آر ایس ایس: مسلم دشمنی سے پاکستان دوستی کی طرف

بھارت کی ہندو انتہا پسند جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سیکرٹری جنرل دتاتیریا ہوسابالے نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔  پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں اور ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

عالمی حالات کو متاثر کرنے والی متعدد خبروں کے ہجوم میں بھارت سے آنے والی یہ خبر زیادہ توجہ حاصل نہیں کرسکی۔  ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ گئے ہوئے  ہیں  جہاں صدر شی جن پنگ نے انہیں تائیوان کے سوال پر  چینی تحفظات سے آگاہ کیا اور کہا کہ تائیوان  کی آزادی اور امن ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ چینی صدر کی طرف سے امریکہ کو اس سوال پر  تنازعہ سے گریز کا سنجیدہ مشورہ سمجھا جارہا ہے ۔ صدر شی کا کہنا تھا کہ تائیوان کے مسئلے کو درست طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو دونوں ملکوں میں تصادم ہوگا۔ تاہم صدر شی نے اس کے ساتھ ہی  یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ اور چین تصادم کی بجائے تعاون سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک  کوباہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں۔  چین کے صدر نے کہا  کہ تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے۔اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔  چین اورامریکا دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔

اس دورہ کے  عالمی معیشت اور اسٹریٹیجک تعلقات پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنے ہمراہ پندرہ  بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان کو چین لے کر گئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت چین میں سرمایہ کے ذریعے باہمی تعلقات بہتر بنانا چاہتی ہے۔ دونوں  ملکوں کی اس ملاقات میں ایران کا تنازعہ بھی زیر بحث آیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق چین اور امریکہ نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کا حق نہیں ہونا چاہئے۔ تاہم بیجنگ نے اس پہلو کو نمایاں کرنے سے گریز کیا۔ البتہ چین  آمد پر صدر ٹرمپ کا شاندار استقبال  کیا گیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ چینی قیادت اہم عالمی امور پر امریکہ کی اہمیت قبول کرتی ہے اور مل کر کام کرنے کی خواہاں  ہے۔ اسی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایران جنگ کا خاتمہ اور  ایران و امریکہ کے درمیان امن معاہدہ بے حد اہم ہے۔  قیاس کیا جارہا ہے کہ چین ، تہران کو اپنی پوزیشن نرم کرنے اور امریکہ کے ساتھ جنگ بند کرنے کا کوئی معاہدہ کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ اس دوران چین نے پاکستان کو دونوں ملکوں کے درمیان  مصالحت کی کوششیں جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ اسے  چین کی طرف سے یہ اشارہ سمجھا جاسکتا ہے کہ  چین ، ایران جنگ  کا خاتمہ، عالمی امن، مشرق وسطیٰ کے استحکام اور ایران کے مستقبل کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ اس  لحاظ سے بھی ٹرمپ اور شی کی ملاقات اہم ہے۔

اس دوران اگرچہ ایران نے امریکہ کے بارے  میں اپنی پوزیشن نرم نہیں کی اور متحدہ عرب امارات کے بارے میں بھی سخت اور تند و تیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے لیکن ایک  طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی برکس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک ہونے نیو دہلی گئے ہیں  تودوسری طرف  تہران نے  آبنائے ہرمز سے عالمی تجارتی جہازوں کو گزرنے کے  اشارے دئے ہیں۔ خبروں کے مطابق  چین جانے والے درجن بھر  جہازوں کو اس آبی شاہراہ سے نکلنے  میں معاونت بھی کی گئی ہے۔  لگتا ہے کہ یہ جہاز امریکی بحریہ  کے اشتراک سے ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے ہوں گے کیوں کہ ایک طرف ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کیا ہؤا ہے تو دوسری طرف امریکہ نے بھی اس  سمندری گزرگاہ کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ فلسطینی قیدیوں پر مظالم کے بارے میں نیویارک ٹائمز کی سنسنی خیز رپورٹ اور  دوران جنگ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خفیہ دورہ امارات کی خبر اور پھر  یو اے ای کی طرف سے اس کی تردید  بھی عالمی خبروں پر چھائی رہی۔ یہ سب خبریں مشرق وسطیٰ اور عالمی حالات پر اثرا انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے باوجود بھارت  میں انتہاپسند آر ایس ایس کے ایک اہم لیڈر کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ اور پھر انڈین آرمی کے سابق سربراہ  جنرل (ر) منوج نروانے کی طرف سے اس کی پرزور تائد  کم از کم پاکستان کے لیے  اہم اور خوشگوار وقوعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

 بھارت کی حکمران بی جے پی پارٹی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات  میں شدید سرد مہری کا رویہ اختیار کیا  ہؤا ہے۔  بھارتی حکومت نہ صرف   باہمی سفارتی تعلقات کو انتہائی نچلی  سطح تک لے گئی ہے بلکہ پاکستان کے ساتھ کھیلوں اور ثقافت کے شعبے میں تعاون بھی ختم کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ  تو  کھلاڑی ایک دوسرے کے مدمقابل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی فنکار یا ادیب ایک دوسرے ملک کا دورہ کرکے بھائی چارے کی فضا قائم کرسکتے ہیں۔  گزشتہ سال مئی کی جھڑپوں کے بعد  دونوں ملکوں کے تعلقات  میں دوری کے علاوہ اشتعال کی کیفیت پائی جاتی ہے۔  بھارت نے آپریشن سندور جاری رکھنے کا اعلان کرکے پاکستان کے ساتھ جنگی حالت جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہی سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے   تسلسل سے مقبوضہ کشمیر سے پاکستانی دریاؤں میں آنے والے پانی کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ان دونوں پالیسیوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کی کیفیت موجود ہے اور کہیں سے کوئی خوشگوار خبر سنائی نہیں دیتی۔

