کیا ایرانی پاسداران انقلاب، اسرائیلی مشن کی تکمیل میں معاونت کررہے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے     وائٹ ہاؤس میں امن معاہدہ کے لیے ایران کی جوابی  تجاویز کو ’کچرا‘ قرار دیتے ہوئے کہا   ہےکہ اس وقت ایران کے ساتھ جنگ بندی لائف سپورٹ پر ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری قوت تباہ ہوچکی ہے ۔ امریکہ، ایران جیسے  ’ناقابل اعتبار‘ ملک کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

اس سے پہلے سوشل میڈیا پر  گزشتہ روز پاکستان کے ذریعے ایرانی جوابی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ تجاویز کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔  تاہم صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پیغام کے بعد ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان  اسماعیل بقائی نے تہران میں  پریس بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ایران  کوغیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں ہیں۔ معاہدہ ایران کی ضرورت اور شرائط کے مطابق ہوگا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ’ ایران نے امریکہ کو منصفانہ اور ذمہ دارانہ پیشکش کی ہے۔ ایران نے جنگ کے  مستقل خاتمے، پابندیاں  اٹھانے اور سمندری راستوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے  اثاثوں کو غیر قانونی طور پر امریکی دباؤ کے باعث منجمد کیا گیا ہے۔  منجمد اثاثوں سے پابندیاں ہٹانا بھی  ہمارےمطالبات میں شامل ہے‘۔

جیسا کہ ایرانی ترجمان کے لب و لہجہ سے ظاہر ہوتا ہے   امریکہ اور ایران کے درمیان  تجاویز کا جو تبادلہ ہورہا ہے، وہ معاہدہ  کے لیے کسی امن مسودہ کی تیاری سے زیادہ فریق مخالف سے اپنی شرائط منوانے کی کوشش ہے۔  مبصرین نے نوٹ کیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران پاکستان کے توسط سے جو تجاویز امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے کو بھیجی ہیں ، ان میں مصالحت اور ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے کی بجائے اپنے مطالبے دہرائے گئے ہیں۔ اسی لیے تہران کا رویہ بھی اسی طرح درشت اور سخت ہے جیسا واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے بیانات  سے   عیاں ہوتا ہے۔ ایسے میں پاکستان سمیت متعدد ممالک  کوئی ایسا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کے ذریعے فریقین کچھ رعایت دے کر کوئی خواہش منوانے پر آمادہ کیا جاسکے۔ تاہم اس وقت تہران کے سخت طرز عمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران اب کوئی رعایت  دینے   پر تیار نہیں ہے۔ اس کا خیال ہے کہ امریکہ اس وقت دنیا کی معاشی حالت  اور  مشرق وسطیٰ کے علاوہ یورپ میں اپنے حلیف ممالک کے مفادات کی وجہ سے بری طرح پھنسا ہؤا ہے اور وہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا  خطرہ مول نہیں لے گا۔  قیاس کیاجارہا ہے کہ اس وقت جنگ اگر دوبارہ شروع ہوتی ہے تو  تیل کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ سکتی ہیں اور ایران  ہمسایہ خلیجی ممالک کو شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتا ہے۔

تہران امریکہ یادنیا کی اس مجبوری کو اپنی طاقت سمجھنے کی غلطی کررہا ہے۔ اس رویہ کو خواہ کسی طرح دیکھا جائے لیکن  یہ بلیک میلنگ کی ایک قسم ہے جسے ایران بے دریغ استعمال کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران میں سیاسی قیادت ابھی تک پاسداران کو امن کی طرف لانے پر آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ صدر ٹرمپ کا یہ اندازہ زمینی حقائق سے زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتا کہ ایران میں قیادت کا بحران ہے اور کسی کے پاس حتمی  فیصلہ کرنے کا  اختیار نہیں ہے۔ ایران میں جنگ بندی کے  لیے کوششیں جاری رکھنے والوں میں صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے  جنگ بندی  ختم کرنے کے اشاروں کے باوجود  صدر مسعود پزشکیان نے  تھوڑی دیر پہلےایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایران کو چاہیے کہ میدانِ جنگ میں مسلح افواج کی حاصل کردہ کامیابی کو سفارت کاری کے ذریعے مکمل کرے‘۔ پزشکیان نے سینئر پولیس کمانڈرز سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’ملک کے سامنے تین راستے  ہیں جن میں پہلا وقار کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہونا اور قومی مفادات کا تحفظ کرنا، دوسرا جنگ اور امن کے درمیان کی صورتحال برقرار رکھنا اور تیسرا جنگ اور مذاکرات دونوں کو بیک وقت جاری رکھنا ہے‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ پہلا آپشن ایران کے لیے سب سے بہتر ہے۔

