ٹرمپ کے دورۂ چین سے کیا حاصل ہؤا؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 15 / مئ / 2026
امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چائنا میں اگرچہ دونوں ممالک کے صدور نے ایک دوسرے کی بھرپور تعریف کی، ٹرمپ کو بظاہر ریڈ کارپٹ استقبال بھی ملا لیکن شاید وہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس کی ٹرمپ توقع کر رہے تھے۔
چینی پریزیڈنٹ شی جن پنگ نے سنجیدہ الفاظ میں بظاہر ٹرمپ کیلیے اچھا بولا اور کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ کو باہم حریف کی بجائے پارٹنر بننا چاہیے۔ چینی قوم کا احیا اور امریکا گریٹ اگین سلوگن پوری طرح ایک ساتھ چل سکتے ہیں اور اس سے پوری دنیا کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی وابستہ ہے۔ چائنا دنیا کے لیے مزید دروازے کھولنا چاہتا ہے، امریکی کمپنیوں کو چین میں مزید روشن امکانات میسر آئیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تائیوان کو چائنا کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے دو ٹوک کہا کہ اگر تائیوان کے ایشو کو درست طور پر ہینڈل نہ کیا گیا تو امریکا چائنا تعلقات سنگین کشیدگی کی طرف جا سکتے ہیں۔
صدر شی جن پنگ نے امریکا چائنا دو طرفہ تعلقات اور عالمی سطح پر تعاون کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم دونوں ملک ایک دوسرے کی مخالفت چھوڑ کر تعاون کریں تو اس کا دنیا کی 8 ارب آبادی کو فائدہ پہنچے گا۔ دوسری طرف امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ نے اپنے کاؤنٹر پارٹنر کے ساتھ سوا دو گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد دو ٹوک اسلوب میں کہا کہ چائنا امریکا تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہونے جا رہے ہیں۔ صدر شی کو عظیم رہنما اور دوست قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش پر فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اس حوالے سے امریکا کے ساتھ تعاون پر تیار ہیں۔ انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ جنگ کی صورت میں ایران کو فوجی ساز و سامان فراہم نہیں کریں گے۔ وہ ایران کے نیوکلیئر پاور بننے کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پریزیڈنٹ شی نہ صرف یہ کہ تیل کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرتے ہوئے امریکہ سے تیل خریدیں گے بلکہ وہ ہم سے دو سو بوئنگ طیارے بھی لیں گے۔
ہر دو طاقتور ممالک نے کسی ایک مشترکہ اعلامیے پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے اپنے الگ اعلامیے جاری کیے ہیں جو اپنی اپنی ترجیحات پر مشتمل ہیں۔ اس دورے میں پریزیڈنٹ ٹرمپ نے جتنی بھی گرمجوشی دکھائی ہے پریزیڈنٹ شی جن پنگ کا رویہ روایتی اسلوب میں زیادہ تر سنجیدہ ہی رہا۔ مثال کے طور پر ٹرمپ یہ توقع کر رہے تھے کہ صدر شی ان کے ساتھ معانقہ کریں گے لیکن پریزیڈنٹ شی نے محض مصافحے پر اکتفا کیا۔ ان کی باڈی لینگویج اگرچہ سرد مہری کا شکار نہیں تھی لیکن ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنجیدگی صاف ملاحظہ کی جاسکتی تھی۔ گریٹ ہال پہنچنے پر وہ ٹرمپ کے لیے دو چار قدم آگے بڑھنے کی بجائے اپنی جگہ ایستادہ دکھائی دیے۔
