پاکستان کا امن مشن ناکام نہیں ہوا، بھارت ہمارے ساتھ اپنے تعلق کا فیصلہ کر لے: عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دشمنوں کے علاوہ سب کے لیے کھلی ہے۔ پاکستان کی مصالحتی کوششیں ابھی ناکام نہیں ہوئیں، امریکہ سنجیدگی دکھائے۔ جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نئی دہلی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جاری مصالحتی کوششیں ابھی ناکام نہیں ہوئیں۔ پاکستان کا مشن تاحال ناکام نہیں ہوا، کچھ طاقتیں سفارتی عمل ناکام کرنا چاہتی ہیں۔ بھارت فیصلہ کر لے کہ اسے ہمارے ساتھ کس طرح کا تعلق رکھنا ہے، روس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات اور سٹریٹجک شراکت داری ہے۔چین کی مدد کا خیرمقدم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ہم مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، متضاد پیغامات کی وجہ سے ہم مذاکرات کو لے کر امریکہ کے حقیقی ارادے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ میں ملوث ممالک کے علاوہ آبنائے ہرمز سب کیلئے کھلی ہے، امید ہے کہ حالات جلد بہتر ہو جائیں گے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور عمان مشترکہ نظام کے تحت آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالیں گے،۔امریکہ کی جانب سے متضاد پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ ہمارے پرامن نیوکلیئر پروگرام ہیں اور پرامن رہیں گے، ہتھیار نہیں بنائیں گے۔ہم امریکی پابندیوں کے نتائج سے واقف ہیں، کئی سال سے ظالمانہ امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دوسری طرف سے سنجیدگی دکھائی جائے تو ہم بھی مذاکرات چاہتے ہیں۔ امریکا 40 روزہ جنگ میں کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا، امریکہ پر اعتماد نہیں کر سکتے، جنگ کا آغاز نہیں کیا اپنا دفاع کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ چاہنے والے امریکہ کو ایک اور جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، جب بھی ہم سے عزت سے بات کی گئی ہم نے مثبت جواب دیا۔ ہرمز کے حوالے سے جے شکر سے بھی بات کی ہے۔ بھارت کے بہت سے ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں، ہم نے بہت سی خونریز جنگوں میں خود کا دفاع کیا۔ بھارت کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ کیسا تعلق رکھنا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکہ سنجیدہ اور منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہوا تو ایران مذاکرات کو آگے بڑھائے گا، ایران اور امریکہ کے درمیان افزودہ یورینیم کے معاملے پر تقریباً ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے۔ ڈیڈ لاک نہیں ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ حساس موضوع کو فی الحال مذاکرات کے بعد کے مراحل تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ فی الوقت افزودہ مواد کا معاملہ نہ زیرِ بحث ہے اور نہ ہی اس پر مذاکرات جاری ہیں۔ امریکہ اور ایران کے لیے قابل قبول معاہدہ ہی حل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے دو ٹوک کہا کہ ابھی بھی سفارتی راستہ موجود ہے، تاہم حالات پیچیدہ ہیں۔ ایران ہر ممکن صورت کے لیے تیار ہے، اگر صورتحال بگڑتی ہے تو ایران لڑائی کے لیے بھی تیار ہے۔ اگر سفارت کاری کا راستہ آگے بڑھتا ہے تو ایران مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔
قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برکس ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس کے دوسرے دن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے متضاد پیغامات مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کا ذمہ دار ایران نہیں۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی دراصل پاکستان کے کہنے پر کی گئی ہے۔ چین کے دورے سے واپسی پر ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم نے واقعی دیگر ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کی۔ میں خود اس کے حق میں نہیں تھا مگر ہم نے یہ پاکستان کے لیے ایک ’فیور‘ کے طور پر کیا۔ انہوں نے پاکستانی قیادت کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ شاندار لوگ ہیں‘۔ ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے ایران کی تجاویزکو دیکھا ہے اور وہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ 20 سال تک جوہری پروگرام کی معطلی اچھی تجویز ہے مگر یورینیم کے افزدوگی سے متعلق لیول کی گارنٹی تسلی بحش نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’میں نے چینی صدر سے)کسی فیور کے لیے نہیں کہا، ہمیں کسی فیور کی ضرورت نہیں ہے‘۔