برطانیہ کا انتخابی طریقہ اور گلاسگو کی ادبی بیٹھک
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- جمعرات 14 / مئ / 2026
برطانیہ جمہوریت کی ماں ہے اور مضبوط حکومتی و سیاسی نظام کی وجہ سے یہاں جمہوریت ہمیشہ مضبوط رہتی ہے۔ یہاں پولنگ اسٹیشنز پر کسی قسم کا ہلہ گلہ اور دھاندلی کا شور شرابہ دکھائی سنائی نہیں دیتا۔
پولنگ کا وقت زیادہ ہونے کی وجہ سے ووٹروں کی قطاریں بھی نظر نہیں آ تیں، نہ ہی پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر اُمیدواروں پولنگ ایجنٹوں یا حامیوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ کاش پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں بھی جمہوریت کا یہی حسن دیکھنے میں آ ئے۔ 7 مئی کو برطانیہ کی مقامی کون۔سل اور اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کے انتخابات میں برسر اقتدار لیبر پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انگلینڈ میں ’ریفارم یوکے‘ کو خاصی برتری حاصل ہوئی ہے جبکہ ویلز میں لیبر پارٹی کی سو سالہ برتری کو plaid Cymru پارٹی نے خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ اور سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی بنی ہے۔ 2029 میں ہونے والے عام انتخابات میں یہ نتائج خاصے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ایس این پی اسکاٹ لینڈ میں نے 58 نشستیں جیتی ہیں (کل 129 میں سے)۔ اکثریت کے لیے 65 نشستیں چاہیے تھیں، اس لیے وہ اکیلے حکومت سازی کے لئے 7 نشستیں کم رہ گئے ہیں۔
گلاسگو کی ادبی بیٹھک میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرنا اچھا لگا یہاں بزم شعر و نغمہ کے زیر اہتمام شاندار ادبی تقاریب برپا ہوتی ہیں۔ معروف شاعرہ اور بزم شعر و نغمہ گلاسکو کی روح رواں محترمہ راحت زاہد کی میزبانی میں ہونے والی تقریب میں شاعروں ادیبوں اور میڈیا کے دوستوں سے خوشگوار ملاقات رہی۔ ان سے کچھ سننے اور سنانے کا موقع ملا۔ کتاب دوستی اور ادبی ہم آ ہنگی کے لئے ایسی تقاریب کا ہونا ضروری ہے۔ ہمارے ملتانی دوست عامر شہزاد صدیقی بھی اپنے گلاسکو قیام کے دوران اس ادبی تنظیم میں سیکرٹری کی حیثیت سے فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
زاہد مرزا ڈاکٹر اللہ نواز خان کیپٹن (ر) فرید انصاری، ماجد حسین، یاسمین علی آواز، ایف ایم کے شکیل، زاہد فرح ملک، صفدر جعفری، جاوید رشید ملتانی،، جاوید جاوی مسز ستار، بزم کے سیکرٹری منیر چوہدری اور مسز منیر چوہدری کے علاوہ پاک اسکاٹش پریس کلب کے طاہر انعام شیخ اور میجر (ر) ماجد احمد کی شرکت سے یہ تقریب بھرپور رہی۔ اور شاعری کے ساتھ ساتھ مکالمے کی صورت بھی بنی رہی۔
اسکاٹ لینڈ کا دارالحکومت ایڈنبرا برطانیہ کے سب سے خوبصورت اور تاریخی شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر اپنی قدیم عمارتوں، ثقافت، اور تعلیمی اداروں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں اسکاٹش پارلیمنٹ بھی موجود ہے اس شہر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔
سب سے مشہور مقام ایڈنبرگ کیسل ہے، جو ایک بلند چٹان پر بنا ہوا ہے۔ ایڈنبرا دنیا کے سب سے بڑے آرٹس فیسٹیول کی میزبانی بھی کرتا ہے ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔ موسیقی، تھیٹر، اور ادب کی سرگرمیاں پورے سال جاری رہتی ہیں۔ یہاں کی مشہور یونیورسٹی آف ایڈنبرگ ہے جو 1583 میں قائم ہوئی۔ یہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ کئی مشہور ادیب اور سائنسدان بھی یہاں سے وابستہ رہے ہیں۔
ایڈنبرا ایک ایسا شہر ہے جہاں تاریخ، تعلیم، اور جدید زندگی ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔ یہ سیاحت، تعلیم اور ثقافت کے لحاظ سے دنیا کے اہم شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ ایڈنبرگ کیسل اسکاٹ لینڈ کا ایک مشہور تاریخی قلعہ ہے جو ایک اونچی چٹان پر واقع ہے۔ اس کی تاریخ 1000 سال سے زیادہ پرانی ہے۔ یہ کبھی بادشاہوں کی رہائش، خزانہ، جیل اور فوجی اڈہ رہا۔ آج یہ اسکاٹ لینڈ کا سب سے بڑا سیاحتی مقام ہے۔ نیشنل وار میوزیم بھی دیکھنے کی چیز ہے۔ ایڈنبرا اور گلاسگو یونیورسٹی اسکاٹ لینڈ میں تعلیم کے میدان میں خاصی نمایاں ہیں۔
اسکاٹ مانومنٹ ایڈنبرا کی سب سے مشہور یادگاروں میں سے ایک ہے۔ جو عظیم اسکاٹش مصنف سر والٹر اسکاٹ کے اعزاز اور یاد میں بنائی گئی ہے۔ یہ یادگار 1840 کی دہائی میں تعمیر کی گئی اس کی اونچائی تقریباً 200 فٹ (61 میٹر) ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی یادگاروں میں شمار ہوتی ہے جو کسی مصنف کے لیے بنائی گئی ہوں۔
یادگار کے اندر ایک مجسمہ بھی موجود ہے جس میں سر والٹر اسکاٹ کو کتاب کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ سیاح اوپر چڑھ کر ایڈنبرا شہر کے خوبصورت مناظر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ یادگار نہ صرف ایک تاریخی مقام ہے بلکہ اسکاٹ لینڈ کی ادبی وراثت کی ایک اہم علامت بھی ہے۔
ابرٹ برنز پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال رح کی طرح تسلیم کئے جاتے ہیں۔ ڈیم فریز میں برن ہاؤس اور برن میوزیم میں ان کی نادر اشیا موجود ہیں۔ گلاسکو برمنگھم مانچسٹر بریڈ فورڈ اور لندن میں پاکستانیوں کی خاصی تعداد موجود ہے۔ یہ شہر علمی و ادبی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہیں۔ پاکستان میں آ ج کل گرمی کا موسم ہے اور برطانیہ میں آ ج کل بہار آ ئی ہوئی ہے۔ سردی سے مرجھانے والے شجر بھی اب سرسبز ہیں۔ شاہ بلوط کے سرسبز درخت چیری بلاسم ڈیفوڈلز اور ٹیولپ کے رنگ برنگے پھول بھی اپنی جوبن دکھا رہے ہیں۔ برطانیہ کے یہ شب وروز بہت چشم کشا ہیں اور ہم بھی ان کھلی آ نکھوں کے ساتھ ایک جہان حیرت میں گم ہیں۔