سچائی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو صدر شی نے زیادہ متانت ہی نہیں دکھائی، ٹرمپ کو ایک طرح سے فاصلے پر رکھا۔ وہ ٹرمپ جو دوسروں کی تذلیل کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے، دوسروں کی عزت کا خیال کیے بغیر پروٹوکول کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں، سامنے چاہے کنگ کوئین یا کتنے بڑے اتحادی کھڑے کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے یوکرین کے صدر کی جو تذلیل کی سو کی، کنگ چارلس کا بھی بھرم نہ رکھا، سعودی کراؤن پرنس جیسے قدیمی اتحادی، کیتھولک پوپ لیو، اٹلی کی پرائم منسٹر اور فرانسیسی صدر میکرون جیسے دوست کے لیے بھی غیر سفارتی زبان استعمال کی۔ ایسا کرتے ہوئے انہیں کبھی شرمندگی نہیں ہوئی، مگر یہاں پریزیڈنٹ شی کے سامنے انہیں ایسی کوئی حرکت کرنے کی جسارت نہ ہوئی۔ بلکہ شی نے مصافحہ کرتے ہوۓ ایک ہاتھ پر اکتفا کیا تو ٹرمپ نے خوشامدی اسلوب میں دوسرے ہاتھ کی تھپکی دی۔
ٹرمپ کے متعلق ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے جس طرح پنجابی محاورہ ہے، “گھر میں پتلی، باہر میں سنگنی”، وہ اپنے قریب ترین اتحادیوں کی بدخوئی کرتے ہوئے ان کی تذلیل سے خوشی محسوس کرتے ہیں، لیکن وہی ٹرمپ جب نارتھ کوریا کے بدترین ڈکٹیٹر کو مل رہے تھے تو ان کے سامنے گویا بچھ رہے تھے۔ کچھ اسی نوع کا اسلوب انہوں نے یوکرینی صدر کے بالمقابل رشین پریزیڈنٹ پیوٹن سے ملتے ہوئے اپنانے کی کوشش کی۔ ان کی خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ عظیم الشان امریکی صدور کو بھی اپنے سامنے کچھ نہیں سمجھتے، جیسے کہ پریذیڈنٹ باراک اوباما سے ہر لمحہ حسد محسوس کرتے ہیں اور ان کے خلاف بدزبانی کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے، لیکن امریکا کے حریف طاقتور ممالک کی قیادتوں کے سامنے ان کی ساری اکڑ فوں رخصت ہو جاتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ جوبائیڈن جیسا کمزور امریکی پریزیڈنٹ بھی ٹرمپ کے بالمقابل امریکی وقار کا زیادہ پاس و لحاظ کرتے پایا گیا۔ یہ بائیڈن ہی تھے جنہوں نے واشنگٹن میں صدر شی جن پنگ کی موجودگی کے باوجود انہیں بدترین ڈکٹیٹر قرار دیا۔ جب میڈیا نے توجہ دلائی، پھر بھی انہوں نے کہا کہ ’میں نے کیا غلط کہا ہے؟ چینی پریزیڈنٹ شی ڈکٹیٹر ہیں اور میں دوبارہ یہ الفاظ دہراؤں گا۔” اسے کہتے ہیں جرات، حوصلہ، اعتماد اور وقار۔ ٹرمپ گریٹ امریکا اگین کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن اپنوں کی بے عزتی کرتے ہوئے، یورپی یونین کے پکے سچے امریکی اتحادیوں سے لے کر کینیڈا سے آسٹریلیا تک، افریقا و مڈل ایسٹ سے انڈیا، جاپان و تائیوان تک سبھی امریکی دوستوں کو انہوں نے بتدریج امریکا سے دور کرنے میں کوئی کسر اٹھائے نہیں رکھی۔ جیسے کہتے ہیں کھوکھلا چنا باجے گھنا۔
یہ سب باتیں درویش کے ذہنی کینوس پر اس وقت نمودار ہو رہی تھیں جب وہ ٹرمپ کو صدرشی کے ساتھ کھڑے، چلتے اور بولتے ملاحظہ کر رہا تھا۔ واضح محسوس کیا جا سکتا تھا کہ اپنوں سے بگاڑ کر لوگ کس طرح غیروں کی خوشامد پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ٹرمپ جن امریکی صدور کو میڈیا کے سامنے طعنے دینے سے باز نہیں رہتے، ذرا تائیوان کے ایشو پر ان صدور کی جرات، صاف گوئی اور کھرے پن کے بالمقابل اپنی بےبسی ملاحظہ کریں۔ چائنا میں میڈیا نے تین مرتبہ ان سے سوالات کیے کہ تائیوان پر آپ کی پریزیڈنٹ شی سے کیا بات چیت ہوئی ہے؟ لیکن یہ آوٹ سپوکن شخص اس قابل نہیں تھا کہ اس پر زبان بھی کھول سکتا۔ ان سے کچھ بعید نہیں کہ مڈل ایسٹ کی مجبوریوں کے لیے یہ تائیوان پر سودے بازی ہی نہ کر لیں۔ یہاں تک توکہہ دیا گیا ہے کہ آپ اگر یوکرین میں مداخلت کریں گے تو پھر ہم بھی ایرانی ایشو پر دخل دیں گے۔
