جوہری صلاحیت کا حامل ایران عالمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے!

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و امور خارجہ کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ اگر ایران  پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ایران یورنیم کو 90 فیصد تک افزودہ کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ اس بارے میں اب پارلیمنٹ میں غور کیا جائے گا۔  یہ اشتعال انگیز بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ، ایران کو جوہری صلاحیت کے بارے میں کوئی مناسب فیصلہ کرنے پر  آمادہ کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ کی طرف سے ایران کے ساتھ  جنگ ختم نہ ہونے کی بنیادی وجہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہے۔ امریکہ نے اسی عذر کی بنیاد پر 28 فروری کو  حملہ  کا آغاز کیاتھا ۔  بادی النظر میں ایران کے پاس  60  فیصد تک افزودہ    و یورینیم موجود ہے ۔ جو امریکی بمباری کی وجہ سے پہاڑی ملبے تلے دبا ہؤا ہے۔ اس تک رسائی  بے حد مشکل اور دقت طلب ہوگی۔  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ہی کہا تھا کہ امریکہ ایران کے افزودہ یورینیم پر نگاہ رکھے ہوئے  ہے اور اگر کسی نے اس تک پہنچنے کی کوشش کی تو امریکہ اس کا پیچھا کرے گا اور  اسے گزند پہنچائے گا۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران ایک تو اپنے جوہری پروگرام پر تقریباً ایک دہائی کی مکمل پابندی قبول کرے اور دوسرے  ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم کو یا تو امریکہ کے حوالے کیا  جائے یا اتفاق رائے کی صورت میں اس کی شرح افزودگی کم کی جائے۔ روس بھی پیش کش کرچکا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے وہ بھی ایرانی افزوہ یورینیم کو بحفاظت  ایران سے نکال سکتا ہے۔

جنگ سے پہلے ایرانی  وفد امریکہ کے ساتھ  جوہری صلاحیت پر پابندی کے سوال پر کافی حد تک اتفاق رائے پیدا کرچکا تھا۔ اس  کے علاوہ ایرانی ترجمانوں نے ہمیشہ  مرحوم رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے فتویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے  کہ انہوں نے  ایٹم بم کو حرام قرار دیا ہے ، اس لیے ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ  نہیں ہے۔ البتہ اب ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے ترجمان کا یہ دعویٰ   شدید اشتعال کا سبب بنے گا کہ ایران جن آپشنز پر غور رکررہا ہے، ان میں یورینیم    90 فیصڈ تک افزودہ کرنے کا آپشن بھی شامل ہے۔  اس گریڈ  تک  افزودہ یورینیم جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایرانی پارلیمان کا ایک ذمہ دار ترجمان یہ دھمکی دے رہا ہے کہ ایران ایٹمی دھماکے  کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس سے پہلے آیت اللہ علی خامنہ ای کے فتویٰ کو ایران کی نیک نیتی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ یادیگر مغربی ممالک نے کبھی ان دعوؤں کو قابل قبول نہیں سمجھا۔ اب ایک ایرانی ترجمان نے  خود ہی ایران کی بیان کردہ سیاسی پوزیشن  سے انحراف کرکے دراصل ان تمام خدشات کو  درست ثابت  کیا ہے جو ایران  کے جوہری پروگرام کے بارے میں  سامنے آتے رہے  یں۔ مغربی ممالک اور ماہرین بجا طور سے سوال کرتے رہے ہیں کہ ایران کے پاس تیل و گیس کے وسیع ذخائر ہیں۔ اسے کسی قسم  کے انرجی بحران کا سامنا نہیں ہے ، پھر اسے جوہری صلاحیت حاصل کرنے  کی کیا ضرورت ہے۔ ایران اس سوال پر ایٹم بم نہ بنانے کی یقین دہانی کرانے کے علاوہ یہ تقاضہ کرتا رہا ہے کہ وہ ایک خود مختار اور آزاد ملک ہے۔ کسی دوسرے ملک یا عالمی ادارے کو اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں مطالبے  کرنے کا حق حاصل نہیں ہونا چاہئے۔ حالانکہ  خود مختاری کے ان دعوؤں کے باوصف  2015 میں ایران نے امریکہ و دیگر 6 ممالک کے ساتھ جوہری معاہدہ کیاتھا لیکن   ڈونلڈ ٹرمپ نے  2018 میں اس معاہدے کوناقص قرار دیتے ہوئے، منسوخ کردیاتھا۔ اس کے بعد ایران نے تیزی سے یورینیم افزودگی پر کام شروع کیا جو موجودہ تنازعہ کی بنیاد بنا ہے۔

