ٓزاد صحافت اور مضبوط جمہوریت
- تحریر حامد میر
- جمعرات 14 / مئ / 2026
آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ کسی جیل میں کسی خاتون قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی لیکن شاید آپ نے یہ کبھی نہ سنا ہوگا کہ کسی جیل میں کتوں کے ذریعہ ایک مرد قیدی کے ساتھ بدفعلی کرائی گئی اور پھر اس کی تصاویر بھی بنائی گئیں ۔
یہ خوفناک انکشاف امریکا کے معروف صحافی نکولس کرسٹوف نے نیو یارک ٹائمز میں گیارہ مئی 2026 کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں کیا ۔ اس کالم کا عنوان ہے:
THE SILENCE THAT MEETS THE RAPE OF PALESTINIANS
نکولس کرسٹوف کی اس ایک تحریر نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا اور اپنے مستقبل سے مایوس صحافیوں کو پیغام دیا کہ کسی بھی صحافی کی اصل طاقت سنسنی خیزی نہیں بلکہ اُس کا قلم ، کمپیوٹر اورچھوٹی سی نوٹ بک ہوتی ہے ۔ نکولس کرسٹوف اپنا قلم ، کمپیوٹر اور نوٹ بک لے کر امریکا سے دریائے اُردن کے مغربی کنارے پر واقع فلسطینی بستیوں میں پہنچا اور وہاں اس نے جو سچ تلاش کیا وہ کسی ٹی وی چینل یا سوشل میڈیا کی زینت نہیں بنا ۔ نکولس کے اس سچ کو نیو پارک ٹائمز نے اپنے ادارتی صفحے پر شائع کیا اور یہ کالم اسرائیل پر ایٹم بم بن کر گرا۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے نکولس کرسٹوف کے کالم کی تردید میں ایک لمبا چوڑا بیان جاری کیا ۔ اسرائیلی لابی نے امریکی میڈیا میں اپنے کئی کتے نکولس کرسٹوف پر چھوڑ دیئے ۔ نیو یارک ٹائمز سے مطالبہ کیا گیا کہ اس کالم کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا کر نکولس کرسٹوف کو فارغ کر دیا جائے ۔
آج کل کسی اخبار یا ٹی وی چینل پر دباؤ ڈال کر سچ لکھنے اور بولنے والے صحافی کو نوکری سے نکلوانا کوئی مشکل کام نہیں ۔ یہ کام امریکا میں بھی ہوتا ہے لیکن نیو یارک ٹائمز کیلئے نکولس کرسٹوف کے کالم سے اعلان لاتعلقی کرنا یا اُسے نوکری سے نکلوانا آسان نہ تھا۔ اس کالم نے دنیا بھر کو نیو یارک ٹائمز کے ذریعہ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کی طرف متوجہ کیا ۔ ایک ایسے وقت میں جب یہ تاثر عام ہے کہ پرنٹ میڈیا کا دور ختم ہو چکا اور مستقبل صرف الیکٹرانک یا ڈیجیٹل میڈیا کا ہے تو ایک اخبار کے صرف ایک کالم نے دنیا بھر کے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا۔
جب نکولس کرسٹوف نے مغربی کنارے سے یہ کالم لکھ کر نیوپارک ٹائمز کو بھیجا تو اس کالم میں موجود انکشافات صرف حیران کن نہیں بلکہ لرزہ انگیز بھی تھے ۔ اخبار کو معلوم تھا کہ اس کالم کی اشاعت کے بعد اُس کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے لیکن نیو یارک ٹائمز نے بہت سوچ سمجھ کر یہ کالم شائع کیا جس میں اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں کے بیانات ہی نہیں بلکہ اسرائیل میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی کئی تنظیموں کی رپورٹوں کے حوالے بھی موجود تھے ۔ نکولس کرسٹوف نے اپنے کالم میں بتایا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی عورتوں اور مردوں کے علاوہ بچوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کی جاتی ہے ۔ ڈنڈوں اور گاجروں سے اُن کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے علاوہ انسانوں کے ساتھ بد فعلی کیلئےتربیت یافتہ کتے بھی استعمال کئے جاتے ہیں ۔ کتے کو عبرانی زبان میں حکم دیا جاتا ہے اور وہ اپنا مکروہ عمل شروع کر دیتا ہے اور رک جانے کے حکم پر رک جاتا ہے ۔
غزہ سے گرفتار کئے جانے والے ایک فلسطینی صحافی کے ساتھ اسرائیلی جیل میں کتوں نے جو کچھ بھی کیا، وہ اُس نے نکولس کرسٹوف کو بتا دیا۔ اس فلسطینی صحافی کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نےاسرائیلی فوج کیلئے مخبری کرنے سے انکار کیا۔ ایک فلسطینی خاتون قیدی نے بھی اسرائیل کا مخبر بننے سے انکار کیا تو اُس کو جیل میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اُس کی فلم بنائی گئی۔ اس خاتون کو دھمکی دی گئی کہ اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو اس فلم کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا جائے گا لیکن اس بہادر خاتون نے اپنی عزت بچانے کیلئے ایمان بیچنے سے انکار کر دیا اور ساری تفصیل نیویارک ٹائمز کو بتادی۔ نیو یارک ٹائمز اس ایک کالم کو روک لیتا تو نکولس کرسٹوف کیا کرلیتا ؟ اُسے اس کا ایڈیٹر یہ کہہ سکتا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایک دوسرے کے ذاتی دوست ہیں، اسرائیل اور امریکا نے مل کر ایک سال میں دو دفعہ ایران پر حملہ کیا۔ اسرائیل اور امریکا ایک دوسرے کے فوجی اتحادی ہیں ۔ اسرائیلی فوج کے خلاف اس کالم کی اشاعت کے بعد نیو یارک ٹائمز پر غداری کا الزام لگ سکتا ہے۔
