غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

  • سوموار 11 / مئ / 2026

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں ہیں۔  اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا۔ تاہم جہاں سفارت کاری کا موقع ہوگا وہاں اسے بھی استعمال کیا جائے گا۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کے بھی اپنے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ ایران ہمیشہ اپنے قومی مفادات اور عوام کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکا غیر معقول مطالبات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران نے امریکی صدر کی تجویز پر اپنا جواب گزشتہ روز پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا تھا، امریکی تجویز پر ایرانی جواب متوازن ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیشہ ورانہ انداز میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ ایران نے خطے کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکی تجاویز کا جواب دیا۔ چین کو آگاہ کر دیا کہ امریکی اقدامات سے عدم استحکام پیدا ہو گا، امریکی اقدامات سے خطے میں سلامتی سے متعلق مسائل پیدا ہوں گے۔

اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران نے امریکا کو منصفانہ اور ذمہ دارانہ پیشکش کی ہے۔ ایران نے جنگ کے خاتمے، پابندیوں کے خاتمے اور سمندری راستوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے  اثاثوں کو غیر قانونی طور پر امریکی دباؤ کے باعث منجمد کیا گیا ہے۔ ایرانی منجمد اثاثوں سے پابندیاں ہٹانا بھی مطالبات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یورپی ممالک آبنائے ہرمز میں مداخلت سے گریز کریں۔  یورپی ممالک امریکا اور اسرائیل کے دباؤ کا شکار نہ ہوں، جنگ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں کسی بھی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔  آبنائے ہرمز میں یورپی مداخلت سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

قبل ازیں غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی حکام نے کہا  تھاکہ اگر امریکی صدر ہمارے جواب سے مطمئن نہیں تو یہی بہتر ہے۔ ٹرمپ کا جواب ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا تھا کہ میں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے، مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا، یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی منصوبے پر ایران کا جواب مسترد کردیا۔

اس  دوران ایک انٹرویو  میں  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت موقف اختیار کیا اور کہا کہ امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے، کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر اسے اپنے قبضے میں لیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ جب چاہیں چھین سکتے ہیں، کوئی افزودہ یورینیم کے پاس بھی گیا تو ہمیں پتہ چل جائے گا اور ہم اسے نشانہ بنائیں گے ۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ہے، تاہم ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں ۔ ایرانی قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے۔امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے۔  ایران معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے۔ امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں، امریکا یہ مشرق وسطی میں موجود اتحادیوں کے لیے کر رہا ہے۔