بھارتی بنگال کے انتخابی نتائج، ایک تجزیہ
- تحریر محمد مہدی
- جمعہ 15 / مئ / 2026
یہ شاید آج کچھ لوگوں کے لئے اچنبھے کی بات ہو کہ انڈین آئین کے خالق ڈاکٹر امبیدکر 1946 کی برطانوی ہند کی دستور ساز اسمبلی ( کونسل آف اسٹیٹس ) میں مسلم لیگ کے نمائندے کے طور پر شامل ہوئے تھے۔ کیوں کہ وہ بمبئی میں اپنی نشست کانگرسی امیدوار کے مقابلے میں ہار گئے تھے۔
اور اس وجہ سے ہی جب پاکستان وجود میں آ گیا اور ان کی نشست مشرقی بنگال سے تھی جو پاکستان بن گیا تھا تو ان کو دوبارہ سے کانگریس کی جانب سے منتخب کروانا پڑا تھا ۔مگر آج بنگال کی صورت حال یہ ہے کہ وہاں کی تازہ تازہ کامیاب سیاسی جماعت بی جے پی میں ایک بھی رکن اسمبلی مسلمان نہیں ہے حالاں کہ مغربی بنگال کی آبادی میں سے پچیس فیصد مسلمان ہیں۔
انڈین بنگال یا مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کا ذکر اور اس کے اثرات کا مطالعہ کرنا، اس سبب سے بھی ضروری ہے کہ آج بھی انڈیا میں پیش آئے واقعات کا پاکستان پر، اس کے عوام کی نفسیات پر اثر ضرور پڑتا ہے اور اگر مسلمانوں کی بات ہو تو اس کے اثرات مزید شدید ہو جاتے ہیں۔ دوئم یہ انسانی مسئلہ بھی ہے کیوں کہ انڈیا میں متنازعہ سٹیزن شپ ایکٹ کے وقت سے ہی یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے سب سے زیادہ متاثر بنگال اور آسام ہوں گے۔ اور تازہ ترین انتخابی نتائج کے بعد تو اس کا خوف بنگلہ دیش میں بہت بڑھ گیا ہے کہ لاکھوں افراد کو دھکیلنے کی کوشش کی جا سکتی ہے جو کہ بنگلہ دیش کی سیاست و معاشرت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ اور یہ روہنگیا کے مسئلہ سے بھی بڑا درد سر ثابت ہو گا۔
اصل مسئلہ سمجھنا یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت جس کا پچیس فیصد آبادی سے کوئی امیدوار نہیں، وہ علانیہ مذہبی تعصبات رکھتی ہے، آخر کیسے پہلی بار کامیاب ہو گئی؟ 1947 کے بعد مغربی بنگالی مسلمانوں کے مسائل میں سر فہرست خوف کی سیاست تھی، ہندو اکثریتی ریاست کا خوف، اپنی بقا کے لئے اور حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے کانگریس سے بہتر ان کے پاس کوئی انتخاب نہیں تھا۔ لہذا وہ کانگریسی جھنڈا تھام کر انتخابات میں حصہ لیتے رہے مگر ان کو جلد ہی احساس ہو گیا تھا کہ ان کے پاس اس جھنڈے کا بس ڈنڈا ہی ہے جو کہ ان پر ہی چلتا ہے مگر 1977 تک کوئی دوسرا آپشن نہ ہونے کے سبب سے وہ کانگریسی ہی رہے۔ مگر اس دوران کانگریس نے ان کے مسائل کو حل کرنے یا اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے کوئی عملی اقدام نہ کیا۔ پھر 1977 میں وہ لیفٹ کی سیاست سے وابستہ ہو گئے مگر سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ان کے حصے میں بس نعرہ بازی ہی آئی اور پچیس فیصد رکھنے والے لوگ سرکاری ملازمتوں میں بس تین فیصد سے کچھ زیادہ نمائندگی رکھتے ہیں۔
