نوجوان سیاست سے دور کیوں رہیں؟
- تحریر نسیم شاہد
- ہفتہ 16 / مئ / 2026
میں حیران تھا یہ دانشور کیوں ایسی بات کررہے ہیں۔ وہ بار بار نوجوانوں کو یہی کہہ رہے تھے آپ سیاست سے دور رہیں۔ عملی سیاست سے نہیں بلکہ ان کا قبلہ اس طرف تھا کہ سیاسی طور پر ملک میں جو کچھ بھی ہو رہاہے اس سے لاتعلق ہو جائیں۔
ایک ایسامطالبہ وہ کررہے تھے جو نوجوانوں کو اپنے اردگرد کے حالات، ملکی مسائل اور دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے دور رہنے بلکہ بے خبر رہنے سے عبارت تھا۔ وہ نوجوانوں کو، یاد رہے وہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم نوجوان تھے یہ مشورہ دیتے ہوئے ان کے چہروں پر آنے والے حیرانی اور استعجاب کے تاثرات پڑھنے سے بھی قاصر تھے۔
جب میری باری آئی تو میں نے بصد ادب ان سے اختلاف کیا۔ میں نے کہا سیاست ہے کیا پہلے اس کا ادراک ہونا چاہیے۔ہمارے ملک میں چونکہ اس لفظ کو بدنام کر دیاگیا ہے، اس لئے ہمارا قومی ادارہ بھی سیاست سے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہے اور لوگ بھی چائے خانوں اور دیگر عوامی مقامات پر یہ لکھ دیتے ہیں کہ یہاں سیاسی گفتگو سے اجتناب کیا جائے ۔مگر میں سوچتا ہوں مغرب میں جس کا نام پولیٹکس ہے، وہ اتنی بُری شے تو نہیں جس سے نوجوانوں کو دور رہنے کے مشورے دیئے جائیں۔ نوجوانوں کو دینے کے لئے یہ مشورے کیا کافی نہیں کہ وہ منشیات سے دور رہیں، فرقہ واریت کے قریب نہ جائیں، ایک دوسرے سے نفرت نہ کریں، دوسرے کی رائے کو اہمیت دیں، وغیرہ وغیرہ۔
مگر سیاست سے دور وہ کیوں رہیں۔ ہمارے آئین میں لکھا ہے کہ 18سال کی عمر کا نوجوان اپنی سیاسی رائے کا اظہار کر سکتا ہے، اسے ووٹ کا حق دینے کا دستوری نظام بھی موجود ہے۔ وہ اگر سیاست کو سمجھے گا نہیں، دیکھے گانہیں،اس سے کوسوں دور رہے گا تو کیسے اپنی رائے کا اظہارکر سکے گا۔ ہم نے تعلیمی اداروں میں یونین سازی پر اس لئے پابندی لگائی کہ طالب علموں کو سیاست سے دور رکھیں۔ کیا ہم اس میں کامیاب ہوئے۔ کون سا تعلیمی ادارہ ہے جہاں سیاسی جماعتوں کے ونگز موجود نہیں۔ الٹا اس پابندی سے تعلیمی اداروں میں گھٹن اور انتشار بڑھا۔ پنجاب یونیورسٹی میں آئے روز ایک طلبہ تنظیم اور انتظامیہ کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہتی ہے۔ سیاست ایک علم ہے، بُری شے نہیں البتہ سیاست کے نام پر جو گل کھلائے جاتے ہیں وہ ناپسندیدہ ضرور ہیں۔
نوجوانوں کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دینا ایسا ہی ہے جیسے انہیں یہ کہا جائے کہ وہ حالات حاضرہ پر اپنی آنکھیں اور دماغ بند کرلیں۔ میرے پاس ایک کالج کا طالب علم آیا۔اس نے کہا سر مجھے کچھ بتائیں کہ اس وقت ملک کے اندر اور بیرون ملک کیا ہو رہا ہے۔ میں نے پوچھا کیوں تمہیں اس کی ضرورت کیوں پڑ گئی۔ اس نے میری طرف ایک لمحے کے لئے چونک کر دیکھا۔ جیسے کہہ رہا ہو سر یہ بھی کوئی سوال ہے، خیر وہ کہنے لگا، بات یہ ہے کہ سر میں گاؤں واپس جاتا ہوں تو وہاں کے لوگ سمجھتے ہیں میں پڑھا لکھا ہوں ۔اس لئے مجھے حالات کے بارے میں سب خبر ہوگی ۔وہ مجھ سے سوال پوچھتے ہیں،ملک میں کیا ہو رہاہے۔ کیا صدر زرداری جانے والے ہیں؟ عمران خان کا کیا بنے گا؟ کیا ایران امریکہ جنگ دوبارہ نہیں ہوگی؟ میں ان کے بارے میں اپنے اساتذہ سے پوچھتا ہوں تو وہ ڈانٹ دیتے ہیں، تمہارا ان باتوں سے کیا لینا دینا، بس اپنی سٹڈی کرو۔کیا واقعی میرا ان باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں سر۔