اس دوران پہلے غزہ کی جنگ اور اس کے بعد  فروری کے آخر میں ایران پر  امریکہ و اسرائیل کے حملوں نے تمام ممالک اور عالمی رہنماؤں کی توجہ حاصل کی ہوئی ہے اور برصغیر کی دو جوہری طاقتوں کے درمیان  معاملات کے بارے میں  کسی کو غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ حالانکہ اس خطے میں لگ بھگ دو ارب لوگ آباد ہیں اور یہاں پر بڑھنے والا کوئی تنازعہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کرسکتا ہے۔ ایسے ماحول میں بھارت کی ایک انتہا پسند تنظیم  آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری کی طرف سے  باہمی  تعلقات میں بہتری اور بات چیت شروع کرنے کا مشورہ  اور ایک سابق آرمی چیف کی طرف سے اس کی  پرزور تائید ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کی حکمران پارٹی کو شاید اپنی غلط پالیسی کا احساس ہورہا ہے اور   ممکن ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں جمی ہوئی برف پگھلنے کے  آثار پیدا ہوجائیں۔

پاکستان نے  ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے تاہم بی جے پی کی حکومت اور نریندر مودی جیسے انتہاپسند وزیر اعظم کے سخت گیر رویہ کی وجہ سے اس خواہش کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔ البتہ  بھارتیہ جنتا پارٹی جس انتہا پسند تنظیم کے زیر اثر بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے مشن پر گامزن ہے ، اسی کا  ایک  اہم لیڈر مذاکرات کا دروازہ کھولنے کی بات کررہا ہے۔ اس  سے ظاہر ہوتا ہے  کہ نئی دہلی میں  یہ احساس اجاگر ہؤا ہے کہ  پاکستان کے بارے میں اختیا رکی گئی پالیسی  درست نہیں ہے۔   تاتریا ہوسبالے اور جنرل منوج نروا نے اب جو  بات کہہ رہے ہیں، پاکستان نے ہمیشہ اس کا پرچار کیا ہے۔ تاہم اب اگر نئی دہلی کی طرف سے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں تو انہیں خوشگوار تبدیلی سمجھنا چاہئے۔  اگرچہ  بھارت سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی باتیں دو غیر سرکاری لوگوں نے کی ہیں  لیکن ان کی سیاسی اہمیت و حیثیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ قیاس کرنا ممکن نہیں ہے کہ مودی حکومت    اپنے ہی ہم خیال حلقوں میں پروان چڑھنے والی اس سوچ سے غافل ہو۔ بلکہ  اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کے ساتھ بگاڑ  کے خاتمے کی پالیسی کا اشارہ دینے کے لیے  نئی دہلی کی حکومت نے  آر ایس ایس اور ایک سابقہ آرمی چیف کو استعمال کیا ہو تاکہ پاکستان کا رد عمل دیکھا جاسکے۔

اس تبدیلی قلب کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ گزشتہ مئی کی جھڑپوں کے بعد بھارت کو اندازہ ہوگیا ہے کہ پاکستان کو عسکری لحاظ سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔ پھر عالمی سطح پر پاکستان کی پزیرائی اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے اسلام آباد کے کردار سے پاکستان کو جو اہمیت حاصل ہوئی ،  بھارت اس کا اثر بھی محسوس کررہا ہے۔ تاہم جو بھی وجہ ہو، عوامل کی بجائے یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہئے کہ نئی دہلی سے مصالحت کا  پیغام بھیجا گیا  ہے جسے اس خطے کے لیے مثبت اور حوصلہ افزا اشارہ سمجھنا چاہئے۔  حالانکہ آر ایس ایس اپنی مسلمان دشمنی اور بھارت میں  مسلمانوں کے خلاف نفرت  انگیز مہم جوئی کے لیے مشہور ہے۔ اگر یہ تنظیم پاکستان کے ساتھ دوستی و تعاون کے دروازے کھولنے کی بات کرتی ہے تو اسے بھارتی سوچ میں اہم تبدیلی سمجھنا چاہئے۔

برصغیر کے ان دو اہم ممالک  نے گزشتہ سات دہائیوں میں کئی جنگیں لڑیں اوور اچھے ہمسایہ  کی طرح   رہنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف تخریب کاری کا رویہ اختیار کیا۔ اب  کوئی بھی شخص یا تنظیم اگر اسے تبدیل کرنے  کی بات کرتی  ہے تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن برصغیر میں  معاشی ترقی اور خوشحالی کی  نوید بن سکتا ہے۔  تاہم اس کے لیے دونوں ملکوں کے لیڈروں کو   ذمہ دار لوگوں کی طرح ایک دوسرے کے احترام پر مبنی تعلقات استوار کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