ایڈیٹر یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ اس کے اخبار کو بند کرانے کی کو شش کی جا سکتی ہے، اس لئے تم اس کالم میں سے کچھ سچ نکال دو تاکہ تمہارا ادارہ بند نہ ہو اور تمہارے ساتھی بے روزگار نہ ہوں ۔ نیویارک ٹائمز نے قومی مفاد کے نام پر نکولس کا کالم روکنے کی بجائے، اس سے صرف ٹھوس ثبوت اور حوالہ جات مانگے تاکہ قانونی کارروائی کی صورت میں اخبار اپنا دفاع کر سکے۔ قانونی تقاضے پورے کرکے یہ کالم شائع کر دیا گیا ۔ جب نکولس کرسٹوف کے خلاف اسرائیلی وزارت خارجہ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر اُن کے کچھ اپنے ہی ساتھوں نے کردارکشی کی مہم شروع کر دی تو نیو یارک ٹائمز نے باقاعدہ ایک بیان جاری کرکے نکولس کرسٹوف کی حمایت کا اعلان کیا اور واضح کیا کہ ہم اپنے کالم نگار کے پیچھے کھڑے ہیں۔ نیو پارک ٹائمر کے پاس اتنی جرات کہاں سے آئی؟ ہم امریکا پر کتنی ہی تنقید کریں لیکن یہ تو ماننا پڑے گا کہ امریکا کی عدلیہ آج بھی آزاد ہے۔ نیویارک ٹائمز کو یقین تھا کہ اگر اُس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہوئی تو ٹرمپ انتظامیہ کسی ضمیر فروش جج پر دباؤ ڈال کر نکولس کو غدار اور نیویارک ٹائمز کو بند بھی نہ کروا سکے گی ۔
ٹرمپ جیسے انا پرست شخص کے بس میں ہو تو وہ کل ہی نیویارک ٹائمز کو بند کروا دے کیونکہ آج کل وہ کئی اخبارات اور ٹی وی چینلز سے سخت ناراض ہے لیکن یہ دراصل امریکی جمہوریت کی طاقت ہے کہ وہاں قانون سب کیلئے برابر ہے ۔ ٹرمپ حکومتی پالیسی کے خلاف سچ لکھنے والے کسی اخبار یا صحافی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ یاد رکھیں! اگر نکولس کرسٹوف نے اپنے کالم میں غیر مصدقہ اور سنی سنائی باتیں لکھی ہوتیں تو نیو یارک ٹائمز کبھی ان کے پیچھے کھڑا نہ ہوتا ۔ صحافت کی اصل طاقت سچائی ہے۔ فیک نیوز صحافت کی سب سے بڑی دشمن ہے ۔
مجھے امریکی اور برطانوی اخبارات میں لکھنے کا تجربہ ہے ۔ ان ممالک کے ٹی وی چینلز پر جھوٹ کی بھرمار ہے۔ لیکن بڑے اخبارات میں آج بھی ہر لفظ اور ہر سطر میں کئے گئے دعوے کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔ 20 جنوری 2022 کو میں نے واشنگٹن پوسٹ میں مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف ہونے والی انتقامی کارروائیوں پر ایک کالم لکھا تھا جس پر بھارتی حکومت نے واشنگٹن پوسٹ کو تردید چھاپنے، ورنہ قانونی کارروائی کی دھمکی دی ۔ یہ کالم تمام ثبوتوں کے ساتھ لکھا گیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی قانونی ٹیم سےکلیئرنس لے کر کالم شائع کیا تھا لہٰذا بھارتی حکومت کی تردید نہ چھپ سکی۔ نکولس کرسٹوف نے بھی جو لکھا، اپنے گھر یا دفتر میں بیٹھ کر نہیں بلکہ ہزاروں میل کا سفر طے کرکے مغربی کنارے سےلکھا۔ اُن کے اس ایک کالم میں 38 حوالہ جات موجود ہیں۔ صحافی کی محنت اور پیشہ وارانہ دیانت کو دراصل اُس کے ادارے میں موجود چیک اینڈ بیلنس کا مضبوط سسٹم تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ایسی صحافت کسی بھی جمہوری ریاست کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط بناتی ہے ۔
نکولس کرسٹوف کے ایک کالم سے اسرائیل اور امریکا کے تعلقات پر تو اثر پڑ سکتا ہے لیکن اس ایک کالم نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ پرنٹ میڈیا ابھی زندہ ہے۔ نکولس کرسٹوف سچی صحافت کا ضمیر بن کر سامنے آیا ہے۔ اس کے ایک کالم سے صرف امریکا نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کا میڈیا پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ ٹرمپ نے دنیا میں امریکا کی ساکھ کو مجروح کیا ہے لیکن نیویارک ٹائمز کے ایک کالم نےدنیا کو بتایا ہے کہ اصل امریکا ٹرمپ نہیں بلکہ نکولس کرسٹوف ہے ۔ سچی صحافت صرف ایک ایسی ریاست میں فروغ پا سکتی ہے جہاں عدلیہ اور پارلیمنٹ آزاد ہو ۔ جہاں صحافت کسی کی غلام بن جائے تو سمجھ جائیے کہ وہاں عدلیہ اور پارلیمینٹ بھی کسی کی غلام ہیں ۔
ایسی ریاست میں جمہوریت کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی اور جمہوریت کے دشمن کبھی عوام کے دلوں میں اپنے لئے احترام پیدا نہیں کر سکتے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)