اس صورت حال نے 2011 میں ترنمول کانگریس کو امیدوں کا مرکز بنا دیا مگر گزشتہ پندرہ سالوں میں ترنمول کانگریس نے بھی سوائے ڈر کی بنیاد پر ووٹ لینے کے اور مسلمانوں کے لئے اور کچھ نہیں کیا۔ لہذا مسلمانوں کے پاس ان سے جڑے رہنے کا جواز ختم ہوتا چلا گیا۔ خیال رہے کہ ایسا نہیں ہے کہ مسلمان بالکل ہی ترنمول کانگریس سے جدا ہو گئے مگر ان کے انتہائی قابل لحاظ حصے نے ضرور وابستگی ترک کر دی۔ مغربی بنگال میں اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والوں میں انڈین نیشنل کانگریس سرفہرست ہے۔ شاید یہ کچھ لوگوں کے لئے حیرت کی بات ہو مگر حقیقت یہ ہی ہے کہ کانگریس کی حکمت عملی یہ ہی تھی کہ وہ کسی طرح سے ترنمول کانگریس کی جگہ بی جے پی کو کامیاب کرا دے تاکہ ترنمول کانگریس کے زوال پذیر ہونے سے کانگریس کو دوبارہ ادھر قدم جمانے کا موقع میسر آ جائے۔ اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے کانگریس نے کم و بیش ہر حلقے میں امیدوار میدان میں اتار دیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں کچھ ناعاقبت اندیش سیاست دانوں نے بھی خالص مذہب کی بنیاد پر انتخابی مہم چلائی جیسا کہ اسد الدین اویسی، ہمایوں کبیر وغیرہ نے اور اس طرح سے وہ مسلمان ووٹوں میں تقسیم کا باعث بنے۔ جبکہ ہندو ووٹرز کو ایک جھنڈے کے تحت بھی کرنے کا بی جے پی کا پروپیگنڈا موثر کروا دیا۔ اس سبب سے ہی ایسے ستائیس حلقوں میں بھی بی جے پی جیت گئی کہ جہاں پر مسلمان ووٹرز کی تعداد تیس فیصد سے زائد تھی۔
مثال کے طور پر بیلدانگا میں مسلم ووٹرز تریسٹھ فیصد ہیں، ماضی میں بی جے پی کو وہاں سے اٹھائیس فیصد ووٹ ملے تھے جو کہ اب بتیس فیصد ہو گئے مگر ماضی میں ترنمول کانگریس کو وہاں سے پچپن فیصد مگر اب چھبیس فیصد ووٹ ملے۔ ہمایوں کبیر کی عام جنتا اننیان پارٹی کو بیس فیصد جبکہ کانگریس ستائیس فیصد ووٹ حاصل کر سکی۔ اسی طرح سے جنگی پور جہاں مسلمان چھپن فیصد ہیں وہاں گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کو بائیس فیصد مگر اب بیالیس فیصد ووٹ ملے ترنمول کانگریس جسے گزشتہ بار اڑسٹھ فیصد ووٹ ملے تھے اس بار سینتیس فیصد پر آ گئی اور کانگریس نے کوئی پندرہ فیصد ووٹ حاصل کیے۔ کاندی میں مسلمان اکیاون فیصد ہیں۔ وہاں پر بی جے پی نے چھتیس فیصد ترنمول کانگریس نے اکتیس فیصد، کانگریس پندرہ فیصد اور اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم نے کوئی ساڑھے گیارہ فیصد ووٹ حاصل کیے۔
باقی حلقوں کی کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہیں۔ خیال رہے کہ ان انتخابات میں ٹرن آؤٹ کوئی بانوے فیصد رہا جو آزادی کے بعد کسی بھی مغربی بنگال کے انتخابات میں سب سے زیادہ ہے۔ وہاں پر بی جے پی کے ووٹرز متحد ہو گئے جبکہ ان کے مخالف بکھر گئے۔ مقابلہ بی جے پی اور تین چار بکھری جماعتوں کے بیچ تھا۔ اس ساری صورت حال میں سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بی جے پی اگلے بھارتی قومی انتخابات سے قبل اپنی اس لہر کو قائم رکھنے کے لئے بنگالی مسلمانوں پر بالخصوص اور بالعموم پورے انڈیا کے مسلمانوں کے حوالے سے تشدد کا منظم سلسلہ شروع کر سکتی ہے، جس کے اثرات سے پورا خطہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)