلوں سے آگاہ اور ان پر پریشان ہے۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت کی طرف سے ایسا طرز عمل دیکھنے میں نہیں آتا۔

 سب سے پہلی بات تو  یہ کہ حکمرانوں اور عام شہریوں کی زندگیوں میں تفاوت  روز بروز نہ صرف بڑھتا جارہا ہے بلکہ نمایاں ہورہا ہے۔ حکمرانوں کا طرز زندگی اور شاہانہ طور طریقے ملکی عوام کے روزمرہ سے میل نہیں کھاتے۔ اس پر طرہ یہ کہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے   نچلے طبقے کو  مسلسل پیٹرولیم مصنوعات ، بجلی و گیس  کی قیمتوں میں اضافے کا پیغام دیا جاتاہے لیکن بعض مراعات یافتہ طبقات جن میں اعلیٰ سرکاری افسران، جج، اور پارلیمنٹیرینز شامل ہیں کی سہولتوں میں کمی نہیں ہوتی۔ ان کاطرز زندگی  شاہانہ ہے  اور ان کو ملنے والی مفت سہولتیں ملکی وسائل اور سماجی حالات سے کسی طور  لگاّ نہیں کھاتیں۔  اس فرق کے علاوہ  یہ بھی مشاہدے میں آتا ہے کہ عوام کے مسائل تو کم نہیں  ہوتے لیکن عوام کے ووٹ لے کر منتخب ہونے والی حکومتیں ان پر  غور کرتے یا کوئی سنجیدہ منصوبہ بناتے بھی  دکھائی نہیں دیتیں۔ البتہ  صوبائی و مرکزی حکومتیں کروڑوں روپے کے اشتہارات خود نمائی پر صرف کرنے کا اہتمام ضرور کرتی  ہیں۔   ملکی میڈیا عوامی جذبات کو تو زبان عطا نہیں کرسکتا لیکن اس کے ذریعے  چنیدہ ’مبارک ہاتھوں‘ سے عالیشان منصوبوں کے افتتاح کی خبریں  ضرور بڑے اہتمام سے شائع کرائی جاتی ہیں۔ ایسے میں کوئی  یہ سوال کرنے کی  جرات بھی نہیں کرتا کہ کوئی بھی منصوبہ اگر عوام کے ادا کردہ ٹیکسوں یا لیے گئے قرضوں ہی سے  شروع  یامکمل ہوتا ہے تو اس  کے افتتاح یا تکمیل کا کریڈٹ کسی حکمران کو کیسے دیا جاسکتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ کوئی اسکول ہو یا پل، سڑک ہو یا ہسپتال حکمران کے نام  کی تختی اس پر آویزاں کرنا فرض منصبی  تصور کرلیا گیا ہے۔

بدنصیبی سے ملکی عسکری و سفارتی کامیابی کے دعوے  کرنے والے حکمران  بھول جاتے  ہیں کہ ان کی خود پسندی اور  ہر کامیابی کا سہرا اپنے ہی سر باندھ لینے کی  روش سے عوام کے ساتھ ان کا فاصلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔  گلیوں محلوں  میں لوگ ان حکمرانوں کو خود میں سے نہیں سمجھتے۔ کیوں کہ یہ حکمران بھی عوام میں سے نہیں ہیں۔ شہباز شریف عسکری قیادت کی شان میں الفاظ کے گلدستے نچھاور کرتے ہوئے کبھی  ان عوام کی حالت زار  کا ذکر کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے جن کا نام لے کر انہوں نے ملک  پر حکمرانی کا حق حاصل کیا ہؤا ہے۔ یہ رویہ ناراضی، بے چارگی اور بے بسی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ ایسے میں یہ لاوا مسلسل پکتا رہتا ہے لیکن جب یہ باہر نکلتا ہے تو حکمرانوں کو جائے پناہ نہیں ملتی۔

تاہم   بنیان مرصوص کی شاندار تقریبات کے ساتھ ہی یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ  گزشتہ دن سانحہ 9 مئی  کی صورت میں اس قوم پر گزر چکا ہے۔  2023 میں اسی دن تحریک انصاف کے  بانی عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ملک میں شدید ہنگامے شروع ہوئے تھے جن میں عسکری تنصیبات اور یادگاروں پر حملے ہوئے۔ ہزاروں لوگ اس جرم میں اب بھی پابند سلاسل ہیں۔ کسی بھی قوم کو اپنی تاریخ کے ناخوشگوار مرحلوں سے آگے بڑھنے کے لیے ایک خاص مدت کے بعد مصالحت کی طرف  جانے اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ان تین سال کے دوران نہ صرف یہ کہ عمران خان اور ان کے  سینکڑوں ساتھیوں کو ناجائز طور سے  جیلوں میں بند رکھا گیا ہے بلکہ   ان کے لیے انصاف حاصل کرنے کے دروازے بھی بند کیے گئے ہیں۔ عدالتیں نئی ترامیم کے تحت مجبور و پابند کردی گئی ہیں اور میڈیا  پر عائد پابندیوں سے صحت مند اور اہم قومی مکالمہ کا  راستہ  مسدود ہوچکا ہے۔  اس وقت ریاست کی تمام تر طاقت تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے اور عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی نافذ رکھنے پر صرف ہورہی ہے۔ کیا یہ طریقہ ایک فاتح  اور حوصلہ مند قوم کے لیڈروں کو زیب دیتا ہے؟

وزیر اعظم کے لیے اس سوال پر  غور کرنا اہم ہونا چاہئے کہ ملک میں  معاشی بے چارگی اور سیاسی گھٹن میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے کیوں کر محض عسکری فتح یابی اور سفارتی   سرخروئی سے قوم میں اعتماد اور یک جہتی پیدا کی جاسکے گی؟