اس تصویر کا یہ رخ بھی مضحکہ خیز ہے کہ ایران   آزادانہ فیصلے کرنے کا جو حق  اپنے لیے  مانگتا ہے،  ہمسایہ عرب ممالک کو  وہی حق دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے جنگ مسلط کرنے کے بعد سے ایران نے خلیجی و دیگر عرب ممالک کے خلاف غیرعلانیہ جنگ شروع کررکھی ہے۔ اس نے خاص طور سے  متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے۔ اردن اور عمان پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔ ان میں سے کوئی ملک بھی اس جنگ کا فریق نہیں تھا اور نہ ہی کسی ملک نے امریکی حملے کی تائید کی تھی۔ بلکہ بیشتر ممالک نے تو امریکہ کو ایران پر حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی  انکار  کردیا تھا۔ اس کے باوجود ایران نے ان ممالک کو اس بہانے سے نشانہ بنایا کہ وہاں امریکی اڈے موجود ہیں جو ایران کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں۔ ایران البتہ اس بارے میں کوئی شواہد سامنے نہیں لایا۔ اب امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ کے لیے شرائط کا تبادلہ کرتے ہوئے بھی اصرار کیاجاتا ہے کہ امریکہ عرب ممالک سے اپنے اڈے ختم کرے۔ حالانکہ اگر کسی ملک کی خود مختاری کا یہی مقصد لیا جائے جو ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں اختیار کرتا ہے  تو ایران کو کیسے یہ حق حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے امریکہ یا کسی اور ملک کے ساتھ معاہدوں اور باہمی انتظامات پر اعتراض کرے۔ کیا یہ رویہ  اسی  قومی خود مختاری کے اصول کے خلاف نہیں ہے جس کا حوالہ دیتے ہوئے ایران ہر قیمت پر  اپنے ملک میں جوہری لیبارٹریاں  قائم رکھنا چاہتا ہے۔

دریں حالات یہ تو واضح ہے کہ ایران نہ تو پہاڑوں کے  ملبے تلے دبے ہوئے اپنے  افزودہ یورینیم تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس یہ صلاحیت اور انفرا  اسٹرکچر باقی رہا ہے کہ حالت جنگ میں اسے فعال کرکے  ایٹمی دھماکے کرنے کی تیاری شروع کرسکے۔ آبنائے ہرمز بند کرکے ایران نے لگ بھگ پوری دنیا کے ساتھ اعلان جنگ کیا ہؤا ہے۔ اس  صورت میں دنیا  کا کوئی بھی ملک جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے ایران کی مدد نہیں کرے گا۔ اس لیے یہ دعویٰ صرف سیاسی بیان ہی کی حد تک قابل غور ہے۔ لیکن ابراہیم رضائی کے بیان سے  یہ اندازہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں جو اندیشے ظاہر  کرتے ہیں، وہ   بے بنیاد نہیں ہیں۔ اب ایک ذمہ دار ایرانی ترجمان خود ہی دعویٰ کررہا ہے کہ ایران درحقیقت ایٹمی دھماکے کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرسکتا ہے۔

دنیا بھر میں جوہری  ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کی ضرورت ہے تاکہ بنی نوع  انسان کے وجود کو لاحق اس سنگین خطرے سے بچا جاسکے۔ اس کے علاوہ جن ممالک کے  پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، انہیں بھی کسی  عالمی معاہدے کے تحت  اپنے ہتھیار تلف کرنے کا اقدام کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ تاہم ایران کی ہٹ دھرمی اور اب   یورینیم  افزودہ کرنے کے نئے  اعلان کے بعد یہ واضح ہورہا ہے کہ ایران  جیسے غیر ذمہ دار ملک کو ایٹمی ہتھیار بنانے کا حق ملنے سے دنیا ایک بڑے اور شدید بحران کی طرف جا سکتی ہے جس کا حتمی نتیجہ عالمی جنگ کی صورت میں نکلے گا۔ ایران نے اس وقت بھی  ایک مسلمہ عالمی آبی شاہراہ آبنائے ہرمز بند کرکے اور امریکہ و اسرائیل کے ساتھ تنازعہ کو تمام ہمسایہ عرب  ممالک تک پھیلا کر  ثابت کیاہے کہ تہران  حکومت ناقابل اعتبار  ہےاور اپنے مفاد کے لیے کوئی بھی ناجائز ہتھکنڈا استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتی۔

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا صرف صدر ٹرمپ کی ضد ہی نہیں ہے بلکہ اب اسے  پوری دنیاکے پائیدار امن کی ضمانت بھی سمجھنا چاہئے۔ آبنائے  ہرمز بند کرکے ایران نے غیر ذمہ داری سے  دنیا بھر کے ممالک کی معیشت پر اثر انداز ہونے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس اقدام سے  امریکہ و اسرائیل کو کوئی فرق نہیں  پڑتا لیکن پاکستان  جیسے درجنوں  غریب اور اس کے علاوہ متعدد ترقی یافتہ ممالک کے لیے تیل و دیگر مصنوعات کی  فراہمی روکی گئی ہے۔  ایسے ملک کے پاس اگر ایٹمی  ہتھیار ہوں گے تو  وہ ہروقت انہیں عالمی بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرے گا۔