مجھے یوں لگا جیسے اس کے اساتذہ اسے اپنے مضمون کے پنجرے میں بند رکھنا چاہتے ہیں۔ اسے اردگرد کے واقعات اور آوازوں سے لاتعلق رہنے کا کہہ رہے ہیں۔ ایسا تو شاید جانور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ صر ف آس پاس ہونے والے شور شرابے سے بے نیاز ہو جائیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اردگرد رونما ہونے والے حالات پر نوجوانوں کو صحیح اور بروقت بریفنگ دی جائے۔ سیاست زندگی کا اہم ترین جزو ہے۔ ریاست کا نظام ہی سیاست کی بنیاد پر چلتا ہے،اسے کروڑوں نوجوانوں سے اوجھل کیسے رکھا جا سکتا ہے۔ عملی سیاست میں حصہ لینے کی بات البتہ ضرور کی جا سکتی ہے۔ سب سے پہلے ان کی توجہ تعلیم پر ہونی چاہیے، اس کی تکمیل پہلی ترجیح ہے۔ تاہم اس دور میں یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مکمل سیاست اور حالات سے لاتعلق بلکہ بے خبر ہو جائیں۔ ان کی سیاسی تربیت ساتھ ساتھ جاری رہنی چاہیے۔ آج کل کے زمانے میں سوشل میڈیا سے جڑی ہوئی نئی نسل سیاست اور سیاسی اتارچڑھاؤ سے کیسے دور رہ سکتی ہے، اسے جاننے کا حق تو بہر طور ہے۔ اپنے حالات سے باخبر نوجوان اس نوجوان سے کہیں بہتر ہوتا ہے جو بے خبری کی نیند سو رہا ہو۔ سیاست کی وہ برائیاں جو ہمارے اندر عرصہ دراز کی غفلتوں کے باعث پیدا ہو چکی ہیں اگر نوجوانوں کو سیاست کی بجائے ان برائیوں سے دور رہنے کی تلقین کی جائے تو کہیں بہتر بات ہوگی۔
ہماری سیاست میں جھوٹ، ملمع کاری، خود غرضی، لالچ اور طمع کی روایات نے جڑ پکڑ لی ہے ۔اگر نوجوانوں کو کوئی اس بارے میں بتائے کہ سیاست اس غلاظت کا نام نہیں بلکہ سیاست وہ ہے جو قائداعظم نے کی اور جس میں قومی مفاد، عوامی تکریم اور معاشرتی اقدار کو اہمیت دی جاتی ہے تو یہ ہمارے اندر ایک سماج سدھار تحریک جیسا عملی ثابت ہو گا۔ہر سیاسی جماعت یہ چاہتی ہے کہ وہ یوتھ کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ اس وقت پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہے۔ پاکستان میں 25سے تیس سال کے نوجوان اب کروڑوں میں ہیں جبکہ 18سال سے 25سال کے نوجوانوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں یوتھ کی فکری تربیت نہیں ہونا چاہیے۔ کیا انہیں یہ کہہ کر اندھیروں میں رکھا جائے کہ تمہیں ابھی سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ کیا اس طرح کے رویے سے انہیں سیاست کو خیرباد کہنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
یہ ناممکن کام ممکن بنانے والے شعبہ باز تو ہو سکتے ہیں۔ فکری یا سیاسی رہنا نہیں ہو سکتے۔آپ بنگلہ دیش میں دیکھیں کیا ہوا؟ نوجوانوں نے تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیا ۔ اگر ان میں سیاسی شعور نہ ہوتا تو کیا وہ ایسا کر سکتے تھے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے وہ اپنے دروازے نوجوانوں پر کھولیں اور انہیں صرف کارکن نہیں بلکہ عہدیدار اور ارکان اسمبلی بھی بتائیں تاکہ ارتقا کا سفر جمود کا شکار نہ ہو اور آگے بڑھے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)