اسی طرح  ایران کی طرف سے امریکہ کو بھیجی گئی جوابی تجاویز میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کے  باوجود ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 24 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ ظاہر  ہے کہ فون پر اس بات چیت میں  سعودی عرب سے کسی امن معاہدہ میں تعاون کی اپیل کی جاتی ہے۔ تاہم جب  ایسی کوئی تجویز باقاعدہ شکل میں تہران کو موصول ہوتی ہے تو پاسداران انقلاب کے عسکریت پسند لیڈر اسے مسترد کردیتے ہیں اور سیاسی لیڈر انہیں قائل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کل ایران نے امریکہ کو جو جواب بھیجا ہے، اس کی تیاری میں تین دن لگائے تھے حالانکہ اس میں وہی پرانے مطالبے دہرائے گئے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھولنے  پر اتفاق کرلیا جائے اور مستقل جنگ بندی ہوجائے لیکن  ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت  مؤخر کردی جائے۔ صدر ٹرمپ اس معاملہ میں اس حد تک واشگاف مؤقف اختیار  کرچکے ہیں کہ کسی امن معاہدہ  میں ایران کی جوہری صلاحیت پر قدغن کی شرائط شامل کیے بغیر شاید امریکہ کسی امن معاہدہ پر راضی نہیں ہوگا۔

اس دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکہ پر جنگ شروع کرنے اور ’نامکمل کام‘ پورا کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ پاسداران کا سخت گیر مؤقف اس اسرائیلی خواہش  کے لیے راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کی یہ خواہش بھی ہے کہ کسی طرح  عرب ممالک  ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہوجائیں۔  متحدہ عرب  امارات   اس تجویز کا حامی  ہے۔ حال ہی میں جنگ بندی کے دوران ایران نے جب  ابوظہبی پر  ڈرون حملہ کیا تھا تو   یو اے  ای اس کا جواب دینا چاہتا تھا۔ تاہم سعودی ولی عہد  محمد بن سلمان نے  براہ راست  امارات کے صدر محمد بن زائد النیہان سے فون پر بات کرکے انہیں صبر کرنے پر آمادہ کیا۔ اس طرح یو اے ای اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ کو روکا گیا۔

 اسرائیل کسی بھی طرح یہ شعلے بھڑکانا چاہتا ہے۔بدقسمتی سے ایران کے پاسداران بھی اسی لیے امریکہ کے ساتھ اشتعال انگیز رویہ اختیار کررہے ہیں تاکہ اگر جنگ بندی ٹوٹتی ہے اور امریکہ و  اسرائیل حملے کرتے ہیں تو وہ  بطور خاص متحدہ عرب امارات اور بحرین کو نشانہ بنا کر  کچھ اہداف حاصل کرلیں۔ تاہم یہ تہیہ کرتے ہوئے شاید  فراموش کردیا جاتا ہے کہ ایران کے پاس میزائل اور ڈرون کے سوا کوئی عسکری صلاحیت نہیں ہے  جبکہ امارات اور بحرین  کی اپنی فضائیہ بھی ہے اور انہیں امریکی حمایت بھی حاصل ہے۔ ایسے میں ایران ان ممالک میں شاید کچھ نقصان تو پہنچا سکے لیکن  ان میں کسی ریاست کے کچھ علاقے پر قبضہ کرنے کا خواب شاید پورا نہ ہوسکے۔ اس کے برعکس البتہ ایسی حکمت عملی اسرائیل کی اس خواہش کو پورا کرنے کا سبب ضرور بن سکتی ہے کہ عرب ممالک اور ایران آپس میں الجھیں تاکہ وہ مخالف قوتوں کو کمزور ہوتا دیکھے۔ سوچنا چاہئے کہ کیا پاسداران کے لیڈر  اس المیہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ  خلیجی ممالک کو براہ راست جنگ پر اکسا کر وہ درحقیقت اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کریں گے؟

اس پس منظر میں صدر مسود پزشکیان کی  یہ تجویز ہی  بہترین ہے کہ ایران کا مفاد سفارت کاری کے ذریعے باعزت معاہدہ کرنے میں ہی مستور ہے۔ بدقسمتی سے تہران میں اس اصول پر اتفاق رائے  دکھائی نہیں دیتا۔ اور بادی النظر میں اسرائیل کا جنگجو وزیر اعظم اور ایران کے عسکریت پسند پاسداران ایک ہی مقصد کے لیے حالات خراب کرنے  پر  تلے  ہوئے ہیں۔