غورطلب امر ہے کہ امریکا جیسی عالمی سپر پاور کے سامنے بھلا ایران کی کیا حیثیت تھی؟ مگر ٹرمپ کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کے باعث، ایرانی رجیم کے ساتھ اسٹریٹ آف ہرمز میں، امریکا کی کس قدر سبکی کروائی گئی حتیٰ کہ اپنے خلیجی اتحادیوں پر حملوں کی صورت پیٹھ دکھائی، اپنےپکے سچے دوستوں کی تذلیل کروائی، جن کا دفاع امریکی ذمہ داری تھی اور وہ اس کے لیے وسائل فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح یوکرین میں رشیا کے بالمقابل پورے یورپ کی تذلیل کروا رہے ہیں، یورپ سے لے کر انڈیا اور تائیوان تک کس کس کو ٹیرف کی دھمکیاں نہیں دی ہیں؟ لیکن یہ چائنا ہی تھا جس نے ٹیرف کی دھمکیوں پر بھی آپ کی بولتی بند کر دی، جب اپنی نایاب قیمتی دھاتوں ریئر ارتھ منرلز سمیت امریکا کے لیے ناگزیر برآمدات پر بندشیں عائد کر دیں۔ امریکی پریزیڈنٹ کیلیے اس سے بڑھ کر ندامت اور شرمندگی کیا ہو سکتی ہے کہ وہ ایرانی یورینیم انرچمنٹ رکوانے یا آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چینی مدد کا خواستگار بنا کھڑا ہو۔ اور چینی صدرشی، کمال انداز بے نیازی سے بول رہے ہوں کہ ہاں تمہاری مدد کریں گے، ساتھ ہی تنبیہ کر رہے ہوں خبردار جو ہمیں ڈیموکریسی یا ہیومن رائٹس کا لیکچر دینے کی کوشش کی۔ یا تائیوان سمیت سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کے حقوق کی بات کی۔ تمہارے سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹر کی حیثیت سے ایسی باتیں کی تھیں تو ہم نے اس کا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ اب تمہاری درخواست پر نام بدل کر اس کا نام نکالا ہے۔ اگر تمہیں اپنے کسانوں کے لیے منڈی چاہیے تو ہمیں بھی اپنی محنت کشوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں دسترس دینا ہوگی۔
یہی وجہ ہے کہ تمام تر امریکی کاوشوں کے باوجود امریکا، چائنا تجارتی توازن بدستور چائنا کے حق میں جا رہا ہے جسے شاید ہی توڑا جا سکے۔ تمہاری گریٹ امریکا اگین والی لال ٹوپی سے لے کر روزمرہ استعمال کی عام اشیا تک کون سی چیز ہے جو چینی انڈسٹری کی بدولت سستے داموں میسر نہیں۔ تم اپنی جن کمپنیوں کے مالکان کا لشکر لے کر آئے ہو انہیں ہماری شرائط پر یہاں مال برآمد کرنا ہوگا۔ ایک سو بیس ممالک میں جاری ہمارے ترقیاتی پروگراموں کے آڑے نہیں آنا ہوگا۔
اس تمام تر تنقید کے باوجود ٹرمپ کی یہ ستائش بہرحال بنتی ہے کہ انہوں نے علاقائی تنازعات میں اپنی مناپلی منوانے یا جاری رکھنے کے لیے چائنا سے تعلقات کو اپنی ناک کا ایشو ہرگز نہیں بنایا۔ صاف کہا کہ آپ بھی ابھرتی بڑی عالمی اکانومی ہیں، ہم آپ کے ساتھ دوطرفہ طور پر بنا کر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر عالمی امور و معاملات میں ہمارا باہمی تناؤ یا ٹکراؤ نہ ہو۔ اپنی دیگر الجھنوں اور ترجیحات کے باعث تائیوان کے نازک ایشو کو چھیڑنے سے بھی احتراز کیا۔ ڈیموکریسی و ہیومن رائٹس پر بھی نرمی دکھائی۔ چائنا کی اس وقت جو عالمی حیثیت ہے، اس کا پاس و لحاظ و اعتراف کیا۔ اور یہ واضح کیا کہ جو معاملات ڈپلومیسی سے حل ہو سکتے ہوں، انہیں اسلحہ بندیوں اور خونریز جنگوں کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