امریکی صدر چین پہنچ گئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ دو روزہ دورے کے دوران وہ چینی ہم منصب کے ساتھ متعدد اہم موضوعات پر گفتگو کریں گے۔
امریکی صدر اور ان کا وفد اب موٹرکیڈ کے ذریعے رن وے سے روانہ ہؤا۔ روانگی سے قبل ریڈ کارپٹ پر ٹرمپ کے ہمراہ نظر آنے والوں میں ایلون مسلک اور امریکی صدر کے بیٹے ایرک بھی شامل تھے۔ اس سے قبل جب صد ٹرمپ ایئر فورس ون سے اترے تھے تو چین کے نائب صدر ہان ژنگ ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔
ہان ژنگ کا شمار چین کے اعلیٰ ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے اور ٹرمپ کے استقبال کے لیے انہیں بھیجنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ چین کی اعلیٰ قیادت امریکی صدر کا احترام کرتی ہے۔
اس سے قبل 2017 کے دوران ٹرمپ کا چین میں استقبال کرنے کے لیے ایک سٹیٹ کونسلر کو بھی بھیجا گیا تھا۔ خیال رہے گزشتہ ربس ٹرمپ کی بطور صدر حلف برداری کی تقریب میں چین کے نائب صدر بھی موجود تھے۔ امریکہ کی چند بڑی کاروباری شخصیات بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ بیجنگ میں طیارے سے اتری ہیں، جن میں ایپل، ٹیسلا اور نویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز بھی شامل ہیں۔
تاہم مجموعی طور پر حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم میں کمی آئی ہے جو بڑھتی ہوئی تجارتی رسہ کشی اور اس کے نتیجے میں عائد کیے گئے محصولات اور دیگر تجارتی پابندیوں کے باعث ہے۔
گزشتہ برس امریکہ اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت کی مالیت 414.7 ارب ڈالر تھی جو 2022 میں 690.4 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا مسئلہ اس تجارت کی غیر متوازن نوعیت ہے، جس میں گزشتہ سال امریکہ نے چین سے 200 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت اشیا خریدیں، جبکہ چین کو فروخت کی گئیں اشیا کی مالیت اس سے کم تھی۔
اس دورے کے دوران دیگر معاملات کے علاوہ ایران جنگ بھی زیر غور آنے کا امکان ہے۔